Home » کالم » سکھ بھی بھارتی انتہا پسندی کا شکار

سکھ بھی بھارتی انتہا پسندی کا شکار

جب سے بھارت میں انتہا پسند بی جے پی برسراقتدار آئی ہے۔بھارت میں انتہا پسندی عروج پر ہے۔یہاں گائے ذبح کرنے کے معاملے پر کئی افراد کو مار دیا گیا جبکہ مسلمانوں کے نام سے منسوب شاہراہوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کیے گئے۔ کئینامور افراد کوانتہا پسند ہندؤوں کی جانب سے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ظالم فوج نے مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہوئے کئی افراد کو شہید کیا۔ مئی 2014ء میں نریندر مودی کی حکومت بنتے ہی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے اقلیتوں کے خلاف محاذ سنبھال لیا۔ آرایس ایس نے غریبوں کے راشن کارڈز پر ڈاکہ ڈالا۔ سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدارملک نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی ظلم کی سیکڑوں داستانیں رقم کیں۔ 1989 سے لے کر اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کیا گیا۔ آٹھ ہزار سے زائد افراد کو چھروں کا نشانہ بھی بنایا۔کشمیریوں پربھارتی فورسز کے ظلم وستم، بی بی سی، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز جیسے کئی عالمی اخبارات کی شہہ سرخیاں بنے۔ قابض افواج کے تشدد اور بربریت کا اعتراف سابق بھارتی انٹیلیجنس چیف” اے ایس دلت نے بھی کیا۔ مگر ان سب کے باوجودآج بھی مقبوضہ وادی میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔بھارت میں انتہا پسندی کی آگ ننھے پھولوں کو جھلسانے لگی۔مسلم بچے ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ تنقید و تمسخر کے وارانتہا پسندی کی شکار بھارت سرکار کے تعلیمی اداروں میں مسلمان بچوں کو ایسی آوازوں نے جھنجھلا کر رکھ دیا۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی کتاب ’مدرنگ اے مسلم‘ کے مطابق انڈیا اور پوری دنیا میں بڑھنے والے اسلام فوبیا کی وجہ سے سکولوں میں بچوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس کتاب کی مصنفہ نازیہ ارم اس کتاب کو لکھنے کے لیے بھارت کے بارہ شہروں میں گئیں جہاں وہ 145 خاندانوں سے ملیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہلی کے25 بڑے سکولوں میں پڑھنے والے 100بچوں سے بات کی۔مصنفہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے بڑے بڑے سکولوں میں ہندو مسلم تفریق دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ ایسے سکول اور کھیل کے میدان بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جہاں انھیں باقی بچوں سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے اور پریشان کیا جاتا ہے۔سکولوں میں ہراساں کیے جانے کے بیشتر معاملات میں بچے اکثر دکھاوے، رنگت، کھانے پینے کی عادات، خواتین کے لیے تنگ نظری، ہوموفوبیا اور نسل پرستی کے ذریعے اپنے ساتھ پڑھنے والے بچوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔آپ خود سوچیں جب پانچ اور چھ برس کے بچے کہتے ہیں کہ انہیں پاکستانی یا شدت پسند کہا جا رہا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ سکولوں سے کیا شکایت کریں گے؟ان میں سے بہت ساری باتیں مذاق میں کہی جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس مذاق سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ ہراساں کیا جانا اور استحصال ہے۔مصنفہ نے اپنی کتاب میں جن بچوں سے بات کی انہوں نے بتایا کہ ان سے سوالا ت کئے جاتے ہیں کہ کیا تم مسلمان ہو؟ میں مسلمانوں سے نفرت کرتا ہوں۔ کیا تمہارے پاپا گھر پر بم بناتے ہیں؟کیا تمہارے پاپا طالبان ہیں؟کیا تم پاکستانی ہو؟کیا تم شدت پسند ہو؟اسے غصہ مت دلاؤ وہ تمہیں بم سے اڑا دے گا۔صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہربھارتی اقلیت کا موجودہ حکومت میں یہی حال ہے۔خاص طورپر آج کل کے حالات میں جب مودی حکومت ہر مذہب ہر فرد پر الزام دھرتی پھر رہی ہے۔ مودی کو ہر غیر ہندو دہشت گرد اور انتہا پسند نظر آتا ہے۔ بھارتی سکھ جو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سے زیر عتاب آئے آج بھی بھروسہ کے قابل نہیں سمجھے جاتے۔ بھارتی پنجاب میں تمام سرحدی علاقوں، اہم سرکاری دفاتر، فوجی چھاؤنیوں کے باہر ناکوں پر تعینات سکھ پولیس اہلکاروں کو ہٹا کر ہندوؤں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے باقاعدہ احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ سکھ پولیس اہلکار کشمیری مجاہدین، حریت پسندوں اور بھارت مخالف قوتوں کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ان احکامات کے بعد نوے فیصد ناکوں سے سکھ جوانوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اہم پوسٹوں پرتعینات سکھوں کی خفیہ نگرانی بھی شروع ہو چکی ہے۔ سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے ایک لاکھ باون ہزار ٹیلی فون نمبرز کی ریکارڈنگ شروع ہو چکی ہے۔ بھارتی پنجاب اور دیگر صوبوں میں سکھ کمیونٹی کے اہم لیڈروں نے موجودہ حالات پر کھل کر بولنا شروع کر دیا ہے۔ خوف زدہ مودی سرکار نے بھارتی پنجاب میں سکھ کمیونٹی کے دو ٹی وی چینلز بھی بند کروادیئے ہیں جبکہ مودی کے خلاف بولنے اور سوشل میڈیا پر شور ڈالنے کے الزام میں 113 سکھ طالبات اور دیگر 224 افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مودی کی بیوقوفیوں کی وجہ سے بھارتی پنجاب میں بھی کشمیر جیسی بڑی تحریک کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے۔ سکھوں کی عالمی تنظیم ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے سربراہ رجیت سنگھ نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور اپوزیشن لیڈرز کو لکھے گئے کھلے خط میں مودی سرکار کی نفرت آمیز متعصبانہ پالیسیوں کو نہ صرف بھارت بلکہ خطے کیلئے خطرہ قرار دیا۔خط میں رجیت سنگھ کا پاک بھارت کشیدگی کی وجہ بھارتی جنونیت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کی موجودہ صورتحال میں ہندو انتہا پسندوں کا ہاتھ ہے۔ اس لئے سکھ سپاہی پاکستان پر حملے کے بھارتی فوج کا حکم ماننے سے انکار کردیں اور کسی ایسے کھیل کا حصہ نہ بنیں جس میں الیکشن کے لیے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہو۔ بھارتی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے مودی سرکار سے سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ حملے میں نقصانات کا ثبوت مانگنے پر بی جے پی کے کارکنوں کو کانگریس کے خلاف ملک بھر میں مہم چلانے کی ہدایت کردی۔بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی اپوزیشن کی جانب سے بالاکوٹ میں نقصانات کا ثبوت مانگنے پر شدید برہم ہے اور اب بی جے پی کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔بھارتی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے پاکستان کے خلاف کی گئی کارروائی کے ثبوت مانگنے پر کانگریس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کانگریس رہنما انڈین ایئرفورس کی کارروائی کو مشکوک بنا کر سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کر رہے ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ جب سرجیکل سٹرائیک کیا تھا تو ثبوت مانگے گئے اور اب بالاکوٹ پر حملہ کیا تو نقصان کا کانگریس کے لیڈرز ثبوت مانگتے ہیں، کیا انہیں اپنی ایئر فورس پر اعتماد نہیں۔ریاست کرناٹک کے پروفیسر کو بھارتی پائلٹ کی رہائی پر بیان دینا مہنگا پڑ گیا۔ انہوں نے غلطی سے عمران خان کی تعریف کر دی بس پھر کیا تھا ہر طرف سے انتہا پسند ٹوٹ پڑے اور استاد کو گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی مانگنا پڑی۔ یہی نہیں سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر بھی ایسے واقعات سیکولر بھارت کا مکروہ چہرہ عیاں کررہے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative