تک ہنستے رہتے تھے۔ یہ ساری باتیں اور قصے اپنی جگہ ؛ پر بنگال کی سرزمین میں کچھ تو ایسا ہے، جو وہاں کی ہر شے میں دنیا کو ایک سحر ،ایک جادو ، ایک اسرار نظر آتا ہے ۔وہاں کا حسن سحر انگیز ،وہاں کی محبت پراسرار، وہاں کے ندی نالے اور جنگل سندر اور جادو بھرے، وہاں کی زبان اور ادب اپنی جادو بیانی، اپنی تند و تیز روانی اور اپنی دادی اماں کی پوٹلی سے نکلی ہوئی کہانی سے اپنے پڑھنے والے کو دگنا مزا ، تگنا تجسس اور بے مقدار لطف دیتے ہیں۔ حنا جمشید کے بنگلہ دیشی ادب کی منتخب کہانیوں کے تراجم پر مشتمل مجموعے سحر بنگال کو دیکھ کر اور پڑھ کر بنگال اپنی تمام تر سحر طرازیوں سمیت ذہن میں تازہ ہوگیا ہے، اور ساتھ ہی اپنا ایک پرانا ”جن دوست اور بھوت پرست”بنگالی شاگرد بھی یاد آ گیا۔ ایک بنگالی ادیب دکشنارنجن متر مجمدار نے 1907 بنگلہ زبان میں بنگالی زبان کی لوک کہانیوں کا ایک مجموعہ بہ عنوان ‘ٹھاکر مار جھولی’مرتب کیا تھا۔اس دلچسپ مجموعے میں بنگال کی پرانی دادیوں اور نانیوں کی بچوں کو سنائی جانے کہانیوں کو جمع کیا گیا تھا۔ بنگلہ زبان میں”ٹھاکر ما”دادی جان یا نانی اماں کو کہا جاتا ہے اور جھولی وہی ہے جو ہمارے ہاں بھی انہی معنوں میں بولی اور استعمال کی جاتی ہے، اسے پوٹلی ،کپڑے کی تھیلی یا زنبیل بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیا ہوا جو حنا جمشید "ٹھاکر ما” کے محترم منصب سے دور ہے ، لیکن پاکستان کی ایک شاہِتک لیکھیکا ہونے کا اعزاز تو رکھتی ہے ،اور اسی حوالے سے انواع و اقسام کی تحریروں سے بھری ہوئی جھولی ، پوٹلی یا زنبیل ان کے پاس بھی موجود ہے ۔اس زنبیل میں ہری یوپیا (ناول)، گھلی تاریخ(تحقیق و تنقید )، کلیلہ و دمنہ(تسہیل و تدوین)، کلام غالب کی دو مستند شرحیں : وثوق صراحت اور مشکلات کلام غالب ( تدوین)، شبنم شکیل کی تخلیقی و فکری کائنات (تحقیق و تنقید ) عالمگیریت ، ثقافت اور ادب(مقالات ،تدوین)، مصنوعی ذہانت : حریف یا حلیف؟ (تدوین)شامل ہیں ۔اور اب تازہ تازہ اضافہ بنگلہ ادب کی منتخب کہانیوں کا مجموعہ سحر بنگال سامنے آیا ہے۔اگرچہ یہ بنگلہ زبان سے راست ترجمہ نہیں ہے ، یہاں اس مجموعے میں شامل کہانیوں کو ان کے انگریزی تراجم کی بنیاد پر اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔لیکن حنا جمشید نے اپنے جادوئی تخیئل اور اپنی ساحرانہ استعداد کی بنیاد پر اپنے ترجمے میں جس روانی ، تاثیر اور تاثر کا مظاہرہ کیا ہے، اور بنگلہ زبان کے رمز شناس جس پر معترف اور حیران ہیں ؛ وہ ان کے صرف مترجم ہونے سے زیادہ ان کے رپ کتھار لیکھیکا یعنی طلسماتی کہانی کار ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ حنا جمشید اپنے بنگلہ کہانیوں کے تراجم کے دیباچے”قصہ بنگال کے جادو کا”میں لکھتی ہیں کہ؛”سنا ہے بنگال کا جادو ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس جادو کے سر چڑھ کر بولنے کی جو بھی وجوہات ہوں مجھے اس نے اپنا اسیر تب کیا جب میں نے بنگلا ادب کی انگریزی میں منقلب چند کہانیوں کو اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ تراجم یک نشستی نہ تھے۔ مصروفیات زندگی نے مجھے یوں الجھایا ہوا تھا کہ جب سکون کی چند گھڑیاں میسر ہوتیں، فورا ان کہانیوں کو اٹھاتی اور ترجمہ شروع کر دیتی۔ جوں جوں کہانی ترجمہ ہوتی جاتی میں اپنے گرد و پیش سے کٹتی جاتی اور ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتی جو اجنبی ہوتے ہوئے بھی شناسا تھی ، جہاں کے دکھ درد مجھے اپنے معلوم ہوتے ، جہاں کی دھرتی سے مجھے اپنی مٹی کی مہک آتی اور جہاں کے لوگ پل بھر میں میرے اپنے ہو جاتے۔اسے جادو نہیں تو اور کیا کہیں گے کہ جب ایک کہانی ترجمہ ہو جاتی تو میں اگلی کہانی کے در پر جاکھڑی ہوتی اور آہستگی سے دستک دیتے ہوئے اس میں یوں اتر جاتی ہے جیسے یہ میری اپنی دنیا ہوں یہاں ہر گلی شناسا تھی، ہر چہرے پر اپنائیت تھی ، ہر دل میں خلوص تھا اور ہر درد کا کرب بھی وہی تھا جو میرے دیس کے لوگوں پر گزرتا ہے۔… ” حنا جمشید نے ‘سحر بنگال’ میں بارہ بنگلہ کہانیوں کا طسلم بند کر رکھا ہے۔ یہ بارہ کے بارہ تراجم پڑھنے والے کو اپنی جدا جدا کیفیت میں لے جاتے ہیں۔اور جب قاری اس کیفیت سے باہر نکلتا ہے، تب اسے کہانی کے منفرد ذائقے کے لطف کا صحیح صحیح اندازہ ہوتا ہے۔جو کہانی اپنے قاری کو پیچھے مڑ کر پڑھے ہوئے قصے کی طرف دیکھنے اور مسکرانے پر مجبور کر دے ،وہ ایک بامراد کہانی خیال کی جا سکتی ہے۔ ایک مترجم متن میں کشش کی یہ مقدار کہانی کی طاقت اور معنویت کے ساتھ ساتھ ترجمے کے کمال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ بنگلہ زبان اور بنگلہ ادب سے اپنائیت کا یہ احساس ایک طویل تاریخ رکھتا ہے ۔یہ احساس اس خطے کی تر دماغی ، گرم جوشی، سرزمین سے وابستگی اور ارضی محبت کے ولولہ انگیز تصورات سے روشناس کراتا ہے۔ بنگال کے لوگوں کا سب سے بڑا ، موثر اور مثالی جادو تو ان کا سیاسی و سماجی شعور ہے۔یہی شعور بنگال کے لوگوں کو خطے کے دیگر باسیوں سے ممتاز کرتا ہے ۔لیکن ان کا روحانی محبت کے فریب کے عوض ارضی چاہت اور مرضی کی محبت کا رجحان انہیں زیادہ باعمل بناتا ہے ۔ فکر کی بجائے عمل کا رجحان بنگلہ ادب کی بنیادی پہچان ہے۔ ابتدا میں، میں نے اپنے ایک بنگالی اسکالر کے حوالے سے جنات کا آسٹریلیا سے کوہ قاف جاتے ہوئے بنگال میں آرام کی غرض سے قیام کا ذکر کیا تھا۔بنگالی اسکالر کے اس بیان میں حقیقت اور افسانے کا تناسب کتنا تھا،مجھے نہیں معلوم ، لیکن فرض کریں کہ ایسا ہوتا بھی ہو ،تو پھر کیا پتہ آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ ڈیگو گارشیا کے جزائر سے کوہ قاف کی طرف واپس جانے والے جنات پاکستان کے کچھ علاقوں ؛خاص طور پر جہلم میں آرام کی غرض سے قیام کرتے ہوں؟ کیا پتہ۔ایسا گمان اس لیے گزرا کہ جہلم میں گگن شاہد اور امر شاہد نامی دو بھائی جس معیار اور جس مقدار کے اشاعتی کارنامے سرانجام دے رہے ہیں ،یہ جنات کی مداخلت ،اعانت، مہارت اور محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا تازہ اشاعتی کارنامہ حنا جمشید کا بنگلہ ادب کی منتخب کہانیوں کا اردو ترجمہ ‘سحر بنگال’ ہے۔
سحر بنگال، یعنی قصہ بنگال کے جادو کا

