supreme-court 82

سپریم کورٹ نے سی ای اوپی آئی اے ائیرمارشل ارشد محمود ملک کی کام جاری رکھنے کی استدعا مسترد کردی

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سی ای او پی آئی اے کو کام سے روکنے کے خلاف اپیل پر سماعت کی،،عدالت کابورڈ آف گورنرز کوامورچلانے کا حکم ،،سی ای او،،چیرمین پی آئی اے جے اختیارات بھی حاصل ہوں گے،،سندھ ہائیکورٹ میں زیرسماعت مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب،،،تمام کیسز یکجا کرکے سنے جائیں گے۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے پی آئی اے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں،،،،قوم کی ملکیت ہے،پی آئی اے کو کیسے چلایا جارہا ہے،،،،چیرمین پی آئی اے کی تقرری کے طریقہ کار کے تعین کے لیے سپریم کورٹ میں بنیادی انسانی حقوق کا مقدمہ موجود ہے،،چیف جسٹس نے ایک افسر کو سترکروڑ میں ٹھیکہ دینے کے معاملے پر تشویش کا اظہار بھی کیا. جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیےکہ اسی افسرکی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا،،،یہ سی ای او جب سے آئے ہیں پی آئی اے کے کرایوں میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے،،،،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےخود ڈیپوٹیشن پر آنے والے سی ای او نے 4 ائیر وائس مارشل،2 ائیر کموڈور،3 ونگ کمانڈر اور 1 فلائٹ لیفٹیننٹ کو ڈیپوٹیشن پر بھرتی کیا،،،بہتر ہے کہ پی آئی اے کو پاکستان ائیر فورس کے حوالے کردیں،،سماعت دوہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں