Home » کالم » سابق حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ، بے نامی جائیدادیں ، احتساب جاری
adaria

سابق حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ، بے نامی جائیدادیں ، احتساب جاری

ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قومی خزانے کو ہر آنے والے حکمران نے اپنا ذاتی خزانہ سمجھا اور وہاں سے مال نکال کر خوب گلچھرے اڑائے اس میں چاہے علاج معالجے کیلئے رقم درکار ہو ، بیرون ممالک کے دوروں کیلئے رقم درکار ہو، خریدوفروخت کیلئے رقم درکار ہو یا دیگر ذاتی اخراجات کیلئے رقم درکار ہو، سرکاری خزانے کے دروازے ان کیلئے ہمیشہ ’’وا ‘‘رہے ۔ یوں عوام کے خون پسینے کی کمائی سابقہ حکمران اللے تللوں میں اڑاتے رہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستی رہی ۔ اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ گزشتہ دس سالوں کے دوران جن حکمرانوں نے قومی خزانے کو اپنا ذاتی خزانہ سمجھ کر اڑایا ان سے اس کاحساب کتاب لیا جائے گا ۔ ملک کی کمزور ترین معیشت قرضوں میں ڈوبی رہی اور یہ ظالم حکمران عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈالتے رہے اپنی طرز زندگی شاہانہ گزاری، عوام کسمپرسی کی زندگی گزارتی رہی ۔ جس کے ہاتھ جتنا چڑھا اسی نے اس کو اپنے لئے حلال اور جائز سمجھا اب چونکہ حکومت پاکستان کو فری کرپشن کرنے کی خواہاں ہے اسی وجہ سے وہ تمام حساب کتاب لے رہی ہے ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کابینہ نے گزشتہ 10 سال کے دوران سابق صدور آصف زرداری، ممنون حسین، سابق وزراء اعظم نواز شریف ،یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کی سکیورٹی، انٹرٹینمنٹ اور کیمپ آفسز پر عوام کے پیسے کو بےدردی سے خرچ کرنے کی روش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ان سابقہ حکمرانوں سے ذاتی اخراجات وصول کئے جائیں گے وفاقی کابینہ نے ریکوڈک معاملہ پر عالمی عدالت کے فیصلہ کے جائزہ اور ذمہ داران کے تعین کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی کے قیام، 14 اگست سے پلاسٹک بیگز پر پابندی کے قانون، اسلام آباد ہیلتھ کیئر فیسیلیٹیز مینجمنٹ ایکٹ، خوردنی تیل پر عائد ٹیکس سات فیصد کو کم کرکے 2 فیصد کرنے، ای کامرس پالیسی فریم ورک، سکوک بانڈ اور یورو بانڈ کے اجراکیلئے لیگل ایڈوائزر کی تعیناتی، توصیف ایچ فاروق کو چیئرمین نیپرا محمد شہباز جمیل کو صدر زرعی ترقیاتی بینک اورڈاکٹر ناصر خان کو نیوٹیک کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقررکرنے کی منظوری دےدی وزیراعظم عمران خان نے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزرا اعلی اور چیف سیکرٹریز سے مہنگائی پر وضاحت طلب کرلی ہے، وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت تاجروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں سے ان کے مسائل اور مشکلات بارے بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن رجسٹریشن کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ کابینہ کو برطانوی اخبار میں شاءع ہونے والی رپورٹ کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ۔ کابینہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ بعض عناصر کی جانب سے ضروری اعداد و شمار کی تفصیلات فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف آئندہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ ادھر معاون خصوصی وزیراعظم شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ حسن نواز، حسین نواز، سلیمان شہباز اور علی عمران اشتہاری ملزم ہیں ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی وہ وزیر بحری امور علی زیدی اور حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے ۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے بے نامی جائیدادیں سیل کرنے کی سفارش کی تھی اور اب تک کارروائی کے دوران 32 کمپنیوں کے اثاثے سیل کردئیے گئے ہیں ۔ ان کمپنیوں میں شوگر ملز اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ، اومنی گروپ کیس میں بہت سی جائیدادوں کو منجمد کیا گیا ۔ ٹھٹھہ سیمنٹ سمیت مختلف کمپنیوں کے بے نامی شیئرز بھی فریز کردئیے گئے ۔ زرداری کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے جن میں شوگرملز، اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ۔ 60دن میں جائیدادوں کی ملکیت کے ثبوت پیش نہ ہوئے تو ضبط کرلی جائیں گی اور ان بے نامی جائیدادوں کوفروخت کردیا جائے گا ان سے حاصل ہونے والا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے گا ۔ ہم نے اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں پکڑی ہیں ، پاکستان میں ایک بے نامی بینک بنایا گیا ، عارف بینک اور اٹلس بینک کوضم کرکے سمٹ بینک بنایا گیا، سمٹ بینک کے شیئرز کو بھی سیل کردیا گیا ہے اب اگلی باری حدیبیہ کی ہے وہ بھی بے نامی ہے ۔ حکومت کے یہ اقدام بہترین ہیں صرف ان کو یہاں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے ہر جانب اور بلا تفریق تحقیقات ہونی چاہیے جس کی بھی بے نامی جائیداد ہو 60 دن کے اندر اندر ضبط کرکے نیلام کردی جائیں ۔

