Home » کالم » زہریلا پودا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
khalid-khan

زہریلا پودا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

khalid-khan

دنےا میں ہرقسم کے پودے پائے جاتے ہیں ،جن میں کچھ پھولدار ہیں اور بعض پھل دار ہیں لیکن بعض پودے نہ پھلدار اور نہ ہی پھولدار ہیں ےعنی جمنوسپرم ہیں ۔ پھولدار پودوں کے پھولوں کی مہک سے فضا معطر ہوتی ہے جبکہ پھلدار پودوں کے پھلوں سے منہ میٹھے ہوتے ہیں ۔ بعض پودے اےسے بھی ہیں جو ان دونوں خوبےوں سے مبرا ہوتے ہیں ۔ اس کرہ ارض پر بعض پودے زہرےلے ہیں اور ان میں بعض اتنے زہرےلے ہیں کہ ان کے براہ راست استعمال کرنے سے انسان جان بحق بھی ہوسکتا ہے ۔ اےسے پودوں کے زےادہ قرےب نہیں جانا چاہیے کیونکہ زےادہ قرےب جانے سے کوئی بھی نقصان ہوسکتا ہے ۔ ان زہرےلے پودوں کا ذکر کبھی کھبارعالمِ سےاست میں ہوتا ہے ۔ شمالی کورےا کے وزےرخارجہ راےا نگ نے امرےکی وزےرخارجہ مائےک پوم پیو کے بارے میں بڑا زبردست تجزےہ کیا ۔ انھوں نے امرےکی ہم منصب مائےک پوم پیو کو امرےکی سفارت کاری کا زہر یلا پودا قرار دے دےا ۔ انھوں نے کہا ہے کہ مائےک پوم پیوامرےکہ کی سفارت کاری میں بدترےن زہر ہے ۔ وہ جوہری تخفےف سے متعلق مذاکرات کو پیچےدہ کررہے ہیں ۔ مائےک پوم پیو کی موجودہ امرےکی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں ذاتی سےاسی عزائم میں زےادہ دلچسپی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پیانگ ےانگ واشنگٹن کے ساتھ جنگ اور مذاکرات دونوں کےلئے تےار ہیں ۔ شمالی کورےا کوشش کرے گا کہ وہ امرےکہ کےلئے سب سے بڑے خطرے کے طور پر موجود رہے ۔ ;34;امرےکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے بہت دلچسپ اورعجیب رہی ہے ۔ امرےکہ اس خارجہ پالیسی کی وجہ سے کافی بدنام اور ناقابل اعتماد رہا ہے ۔ اسرائےل اور دےگر چند ممالک کے علاوہ امرےکہ کسی کا بھی قابل بھروسہ دوست نہیں ہے ۔ پاکستان اور امرےکہ تعلقات دےکھےں تو اس میں پاکستان نے ہمیشہ امرےکہ کا ساتھ دےا اور ہر صدا پر لبےک کہا لیکن اس کے برعکس امرےکہ نے ہمیشہ چھڑی اور گاجر کی پالیسی اپنائی رکھی ۔ امرےکہ کا بحری بےڑا 1971ء سے ابھی تک نہیں پہنچا ۔ وزےراعظم عمران خان نے حال ہی میں امرےکہ کا دورہ کیا اور وہاں پر امرےکی صدر ٹرمپ نے زبانی جمع طرےق کے طور پرمسئلہ کشمےر کے اثالثی کا اندےہ دےا لیکن چند دنوں بعد بھارتی وزےراعظم مودی نے کشمےرکی مخصوص حےثےت کو ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے اور کشمےر میں بربرےت کو مزےد تےز کردیا ۔ بعض لوگوں کا ےہ خیال ہے کہ وزےراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امرےکہ کے دوران امرےکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمےر کی اثالثی کا بےان دراصل بھارت کو مخصوص الفاظ میں اعشارہ تھا ،اس لئے بھارتی وزےراعظم مودی نے کشمےر میں ظلم وستم کے بازار کو مزےد گرم کیا ۔ اےک طرف کشمےرےوں پر ظلم کے پہاڑتوڑ رہا ہے تو دوسری طرف متحدہ عرب امارت مودی کو اعلیٰ اےوارڈ دے رہا ۔ اس سے دنےا کو کیا پیغام ملے گا ;238; کیا مسلمان ممالک دوست اور دشمن کی پہچان نہیں کرسکتے ہیں ;238; مسئلہ کشمےر اور مسئلہ فلسطےن صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ ےہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے ۔ مسلمان ممالک اب بھی متحد نہیں ہورہے ہیں تو کب متحد ہونگے;238;مسلم ممالک کے حکمرانوں کو کب ہوش آئے گا;238;پاکستان مسئلہ فلسطےن کو امت مسلمہ کا مسئلہ سمجھ کر ہر محاذ پر فلسطےنوں کے حقوق کےلئے کھڑا ہے اور اسرائےل کے ساتھ ہرقسم کے تعلقات منقطع ہیں ۔ عرب ممالک مسئلہ کشمےر کےلئے عملی اقدامات کب اٹھائےں گے;238; بھارت کےساتھ کب سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرےں گے;238;متحدہ عرب امارت کو مودی سے اعلیٰ اےوارڈ واپس لینا چاہیے ۔ تمام مسلم ممالک کو بھارت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے چاہئےں ۔ پاکستان کو چےن اور روس کے ساتھ استوار تعلقات رکھنے چاہئےں ۔ وزےر اعظم پاکستان عمران خان کو چاہیے کہ وہ روس کا دورہ کرےں ۔ پاکستان کےلئے سب بہترےن دوست چےن اور روس ثابت ہوسکتے ہیں ۔ چےن نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دےا ہے جبکہ روس بھی پاکستان کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے ۔ اس سلسلے میں وزےر خارجہ شاہ محمود قرےشی کو سخت محنت کرنی چاہیے اور اےسا ماحول پیدا کرےں جس سے روس کا پاکستان پر اعتماد پیدا ہو ۔ ہ میں امرےکہ کے ساتھ تعلقات کشےد ہ نہیں رکھنے چاہیےں لیکن سب دوستوں کو چھوڑ کر امرےکہ کی جھولی میں بےٹھنا دانشمندی نہیں ہے ۔ پاکستان اےران کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے ۔ افغانستان کےساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہیےں لیکن افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ بھارت پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتا تو افغانستان کا مخلص دوست کےسے ہوسکتا ہے;238;افغانستان کو بھارت پر قطعی اعتماد نہیں کرنا چاہیے ۔ بھارت افغانستان کی سرزمین صرف شرکے لئے استعمال کررہا ہے ۔ مودی عالمی دہشت گرد اور زہرےلا پودا ہے ۔ افغانستان اوردےگر اسلامی ممالک کو اس سے بعےد رہنا چاہیے اور اسی میں ان کا فائدہ ہے ۔ قارئےن کرام!اسلام امن اور محبت کا درس دےتا ہے لیکن مسلمانوں پر ستم کسی صورت ناقابل برداشت ہے بلکہ دنےا میں کسی پر بھی ظلم نہیں ہونا چاہیے ۔ دشمنوں کو معلوم ہوناچاہیے کہ ہم امن پسند ہیں لیکن جارجےت کا منہ توڑ جواب بھی جانتے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative