دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی حکمرانی کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہاں ریاستی نظم و نسق کو ذاتی جاہ و جلال کا ذریعہ نہیں بنایا جاتا بلکہ عوامی امانت سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی وسائل کے استعمال میں احتیاط، شفافیت اور کفایت شعاری کو بنیادی اصول کا درجہ حاصل ہے ۔ ترقی یافتہ دنیا میں سادگی محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک انتظامی فلسفہ ہے۔ وزرا، صدور، وزرائے اعظم اور اعلی سرکاری افسران کیلئے واضح ضابطے ہوتے ہیں۔ وہ غیر ضروری پروٹوکول، شاہانہ دفاتر، فضول دورے اور نمائشی اخراجات کو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے جیسے مقروض ملک میں اکثر حکمرانی کا تصور ہی الٹ دکھائی دیتا ہے، جہاں اختیار آتے ہی طرزِ زندگی بدل جاتا ہے اور سرکاری خرچ کو حق سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس رویے کی اصلاح وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود وہاں حکومتی اخراجات کے لیے سخت نگرانی کا نظام موجود ہے۔ سرکاری اداروں کے بجٹ کی تفصیل عوام کے سامنے ہوتی ہے۔ امریکی سیاستدان سادہ طرز زندگی اختیار کیے دکھائی دیتے ہیں تاکہ عوامی اعتماد برقرار رہے۔ برطانیہ میں پارلیمانی جمہوریت کے تحت حکمران طبقے کے اخراجات کی سخت جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے اخراجات کا ریکارڈ شائع ہوتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ تاریخی ضرور ہے مگر شاہانہ نہیں۔ وزرا کے لیے تحائف قبول کرنے، سرکاری گاڑی استعمال کرنے اور سرکاری فنڈ سے سفر کرنے کے قواعد نہایت واضح ہیں۔ خلاف ورزی پر میڈیا، پارلیمنٹ اور احتسابی ادارے فورا حرکت میں آتے ہیں۔ فرانس میں صدارتی نظام ہے مگر وہاں بھی ریاستی خرچ کے معاملے میں شفافیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ فرانسیسی صدر اور وزرا کے دفاتر کے اخراجات کی تفصیلات سامنے لائی جاتی ہیں۔ غیر ضروری عملہ، مہنگی تزئین و آرائش اور شاہانہ ضیافتوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ کئی مواقع پر عوامی دبا کے نتیجے میں صدارتی اخراجات میں کمی بھی کی گئی۔ فرانسیسی جمہوریت میں میڈیا کا کردار بہت مضبوط ہے جو حکمرانوں کے طرزِ زندگی اور سرکاری خرچ پر کڑی نظر رکھتا ہے۔جرمنی کو انتظامی سادگی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جرمن چانسلر اور وزرا کا طرز زندگی عمومی طور پر سادہ ہوتا ہے۔ سرکاری دفاتر میں فضول نمود و نمائش نہیں پائی جاتی۔ گاڑیوں، دفاتر، دوروں اور سرکاری سہولتوں کیلئے واضح مالی حدود ہیں۔ جرمنی میں ٹیکس دہندگان کا پیسہ انتہائی ذمہ داری سے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں عوام ٹیکس کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔ کسی بھی حکومتی فضول خرچی پر شدید عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آتا ہے۔ یہی مالی نظم و ضبط جرمنی کی معاشی مضبوطی کا ایک بڑا سبب ہے ۔ جاپانی وزرائے اعظم اور وزرا کی سادگی ضرب المثل ہے۔ کئی وزرا عام ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں۔سرکاری دفاتر میں غیر ضروری آسائشات نہیں ہوتیں۔ جاپانی بیوروکریسی وقت، وسائل اور بجٹ کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتتی ہے۔ اگر کوئی وزیر یا افسر سرکاری فنڈ کے غلط استعمال میں ملوث پایا جائے تو فوری استعفی دینا ایک اخلاقی روایت سمجھی جاتی ہے۔ جاپان میں عہدہ عزت سے زیادہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، اس لیے کفایت شعاری خودبخود نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ چین میں ریاستی وسائل کو ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر اور صنعت پر لگاتے ہیں اور حکومتی سطح پر سادگی لازم ہے۔ اسی حکمت عملی نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار کی۔ترقی یافتہ ممالک میں ایک وصف نمایاں ہے کہ سرکاری عہدہ ذاتی آسائش کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ حکمران طبقہ جانتا ہے کہ وہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کا امین ہے۔ اس امانت میں خیانت سیاسی اور اخلاقی جرم تصور ہوتی ہے۔ یہی سوچ اداروں کو مضبوط اور ریاست کو مستحکم بناتی ہے۔اس کے برعکس ترقی پرہیز ممالک میں معاملات الٹ ہیں۔بعض ممالک کے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی ، سود اور انتظامی اخراجات میں چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف غربت، بیروزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی کمی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا رکھی ہے۔ ایسے حالات میں حکومتی سادگی محض ایک اخلاقی مشورہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت ہے۔اربابِ اختیار کو سمجھنا ہوگا کہ سادگی کمزوری نہیں، قوت کی علامت ہے۔ جب حکمران خود مثال قائم کرتا ہے تو بیوروکریسی اور نچلا نظام بھی اس کی پیروی کرتا ہے۔ اگر اوپر شاہانہ طرزِ زندگی ہوگا تو نیچے تک فضول خرچی سرایت کرے گی۔ اگر اوپر کفایت شعاری ہوگی تو نیچے تک نظم و ضبط پیدا ہوگا ۔ حکومتی سادگی کیلئے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سرکاری گاڑیوں اور پروٹوکول کو کم کیا جائے۔ غیر ضروری بیرونی دورے محدود کیے جائیں اور ہر دورے کی لاگت اور فائدہ عوام کے سامنے رکھا جائے۔ وزرا اور اعلی افسران کیلئے مراعاتی پیکیج کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ سرکاری رہائش گاہوں اور دفاتر کی آسائشات کم کی جائیں۔ سرکاری تقریبات کو سادہ بنایا جائے۔ ڈیجیٹل میٹنگز کو فروغ دیا جائے تاکہ سفر اور رہائش کے اخراجات کم ہوں۔مزید یہ کہ ہر وزارت اور ادارے کے انتظامی اخراجات کی سالانہ تفصیل شائع کی جائے۔ آزاد آڈٹ نظام کو مضبوط کیا جائے۔ پارلیمانی کمیٹیاں فعال کردار ادا کریں۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو معلومات تک رسائی دی جائے۔ جب نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا تو فضول خرچی خود بخود کم ہوگی۔پاکستان جیسے مقروض ملک میں حکمرانوں کی سادگی ایک معاشی حکمت عملی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ عوام کی امانت پہلے، ذاتی آسائش بعد میں۔ جب اقتدار سادگی کے ساتھ جڑا ہوگا تو اعتماد بڑھے گا، ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا اور معیشت کو سہارا ملے گا۔ مضبوط ریاستیں محلات سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں اور دیانت دار طرز حکمرانی سے بنتی ہیں۔ ہم بھی یہی راستہ اختیار کرلیں، حکمرانی کو خدمت اور سادگی سے جوڑ دیں، تو قرضوں کا بوجھ بھی کم ہوسکتا ہے اور عوام کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ سادگی اختیار کرنا مشکل نہیں، صرف نیت اور مثال کی ضرورت ہے۔
سادگی اپنائیں۔۔۔؟

