Site icon Daily Pakistan

سر جی او ویلا گیا

چند دن پہلے میں اپنے ایریا کی ایک دکان پر ریزر خریدنے گیا تاکہ اپنی داڑھی کا خط بنا لوں دکاندار نے ریزر دیا تو میں نے قیمت پوچھی تو کہنے لگا ڈیڑھ سو روپے دے دیں میں اس کی بات سن کر حیرانی میں گم ہو گیا میں نے حیرت سے کہا آپ اس کی قیمت تین گنا بتا رہے یہ تو مشکل سے پچاس روپے کا مل جاتا تھا شاپ کیپر کہنے لگا سر جی او ویلا گیا تسی کدوں دی گل کر رئے او۔ میں اس کا جواب سن کر لاجواب ہو گیا کیونکہ آج کل مارکیٹ میں جا کر بندے کے ہوش اڑ جاتے ہیں ہزار روپے کی ویلیو ایک سو روپے کے برابر ہو چکی ہے کسی زمانے میں بکرے یا گائے کا گوشت خرید لیا کرتے تھےاب گزارا مرغی کے گوشت پر ہے لیکن اس کی قیمت بھی آٹھ سو روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے کھانے پینے کی تمام اشیا اتنی مہنگی ہیں کہ گھر کا خرچہ چلانا مشکل ہو چکا ہے ۔ تنخواہ یا پنشن ہر ماہ نہیں بڑھتی اس پر حکومت وقت کی توجہ سال میں ایک دفعہ وہ بھی بجٹ کے وقت مبذول ہوتی ہے لیکن اضافہ اتنا نہیں ہوتا کہ مہنگائی کا مقابلہ ہو سکے بہر حال ملازمین کے آنسو پونچھنے کی کوشش ضرور ہوتی ہے۔ آجکل کے حالات کبھی کبھی ماضی کے حالات سے موازنہ کرنے پر اکساتے ہیں مجھے یاد ہے میں جب ایف اے کا طالب علم تھا تو مجھے انگریزی سیکھنے کا بہت کریز تھا میں بولنے کی کوشش بھی کرتا میرے دوست میرا مذاق اڑاتے اور طرح طرح کے مزاحیہ القابات سے نوازتے کراچی میں قیام کے دوران طالبعلمی کے زمانے میں ایک دن آکسفورڈ ڈکشنری خریدنے کے لیے بند رروڈ گیا جو کہ اب ایم اے جناح روڈ کہلاتی ہے وہاں کتابوں کی بڑی دکانیں تھیں اس ڈکشنری کی قیمت بارہ روپے کچھ آنے تھی اس زمانے میں دو آنے بھی چلتے تھے میرے پاس دس روپے تھے جو کہ میں اپنے والد سے اصرار کر کے لیے کہ میں نے ڈکشنری خریدنی ہے لہذا میں مایوس ہو کے واپس آ گیا شام کو جب والد صاحب دفتر سے واپس آئے تو ڈکشنری کا پوچھا کہ لے آئے تو میں نے اس کی قیمت بتا دی اور پیسے کم ہونے کی وجہ سے ڈکشنری نہ لا سکنے کی وجہ بتا دی والد بولے اتنی مہنگائی یار پھر لے لینا ابھی تو کالج کی فیس کے علاوہ بل بھی ادا کرنے ہیں جی اچھا کہہ کر میں نے والدہ کو دل کا دکھڑا سنایا تو وہ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگیں تمہارے ابا ٹھیک ہی تو کہتے ہیں اب اتنی مہنگی کتاب خرید لو گے تو پھر گھر کے اخراجات پر اس کا اثر تو پڑیگا پھر لے لینا ابھی اس تجویز کو ملتوی کر دو تمہارا گزارا تو ہو ہی رہا ہے میں خاموش ہو گیا لیکن چند دنوں بعد والد صاحب دفتر سے واپسی پر اسی دکان سے ڈکشنری خرید لائے جو ابھی تک میرے پاس موجود ہے اور استفادہ کرتا رہتا ہوں وہ زمانہ اچھا تھا محلے داروں میں اپنوں سے بڑھ کر محبت اخلاص رواداری اور تعلق داری تھی گھر میں جب بھی کوئی خاص پکوان پکتا تو محلے کے سارے گھروں میں تقسیم ہوتا سب لوگ اسی طرح کرتے لیکن وقت نے حالات بدل دیے نہ وہ محبتیں رہیں نہ ہی وہ قربتیں بس اپنی اپنی ذات میں سبھی سمٹ کر رہ گئے اب تو یہ حال ہے کہ قریبی عزیزوں کے بارے میں بھی معلومات نہیں سبھی بکھر کر رہ گئے ہر شخص پریشان ہے زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی آمدنی کم اخراجات زیادہ ہیں اسی کمی کو تنخواہ دار طبقہ پورا نہیں کر سکتا اس لیے ان کے گھروں میں خوشحالی نام کی کوئی چیز نہیں جھانکتی جیسے تیسے محرومیوں میں لپٹے زندگی گزاررہے ہیں اور اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں مہنگائی دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے حکومت اور معاشیات کے ماہرین ہندسوں کی زبان اور فیصد کی گرہ باندھ کر بات کرتے ہیں بیان کچھ اور کہتا ہے عملی زندگی کے حقائق کچھ اور اظہار کرتے ہیں اسی آنکھ مچولی میں زندگی بے کیفیت گزر رہی ہے آپ شاید میری ذاتی رائے سے اتفاق کریں گے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر حکومت کی کڑی گرفت نہیں ہر سٹور اور شاپ کی اپنی مرضی پر قیمت فکس ہے ہر شے ہر جگہ مختلف پرائس پر فروخت ہو رہی ہے اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پرائس چیک کرنے کے لیے ٹیمیں بنائے جو اختیارات کے حامل بھی ہوں زیادہ قیمت وصول کرنے پر نہ صرف فوری آن دی سپاٹ جرمانہ کرے سزا دے شاپ سیل کر دے تاکہ دوسرے لوگوں تک یہ بات پہنچے کہ من مانی کرنے پر حکومتی گرفت سخت ہے بد قسمتی یہ ہے کہ معاشرہ ان اقدامات کو پسند نہیں کرتا کچھ عرصے بعد وہی حکومتی عناصر جو اختیارات کے جائز استعمال کرنے کے مجاز ہوتے ہیں انکا عمل قوانین کے برعکس شروع ہو جاتا ہے ملی بھگت سے قوانین کے پرخچے اڑائے جاتے ہیں اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے شب و روز بسر کر رہے ہیں یہ اچھی خبریں ہیں کہ ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے بیرون ملک پاکستانیوں نے کافی زرمبادلہ بھیجا کچھ دوست ممالک نے حسب روایت دریا دلی کا ثبوت دے کر طوفان میں ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو سہارا دیا مختلف عناصر کے مثبت رویوں کی وجہ سے حالات بتدریج بہتری کی طرف رواں دواں ہے یہ سب صحیح لیکن عام آدمی کی زندگی غربت کی چکی میں مسلسل پس رہی ہے وہ اسی امید پر ہیں کہ خوشحالی ضرور آئے گی کچھ لوگ کہتے ہیں ہمارے ملک میں سیاست انڈسٹری کا درجہ اختیار کیے ہوئے ہیں انتخاب میں حصہ لینے والے کروڑوں خرچ کرتے ہیں اور اگر کامیاب ہو جائیں تو وارے نیارے نسلوں کے لیے پرتعیش زندگی گزارنے کے مواقع مل جاتے ہیں نہ کوئی ڈر نہ کوئی خوف اختیارات ناموری دولت شہرت عزت گھر کی باندی یوں کہہ لیں ان کا پیشہ سیاست بن جاتا ہے جسے وہ مانتے نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کی اولاد بھی یہی پیشہ اختیار کرنے کی کوشش میں رہتی ہے کچھ ایسے پنچھی ہوتے ہیں جو وقت سے پہلے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کونسا سیاسی پیڑ حالات کی کھاد سے پھلے پھولے گا وہ فورا پہلی جماعت چھوڑ کر انہیں پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں جسے زیادہ کامیابی حاصل ہونا ہوتی ہے یعنی بیوقوف اور جذباتی عوام میں ہر طرح سے مقبول ہوتی ہے جیسے پی ٹی آئی کے کچھ ممبران۔ اللہ ہمارے ملک پر مزید رحم فرمائے کیونکہ یہ ملک بنا بھی اسکی مرضی سے ہے اور اسکے رحم سے چل رہا ہے سیاسی تاریخ دھبوں سے بھری پڑی ہے عوام کے جعلی نمائندے اس ملک سے اپنی خواہشات کے مطابقت میں مفادات حاصل کر کے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی امارات کے جھنڈے گاڑ لیتے ہیں اسی لیے مخالف سیاسی جماعت کے لوگ انہیں لٹیرے چور اور ڈاکو کہتے ہیں کہ قوم اور ملک کو لوٹ کر باہر دفع ہو جانا ان کا وطیرہ ہے ہمارا ایسا نظام ہی نہیں کہ انہیں کھنگال سکے غریب ہتھے چڑھ جائے تو معافی نہیں جس ملک میں انصاف کےلئے برسوں انتظار کرنا پڑے وہاں سے معاشرتی مساوات کہاں سے ہوگی خیر جملوں کو والی بال کی طرح اچھالتے ہوئے کامیابی کی رسی مضبوطی سے تھام لینا انکا مطمع نظر ہوتا ہے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہمارے ملک میں غربت اور افلاس کا ڈیرہ ہے پاکستان سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک دن بدن ترقی کی منازل طے کرتے جا رہے ہیں چین کی مثال ہمارے سامنے ہے یہ ملک دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرح سے اتنا مضبوط ہو گیا کہ امریکہ جیسی دنیاوی طور پر مضبوط ریاست بھی ان سے سوچ سمجھ کر بات کرنے پر مجبور ہے اسکی وجہ معیشت اور قوم کی سوچ اور عمل کا بدلنا ہے وہ ایک مہذب قوم بن چکے ہیں جبکہ ہمارے تہذیب کا دور دور تک نشان نہیں پاکستانی نہیں ہم قوم کو پاکستانی کم سندھی پنجابی بلوچی پشتون زیادہ بنایا ہے ایک دوسرے کے مخالف رہنا طرہ امتیاز ہے ایک طویل عرصہ ضائع کرنے کے بعد ماضی کو بھول کر نئے عزم نئی سوچ اور مضبوط عمل سے ملک کی نہ ضرف معیشت بلکہ دوسرے شعبوں کو بھی ترقی دینے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے نئی نسل مایوسی کا شکار ہے پچھلے چند برسوں میں بیرون ملک جانے والوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اگر انہیں ملک میں معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لیے مواقع ملتے تو یہ کبھی بھی بیرون ملک روزگار کی تلاش میں نہ جاتے ہر شعبہ زندگی میں نمایاں تبدیلی کی ضرورت ہے ٹیکس دینے والے اگر ایمانداری اور ذمے داری سے حکومت کو انکم ٹیکس ادا کریں تو بیرونی امداد پر انحصار کم سے کم ہوتا جائے اس وقت سرکاری ملازمین نے 23-24کے مالی سال میں 368 ارب روپے کے ٹیکس ادا کیے یہ تیسرا بڑا طبقہ ہے جو ٹیکس ادا کرتا ہے اور انہیں ملازمین کا جینا حرام ہو چکا ہے قوت خرید ماند پڑ چکی ہے حکومت کو بجٹ کی تیاری میں اس مظلوم طبقے کا خیال رکھنا چاہیے اور پنشنر کا بھی جنہیں ضروری ادویات خریدنے کے لیے بھی گنجائش نہیں ہوتی حکومتیں بنتی اور اپنی مدت پوری کرتی ہیں لیکن ایسی منصوبہ بندیاں نہیں ہوتیں جو معطل نہ ہوں اور ملک میں ترقیاتی کام ہوتے رہیں معیشت کا پہیہ چلتا رہے قوانین کا اطلاق شخصیت دیکھ کر نہیں بلکہ واقعات حالات اور حقائق دیکھ کر ہوں موم کی طرح پگھلنے والے قوانین معاشرے میں حکومتی اداروں پر اعتماد کم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اچھا ملک دیا ہے وہ کریم ہمارے نصیب بھی اچھے بنا دے ہمیں زندگی میں ہمارے نصیب کے ساتھ آشنائی فرما دےتاکہ ہم دیکھیں کہ ہماری کوشش ہمارے نصیب کے رخ سے برعکس تو نہیں لے جارہی رب العالمین ملک سے وفاداری کے جزبے کو تقویت عطا فرما اے اللہ تیری عطا ہماری طلب سے بھی زیادہ ہے ہماری نیتیں تو جانتا ہے اس ملک پر اور اس کے رہنے والوں پر اپنی رحمت کا سایہ قائم رکھنا وقت بدلتا رہتا ہے آنے والے وقت کو بہترین تحفے کے طور پر عطا فرما ۔آمین

Exit mobile version