شرح سود میں ایک فیصد اضافہ،مہنگائی کی نوید

اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے ساتھ ہی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہہ دیا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوگا صرف مہنگائی میں ہی نہیں اس سے معیشت اور صنعتیں بھی تباہ حال ہوں گی کیونکہ اس خطے میں سب سے زیادہ شرح سود ہمارے ملک میں ہے جس سے معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ کردیا جس کے باعث قرضوں پر چلنے والی صنعتوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوجائے گا، اس بات کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس میں کیا، ان کا کہناہے کہ مہنگائی اندازے سے زیادہ ہے، اگلے سال نیچے آئے گی، شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا جو 13;46;25فیصد ہوگئی، پالیسی ریٹ 100بی پی ایس بڑھ گیا،رواں مالی سال مہنگائی میں 12فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے،آئندہ 2، 3ماہ میں گیس، بجلی اور دیگر کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا امکان ہے،مالی سال 19 میں مہنگائی بڑھ کر 7;46;3 فیصد ہوگئی ۔ دوسری طرف حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا عزم کیا ہے جس سے مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری آئے گی ۔ دوم، آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پہلی قسط کی موصولی، تیل کی سعودی سہولت کے بروئے کار آنے اور کثیر طرفہ و دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے امداد کے دیگر وعدوں کے نتیجے میں بیرونی مالکاری کا منظر نامہ مزید مضبوط ہوا ہے ۔ جاری کھاتے کا خسارہ مسلسل گھٹ رہاہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دباءو میں کمی آتی جارہی ہے ۔

ملک کو معاشی مسائل درپیش

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’ ’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت معاشی مسائل بھی درپیش ہیں ،حالات کی بہتری میں موجودہ حکومت کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، یہاں تو نہ سزا ہے اور نہ جزا ہے اس ملک کے اندراندھیر نگری ہے، غریب آدمی تو مر رہا ہے ،عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے، شرح سود میں اضافہ سے کاروبارپر اثرپڑے گا،اس وقت معاشی مسائل درپیش ہیں ،کسی کی بھی ویڈیو ریکارڈ کرنا زیادتی ہے،اگر شہباز شریف سچے ہیں تو انہیں قانونی چارہ جوئی کرنی چائیے، تاجر تو ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ،تاجر کرپٹ نہیں ادارے کرپٹ کرتے ہیں ،ہم کہتے ہیں مدینہ کی ریاست ہوگی ،مدینہ کی ریاست میں سود کانظام تو نہیں ہوتا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative