Home » کالم » سستے اور فوری انصافی کی فراہمی کے لائق تحسین اقدامات کا آغاز
adaria

سستے اور فوری انصافی کی فراہمی کے لائق تحسین اقدامات کا آغاز

adaria

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں فوری انصاف اورمعینہ کم میعاد میں کریمنل کیسوں کے مقدمات کے فیصلے کرنے کے روڈمیپ کے موضوع پرمنعقدہ نیشنل کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا بجا شکوہ کیا ہے کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں،انہوں نے اس حوالے سے بتا یا کہ جلد انصاف کی فراہمی کیلئے پارلیمنٹ کو 17 رپورٹیں دے چکے ہیں، ایوان نے کسی پر مکمل عمل نہیں کیا۔یقیناًیہ ایک افسوسناک امر ہے اس سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندوں کے نزدیک فوری انصاف کی فراہمی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔انہوں نے بتا یاکہ موجودہ عدالتی پالیسی ہم نے یہ بنائی ہے کہ سستے اورفوری انصاف کی راہ میں تمام رکاوٹوں کوختم کردینا چاہیے، اب وکیل کے ہونے نہ ہونے سے سماعت نہیں رکے گی، گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہوگی، فیصلہ چند روز میں سنایا جائیگا، جانشینی کیلئے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے عدالتوں میں جانا نہیں ہوگا بلکہ نادرا یہ سرٹیفکیٹ کمپیوٹر کا ایک بٹن دبا کر فیملی ٹری جاری کردیا کریگی۔چیف جسٹس صاحب نے اپنی تقریر میں جن نکات کو حوالہ دیا ہے وہ نہایت ہی بنیادی نوعیت کے ہیں۔اگر ان پر کماحقہ عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے تو ایک عام آدمی کی بہت سی مشکلات کم ہو جائیں گی جو پہلے سالہا سال عدالتوں کے دھکے کھتے پھرتے تھے۔ ماڈل کرمنل کورٹس کی اب تک کی 10 دن کی شاندار کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ 116 برادر جج ہمارے ہیرو ہیں انہیں سلیوٹ کرتے ہیں،ملک بھر میں 116ماڈل کریمینل کورٹس کی شاندار کارکردگی کے بعد چاروں صوبوں میں سول ماڈل کورٹس تشکیل دے دی گئیں ہیں انہوں نے بتا یا کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ماڈل کورٹس سسٹم میں بھرپور تعاون کیا ہے، ملک بھر کے متعلقہ تمام حکام نہ صرف ماڈل کرمنل کورٹس بلکہ بننے والی سول ماڈل کورٹس کے جج صاحبان سے بھرپورتعاون کریں۔ کریمنل کیسوں کے مقدمات کے فیصلے کرنے کے روڈمیپ کے موضوع پرمنعقدہ نیشنل کانفرنس نہایت کامیاب رہی،اس موقع پراسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر، لاہور ہائی کورٹ بلوچستان ہائی کورٹ،پشاور ہائیکورٹ اورسندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے بھی اپنی اپنی ہائی کورٹ کے حوالے سے خطاب کیا۔ کانفرنس میں ایک سو16ماڈل کریمینل کورٹس کے سربراہ جج صاحبان کے علاوہ پراسیکیوٹر جنرلز،متعلقہ وفاقی وصوبائی سیکرٹریوں اورملک بھر کے ضلعی سیشن جج صاحبان نے شرکت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے116ماڈل کورٹس کے جملہ ججوں کواپنا پاکستان عدلیہ کاہیرو قرار دیتے ہوئے ان کو سلیوٹ کیا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے پاکستان کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان سے کہاکہ وہ عدلیہ کی طرح قوم کوسستااورفوری انصاف فراہمی میں حائل قانونی رکاوٹیں دور کرنے کی قانون سازی کریں۔پاکستان کی عدلیہ کیسز کا انبارتلے دبی ہوئی ہے لیکن اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ہماری عدلیہ کی کارکردگی اتنی بھی بری نہیں کہ جس کا رونا رویا جاتا ہے۔اس حوالے سے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کی سپریم کورٹ سال بھر میں80،90مقدمات کافیصلہ کرتی ہے۔ سپریم کورٹ آف یوکے نے ایک سال میں ایک سو مقدمات کا فیصلہ سنایا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک سال میں26ہزار سے زیادہ مقدمات کے فیصلے سنائے۔ پاکستان بھر میں جج صاحبان کی تعداد3ہزارہے جبکہ انہوں نے 2018میں 34لاکھ مقدمات کافیصلہ کیا۔ اس لئے ہم اپنے برادر جج صاحبان کو ڈومور کرنے کا نہیں کہہ سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ عدالتی پالیسی ہم نے یہ بنائی ہے کہ سستے اورفوری انصاف کی راہ میں تمام رکاوٹوں کوختم کردینا چاہیے۔ کسی بھی مقدمے کاوقوعہ کیس14دن کے اندر چالان تیار ہوجانا چاہیے اسکے بعد تین دن میں وقوعہ کے چالان کوکورٹ میں پیش کرناضروری ہوگا جہاں کی پولیس یہ نہ کرے اس سے آئی جی پولیس کونئے سسٹم کے تحت رپورٹ کردیاجائیگا۔ اس حوالے سے انہوں نے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا کہ کس طرح یہ طریقہ کا رکام کرے گا۔انہوں نے بتایا کہہم جو طریقہ کار یا پالیسی اپنانے جا رہے ہیں انگلینڈ میں یہی پالیسی ہے وہاں کی عدالت سماعت کا نظام اوقات بناتی ہے اورپھر سماعت کی تاریخ چاہے وہ ایک سال بعد کی ہودونوں فریقوں کے وکلا کو دے دیتی ہے اورکم وبیش تین دن میں اس مقدمے کی سماعت کرکے فیصلہ سنادیتی ہے۔ پاکستان بھر میں بھی ہم ایسا کرنے جارہے ہیں ہم بلاتعطل مقدمے کی سماعت کرکے فیصلے کیاکرینگے کسی وکیل کے ہونے نہ ہونے سے مقدمے کی سماعت نہ بحث رکاکریگی بلکہ اس وکیل کے مقرر کردہ جونیئر، نائب اورمعاون وکیل کو سماعت میں حاضرہونا لازمی کر دیگی۔اسی طرح پراسکیوٹر بھی مقدمے کی سماعت کے دوران غیر حاضر نہیں ہوا کریگابیماری یا کسی ناگہانی صورت میں پراسیکیوٹر کی جگہ پراسکیوٹر جنرل متبادل پراسکیوٹر بھیجنے کا پابند ہو گا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ تیسرا مرحلہ گواہوں کی پیشی کا ہوتا ہے کم و بیش 50 سالوں سے انکا تجربہ ہے کہ گواہ کی عدم پیشی کی بنا پر سماعت ملتوی کر دی جاتی ہے لیکن ہم مجوزہ حکمت عملی کے مطابق اسٹیٹ کو گواہ پیش کرنے کی ذمہ داری دینگے اگر اسٹیٹ کی ایک ایجنسی یہ کام نہیں کریگی تو ہم اسٹیٹ کی متبادل ایجنسی کو کام دینگے مگر مقدمے کی سماعت چند روز میں کر کے فیصلہ سنایا کرینگے ہماری 116 ضلعی کریمنل ماڈل کورٹس جو یکم اپریل 2019 سے کام کرنے لگی ہے اس کے ساتھ ہماری اسٹیٹ اور تمام ادارے بھرپور تعاون کر رہے ہیں پولیس گواہان کو لا رہی ہے تمام آئی جی پولیس تعاون کر رہے ہیں تمام متعلقہ محکموں میں فوکل پرسن مقرر ہو گئے ہیں پولیس گواہ کو مقررہ تاریخ پر پیش کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جیل حکام اور اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے۔ واضح کر رہاہوں کہ ہمارا جنون مرا نہیں آج بھی زندہ ہے۔ ماڈل کورٹ کا بنیادی تصور 50 سال کے تجربے کے پس منظر سے ہے آئین کے آرٹیکل 37-P میں لکھا ہے کہ ریاست سستا اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ آئین کے آرٹیکل 27 میں ای کیلئے اسٹیٹ کو ذمہ داری سونپی ہے جوڈیشری اسی لئے خود قدم اٹھا رہی ہے۔

پاک فوج ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 139 ویں لانگ کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے بطور مہمان خصوصی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری افواج کا شمار دنیا کی بہترین فوج ہوتا ہے جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑجواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پریڈمیں نواں مجاہد کورس،58واں انٹی گریٹڈ کورس اور 14ویں لیڈی کیڈٹ کورس مکمل کرنے والے پاکستانی کیڈٹس کے علاوہ سعودی عرب اور سری لنکا کے کیڈٹس بھی شامل تھے، اس سے قبل صدر مملکت نے پریڈ کا معائنہ کیا اور کیڈٹس میں ایوارڈز بھی تقسیم کیے۔ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج دنیا کی بہترین اور پیشہ ور فوج ہے اور آپ نے دنیا کی بہترین فوج میں تربیت حاصل کی ہے اور اپنی قوم کے اعتماد پر پورا اترنا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج آج انتہائی پرعزم اور سخت جان ہے۔پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور بھارت کی رات کے اندھیرے میں بزدلانہ جارحیت کا دن کے اجالے میں دندان شکن جواب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی محاذ پر حالیہ لڑائی اس حقیقت کا ثبوت ہے، ہماری آپریشنل تیاریوں اور بھرپور جواب نے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی۔بلاشبہ مکار دشمن بھارت نے ایک سازش کے تحت پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن جری اور نڈر پاک فضائیہ نے دشمن کو ایسا جواب دیا کہ اب وہ اپنی بل میں مروڑ کھا رہی ہے اور انشا اللہ کھاتی رہے گی۔

About Admin

Google Analytics Alternative