زرعی یونیورسٹی پردہشت گردوں کابزدلانہ حملہ

10

پشاور زرعی ڈائریکٹوریٹ پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے نتیجے میں طلباء سمیت نو افراد شہید اور پینتیس زخمی ہوگئے جبکہ آرمی اور پولیس کی بروقت کارروائی میں تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیاگیا۔ بارہ ربیع الاول کے مبارک دن پرانسانیت کے دشمنوں نے یونیورسٹی میں داخل ہوکرہوسٹل میں موجودہ متلاشی علم کو نشانہ بنایا اور درندگی کاکھیل کھیلا جس نے پشاور کی فضا کو ابرآلود کرکے سوگوار بنادیا جس سے ہرطرف خوف وہراس اوراضطراب پھیل گیا ہرآنکھ اشکبار ہردل رنجیدہ دکھائی دیا دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ دہشت گرد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرکے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اپنے مقاصد میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے کیونکہ پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی فورسز ان کی ہرکارروائی کو ناکام بنانے اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کاکوئی مذہب نہیں دیتا اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اوراقلیتوں کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو بھیڑیوں اوردرندوں کی طرح معصوم شہریوں کو چیرپھاڑ رہے ہیں۔ حالیہ واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے دہشت گردی کی یہ آگ بھارت نے لگائی ہوئی ہے جو اپنی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا کروطن عزیز کو کمزور کرناچاہتا ہے پاکستان بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں پر ایک تواتر کے ساتھ سراپااحتجاج ہے اور عالمی برادری کی توجہ بھی اس طرح مبذول کرواتا چلا آرہا ہے لیکن بے حسی اورطوطاچشمی کایہ عالم ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔بھارت ایک طرف کشمیریوں پرظلم وبربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی پامالی بھی اس نے اپنامعمول بنارکھا ہے پاکستان بھارتی دہشتگردانہ کارروائیوں پرانتہائی صبروتحمل کامظاہرہ کررہا ہے لیکن اس کامطلب یہ نہ گردانا جائے کہ پاکستان بھارت سے مرعوب ہے پاکستان کو دراصل خطے کاامن عزیز ہے اور پرامن مسائل کاحل اس کامشن ہے لیکن بزدل دشمن مختلف حربوں اورسازشوں کے ذریعے پاکستان کی امن کاوشوں پرپانی پھیر رہا ہے جس سے خطے کاامن ایک سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے دہشتگردی کیخلاف پاکستان کا کردار دنیا کیلئے قابل تقلید ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کوکافی جانی ومالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونالمحہ فکریہ ہے افغانستان میں اس وقت دہشت گردوں کی کئی آماجگاہیں اورپناہ گاہیں موجود ہیں جوخطے کے امن کیلئے شدید خطرات کاباعث بنتی جارہی ہیں افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف اقدامات کوموثر بنائے۔ پاکستان نے دہشت گردوں سے کئی علاقے واگزار کروالئے ہیں ان کے ٹھکانے تباہ وبرباد کردیئے ہیں آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی تھی تاہم آپریشن ردالفساد بھی اپنے اہداف کی طرف جاری ہے ۔نیشنل ایکشن پلان پراس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیاجاتا تو بچے کھچے دہشتگرد کب کے ختم ہوچکے ہوتے اب بھی وقت ہے نیشنل ایکشن پلان پرکماحقہ عمل کو یقینی بنایاجائے۔ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک ملک میں نہ امن قائم ہوسکتا ہے نہ عدم تحفظ کی فضا ختم ہوسکتی ہے۔حکومت پاکستان میں موجود افغان باشندوں کے انخلاء پرتوجہ دے تاکہ امن قائم ہوسکے پاکستان نے مہمان نوازی کا حق ادا کردیا ہے اب افغان حکومت اپناحق ادا کرے اور اپنی سرزمین دہشت گردی کیخلاف استعمال نہ ہونے دے ورنہ خطے کاامن تباہ وبرباد ہوکر رہ جائے گا عالمی برادری کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔
مذاکرات کامیاب ۔۔۔لاہوردھرناختم
دھرناقیادت اور حکومت پنجاب کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیزثابت ہوئے جس کے باعث پنجاب اسمبلی کے سامنے جاری سات روزہ دھرنا ختم ہوگیا ۔تحریک لبیک کے سربراہ مولانا اشرف جلالی اس دھرنے کی قیادت کررہے تھے آخر کار دوطرفہ مذاکرات شروع ہوئے اس مسئلے کاحل نکال لیا گیا مذاکرات کے جونکات سامنے آئے ہیں ان میں راجہ ظفرالحق کی رپورٹ کامنظرعام پر لانا اوردیگرنکات پراتفاق طے پایا ہے جبکہ راناثناء اللہ کااستعفیٰ پیرحمیدالدین سیالوی کے فیصلے پرچھوڑ دیاگیا۔ ہرمسئلہ کاکوئی نہ کوئی حل ہوا کرتا ہے لاہور دھرنے کاحل جس خوش اسلوبی سے نکالا گیا قابل ستائش ہے۔ دھرنے کی وجہ سے عوام الناس کے معمولات زندگی متاثر ہورہے تھے ۔ حکومت شروع میں اگر معاملہ فہمی کامظاہرہ کرتی تو حالات سنگینی کی طرف نہ جاتے اورملک میں بحرانی کیفیت پیدا نہ ہوتی آخر کارفیض آباد دھرنا آرمی چیف کے دانشمندانہ حکمت عملی سے ختم ہوا اور لاہور دھرنا پنجاب حکومت کی بہترین حکمت عملی کانتیجہ ہے ۔ختم نبوتؐ معاملہ چھیڑ کر حکومت نے اپنے لئے مسائل پیدا کئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہی اس کامستقل حل قرار پائے گا سیاسی قیادت مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کرے توحل ممکن ہے لیکن ہٹ دھرمی اورناقص حکمت عملی مسائل پیدا کرنے کاذریعہ قرار پاتی ہے ۔لاہور دھرنے کاخاتمہ نیک شگون ہے فریقین کے درمیان جو طے پایاہے ان نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنایاجائے تاکہ پھر حالات خراب نہ ہوں اس مسئلے کامستقل ادراک وقت کاتقاضا ہے ۔فیض آباد دھرنا میں طے پانیوالا معاہدہ اورلاہور طے پائے گئے نکات پر فوری عمل کیاجائے کیونکہ ہمارا ملک اس طرح کے مسائل کامتحمل نہیں ہوسکتا پہلے ہی اسے کئی چیلنجز کاسامنا ہے۔ہمارے پارلیمنٹیرین نے ماضی سے سبق نہیں سکھا ورنہ اس طرح کے حساس معاملے کو نہ چھیڑتے اوراس طرح کی رسوائی نہ اٹھانا پڑتی مذہبی معاملہ حساس نوعیت کاہوتا ہے سوچ وفکر کے ساتھ اس کاحل ہی دانشمندی کے زمرے میں آتا ہے۔
عیدمیلادالنبیؐ پرفعال سیکیورٹی انتظامات
ملک بھرمیں جشن عیدمیلادالنبی ؐ مذہبی جوش وجذبے اورعقیدت واحترام سے منایاگیا۔ربیع الاول کے سلسلے میں شہروں،قصبوں میں میلاد کے جلوس نکالے گئے گلیوں کوچوں اورشہروں کو برنگ برنگی جھنڈیوں سے آراستہ وپیراستہ کیاگیا مساجد اورگھروں کو برقی قمقمو ں سے سجایاگیا۔میلادپارٹیو ں نے نذرانہ عقیدت بحضورﷺ پیش کیا علمائے کرا م نے سیرت النبیﷺ پرروشنی ڈالی۔درودوسلام کی محفلیں منعقدہوئیں علمائے کرام نے پاکستان کی سلامتی اوراستحکام کیلئے خصوصی دعائیں گی۔اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔جشن عیدمیلادالنبیﷺ پرنظم وضبط بھی مثالی قرارپایا۔ربیع الاول کامہینہ اس لحا ظ سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں آقادوجہاں حضرت محمدؐ کی ولادت باسعادت ہوئی مسلمان اس دن کوخوشی سے مناتے ہیں خوشی کے اس موقع پرحکومت کے سیکیورٹی انتظامات فعال قرارپائے جولائق تحسین ہیں۔سیرت نبویؐ پر عمل کرکے مسلمان مسائل کے گرداب س