Home » کالم » ریحام کی آمد۔۔۔۔ خطرے کی گھنٹی
uzair-column

ریحام کی آمد۔۔۔۔ خطرے کی گھنٹی

uzair-column
ایک وقت تھا جب وہ دونوں ساتھ چلتے تھے تو قوم اپنی پلکیں بچھاتی تھی ،خوب پذیرائی ہوتی تھی ،مزے مزے کے کھانے اوردعوتیں اڑائی جاتی تھیں ،جس شہر جاتے تھے وہیں پر وارم ویلکم ہوتا تھا ،کیا کیا وعدے وعید کیے تھے ،ایک دوسرے کی خوب اچھائیاں کرتے تھے ،کہا کرتے تھے کہ ایک دوسرے جیسا کوئی نہیں ،مگرکبھی کبھی گفتگو میں ہلکی پھلکی چبھن سی محسوس ہوتی تھی۔پھر یہ ترشی آہستہ آہستہ وقت کیساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی ،عجیب وغریب خبریں آنا شروع ہوگئیں ،کوئی کچھ کہتا تھا ،کوئی کچھ کہتا تھا ،کسی نے پہلے سے دعوے کردئیے ،کوئی جوتشی بن بیٹھا،حالات آہستہ آہستہ رواں دواں تھے کہ پھر ایک دن ایسا آیا کہ جب خبر بجلی بن کر ٹوٹی ،ہم تو کہیں گے کہ بیڑہ غرق ہو اس آئی ٹی کا اس کے ذریعے ایک ایسے پاپولر جوڑے میں علیحدگی کا پیغام بھیجا گیا جو ملک بھر میں ہردلعزیز تھا ۔نہ دنیا گلوبل ویلج ہوتی نہ اتنی جلدی پیغام پہنچتا ،شاید کچھ دیر ہوتی تو بھلا ہو ہی جاتا ۔وہ لندن چلی گئی وہ پاکستان میں ہی رہا ۔اس کے کیا ثمرات اورنقصانات ہوئے اس پر تو بہت سے تجزیہ نگاروں نے سیر حاصل تجزئیے کیے ،نقصانات سامنے بھی آتے رہے ،مگر دونوں پارٹیاں مضبوط اعصاب کی مالک نکلیں ،ایک نے اپنی سیاسی مہم جاری رکھی تو دوسری نے لندن نے ا پنی گفتگو جاری رکھی،طویل ترین انٹرویو دئیے ،ٹویٹر پر شعروشاعری شروع کردی ،نام نہ لیا مگر ہدف ایک ہی تھا جس کو ہر ذی شعور جانتا تھا ۔ایک فریق تعریف کرتا رہا ،پھر وہ وقت بھی آیا جب دونوں فریقین ایک شہر میں تھے ،ایک ہی ہوٹل میں بھی تھے کہ دوسرے فریق نے پہلے کی موجودگی کی وجہ سے اپنی ہوٹل سے بکنگ منسوخ کرالی کہ کہیں مڈبھیڑ نہ ہوجائے ۔ائیرپورٹ پر اترتے ہوئے بڑا سخت انٹرویو دیا جس کے مطابق ریحام خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف تنقید کرنے والے 4لوگ ہیں،ایجنٹ ہونے کا ثبوت ہے تو سامنے لائیں،مجھے دھمکیاں دینے والے جان لیں کہ میں ڈرنے والی نہیں ،پٹھان ہوں ، عزت کی خاطر جان دینا بھی آتاہے اور لڑنابھی جانتی ہوں ،کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ خاتون ہے خاموش ہو جائے گی،ایک دو لوگوں سے نمٹ لوں گی، کسی نے گالم گلوچ کی تو خاموش نہیں رہوں گی، کچھ لوگوں نے اپنی اوقات دکھائی، اپنے بارے میں نازیبا باتیں سن کر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا، سیاست میں آنے سے پہلے گندگی صاف کرنا ضروری ہے ۔اگرچہ واپس آنے پر بہت گھبراہٹ تھی لیکن پاکستان آکرسب سے زیادہ خوشی ہوئی۔ خوشی ہے کہ پاکستانیوں میں محبت اور شفقت کی کمی نہیں آئی۔مجھ پر تنقید کرنے والے چار لوگ ہیں اور میں ان چار افراد کا ذکر نہیں کرنا چاہتی تاکہ ملک کی بدنامی نہ ہو۔ کسی کے پاس میرے پیسے لینے ،فلیٹ حاصل کرنے اور ایجنٹ ہونے کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے،غلط باتیں کرنے والوں نے اپنی اوقات دکھائی ہے۔میرا دل کوئی نہیں دکھا سکتا،میں اپنے ذاتی کام سے لاہور آئی ہوں۔ سیاست سے پہلے گندگی کی صفائی ضروری ہے ۔ریحام خان کی گفتگو کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اس وقت قطعی طور پر جارحانہ موڈ میں ہیں اور ان کا سیاست میں آنے کا بھی کچھ کچھ ارادہ دکھائی دے رہا ہے جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ عمران خان کا انٹرویو کریں گی تو انہوں نے کہا کہ تو کیا کافی انٹرویو نہیں ہوگیا ہے ۔پھر وہ مسکرا دیں۔بہرحال میڈیا کو جوائن کرینگی اور پھر وہ اہم خبروں کے بارے میں بھی وقتاً فوقتاً انکشافات کرتی رہیں گی ۔جس سے ان کی شہرت کو مزید چار چاند لگیں گے ۔اسی دوران بہت زیادہ امکانات ہیں کہ وہ سیاست کی دنیا میں بھی قدم رکھیں گی ۔کیونکہ حکومت کواڑھائی مکمل ہونے جارہے ہیں اور باقی عرصہ بھی پی ٹی آئی حکمرانوں کو کوئی خاص سکون نہیں لینے دے گی ،ابھی آئے دن انہوں نے مختلف ایشوز پر وائٹ پیپر جاری کرنا شروع کردئیے ہیں ۔اسلام آباد کے ہونیوالے بلدیاتی انتخابات پر بھی انہیں عدم تحفظات ہیں لہذا ایسے میں کوئی بھی ایک بڑی سیاسی جماعت ریحام کیلئے اپنے دروازے کھول کر اسے انہیں شمولیت کی دعوت دیگی اورپھر وہ وقت بھی آئے گی کہ ریحام خان شاید پی ٹی آئی کیخلاف تقاریر بھی کریں ۔بہرحال سیاست اورجمہوریت میں سب کو آزادی حاصل ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں کیونکہ ریحام خان نے کہا ہے کہ وہ سیاست میں آنے سے قبل گند صاف کرنا چاہتی ہیں ۔اب وہ گند کس نوعیت اور کس قسم کا ہے اس کے بارے میں تو ریحام خان ہی وضاحت کرسکتی ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ریحام پاکستان تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینگی اوراس ٹف ٹائم کے ذریعے پی ٹی آئی کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے بہتر تو یہ ہے کہ فریقین آپس میں بیٹھ کر سیاسی فائربندی کے حوالے سے کوئی معاہدہ کرلیں تاکہ ایک دوسرے پر کیچڑ نہ اچھالی جائے اورذاتیات سے ہٹ کر سیاست کی جائے ۔ابھی تک کپتان کی جانب سے کوئی ایسا جارحانہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم ان کیلئے خطرے کی گھنٹی ضرور بج گئی ہے ۔جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative