عالمی بینک کی ثالثی میںپاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ صرف ایک کاغذ کاٹکڑانہیں رہابلکہ دُنیاجانتی ہے کہ یہ معاہدہ دوایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ اورامن کی لکیربن چکاہے اورآج اقوام عالم یہ بھی بخوبی جانتی ہیں کہ بھارت کاہمیشہ سے رویہ ایک توسیع پسندانہ ریاست کارہاہے نہ صرف بھارت کے اندرون اقلیتیں آج بھی ظلم و تشدد کا شکار ہیں تووہیں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آج سات دہائیوں بعدبھی بھارتی فاشسٹ حکومت کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کامسلسل خون بہایا جارہا ہے ۔گزشتہ سال مئی میں جب ایک دفعہ پھرپاکستان نے بھارت کے نہ صرف غرور و تکبرکوتوڑابلکہ اپنے سے کئی گناہ بڑے دُشمن کوایسادندان شکن جواب دیاہے کہ اب مودی حکومت اپنی شکست کوچھپانے کیلئے آبی جارحیت کررہی ہے ۔گزشتہ سال ہی بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ منسوخی کے اعلان کے فوراًبعدعالمی عدالت نے واضح کردیاتھاکہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم نہیں کرسکتاجبکہ بھارت کومغربی دریائوں سندھ ،جہلم اور چناب کا غیر محدود بہائو پاکستان کی جانب یقینی بنانا ہوگا۔عالمی عدالت کی جانب سے بھارت کوہدایت کی گئی تھی کہ پانیوں کے اعدادوشمارپاکستان کودینے کا پابند ہے تاکہ غیرقانونی طورپرپانی کے بہائوکوکم نہ کیاجاسکے۔لیکن اِس کے باوجود بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر ایک نئے ساولکوٹ ڈیم کی تعمیر نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کے پانی کے حق پر ڈاکا بھی ہے ۔ دریائے چناب پربھارت کی جانب سے ساولکوٹ ڈیم کے علاوہ بھی عالمی قوانین کیخلاف 6 منصوبے زیرتعمیر ہیں۔یہ تمام منصوبے مجموعی طور پر ایسے نظام کی تشکیل کرتے ہیں جس کے ذریعے پانی کے بہائو کو روکا’ موڑا یا وقتی طور پر کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے ۔نیویارک میں سندھ طاس معاہدے پر آریا فارمولہ کے تحت پاکستان کی میزبانی میں سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس منعقدہواجس میں دنیا کے 40 ممالک نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیاہے۔۔اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے شعبہ قانونی امور کے سربراہ ڈیوڈ نینوپولوس اور بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی سمیت دیگر نامور ماہرین نے اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں 40ممالک کے شرکاء نے بھی پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی معاہدے عالمی نظم و ضبط کے ضامن ہیں، انہیں یکطرفہ طور پر ختم کرنا جنگل کے قانون کو رواج دینے کے مترادف ہے۔ بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انحراف علاقائی امن کیلئے ایک تباہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔اجلاس کے انعقاد سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عالمی برادری سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کو تنازعات کی روک تھام کیلئے ناگزیر سمجھتی ہے جبکہ معاہدہ مکمل طورپر مؤثر ہے اوربین الااقوامی معاہدے کوئی اختیارنہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہیں جنہیں ہرصورت پوراکرناکسی بھی ملک کیلئے ضروری ہوتاہے اورسندھ طاس معاہدے میں اگرکوئی تبدیلی ہوبھی تواُس میں دونوں ممالک کی رضامندی شامل ہوتی ہے ۔ پاکستان کی طرف سے یہ معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائے جانے کے باوجود بھارت نہ جواب دے رہاہے اور نہ ہی عالمی ثالثی عدالت کے فورم پر تعاون کررہاہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ بھارت کی جانب سے یہ صرف ایک معاہدے کی خلاف ورزی نہیں بلکہ پاکستان کیخلاف اعلانِ جنگ ہے۔ سفارتکاری سے فریب کاری تک بھارتی آبی جارحیت اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ معاہدے کی مسلسل بے توقیری ہے اوربھارتی ہٹ دھرمی اورسلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے بھی رائے فرارعالمی قوانین سے مکمل انحراف ہے ۔آج اقوام عالم کونہ صرف معاہدہ شکن بھارت کوعالمی کٹہرے میں کھڑاکرناہوگا بلکہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق مغربی دریائوں سندھ ،جہلم اور چناب کا غیر محدود بہائو پاکستان کی جانب یقینی بنوانا ہوگا ۔ اگرعالمی ادارے سندھ طاس معاہدہ اوربھارتی آبی جارحیت روکنے کیلئے بھارت کیخلاف کوئی اقدامات نہیں کرتے توپھرکسی بھی ریاست کیلئے اِس کی خودمختاری،وسائل اورعوام کی سلامتی کوجب خطرات لاحق ہوں تودفاع اِس کاقانونی اورجائز حق ہوتاہے” جیسے کہ گزشتہ سال جب بھارت نے پاکستان کیخلاف جارحیت کی توپاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص اورمعرکہ حق میں دندان شکن اورعبرتناک جواب دیاگیا۔”
سندھ طاس معاہدہ اوربھارتی ہٹ دھرمی!

