سیاحت ایک انڈسٹری

24

پاکستان کے شمال میں پھیلی ہوئی قراقرم کی پہاڑیاں جنوب میں دریائے سندھ کی سینہ تانے لہریں ، خوبصورت جھیلیں بہتے ہوئے چشمے دریاءوں کی روانی ، چٹیل پہاڑوں سے لیکر برف پوش چوٹیاں خوبصورت پھولوں کی پھیلی ہوئی بھینی بھینی خوشبو حیران کردینے والے پرندے معدنیات کو سینوں میں چھپائے ہوئے پہاڑ غرض کیا کیا گنوایا جائے اور کن کو صرف سرسری طورپر دیکھا جائے قدرت نے اس ملک کو بے پناہ دولت سے نوازا ہے ۔ انہیں دیکھ کر بے ساختہ منہ سے سبحان اللہ ادا ہو جاتا ہے ۔ اللہ کی ان نعمتوں کو نعوذباللہ جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ اللہ نے سورۃ الرحمن میں سب کچھ گنوا کر کہا تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاءو گے ۔ ہمارے ملک کے امیر گھرانے سیروسیاحت کیلئے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے بیرون ملک اور محیرالقعول جگہوں کا رخ کرتے ہیں ۔ جون جولائی کے ماہ میں جب بچوں کے سکول کی طویل تعطیلات ہوتی ہیں تو ان خوبصورت جگہوں پر نہ صرف آنے والوں کا اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ لوگ کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لے کر آتے ہیں اور پھر برنرز کی مدد سے کھانا بھی خود تیار کرتے ہیں ۔ لش گرین میدانوں میں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر کھانا کھانے کا لطف ضبط تحریر میں لانا آسان نہیں ۔ ان تفریحات کیلئے پیسہ وقت فرصت اور کنوینس ضروری ہوتا ہے ۔ کراچی کی بزنس کمیونٹی کے لوگ اپنی فیملی کےساتھ صرف کوہ مری میں وقت گزارتے ہیں لیکن کراچی میں سمندر کے کنارے اب اتنا رش ہوتا ہے کہ انجوائے کرنے کی بجائے سیکورٹی کا خیال زیادہ کرنا پڑتا ہے ۔ کوہ مری کو کراس کریں تو کوہالہ پل کے دوسرے کنارے آزاد کشمیر بلند و بالا پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ آزاد کشمیر بھی وادی کشمیر کا خوبصورت علاقہ ہے جو دیکھنے کے لائق ہے ۔ سیاحت ایک انڈسٹری ہے ٹورآپریٹرز کے ذریعے بھی بہترین پروگرام کم خرچ کے اصول پر ترتیب دئیے جاسکتے ہیں ۔ غیر ملکی سیاح بھی پاکستان میں خوبصورت قدرتی مناظر اور فلک بوس پہاڑوں کی شوکت کو دیکھنے آتے ہیں ۔ 1990ء سے 1999ء تک چار لاکھ بتیس ہزار سیاح پاکستان آئے پھر 2000سے 2009ء تک سیاحوں کی تعداد آٹھ لاکھ پچپن ہزار ہوگئی ۔ 2010ء سے 2018ء تک انیس لاکھ تک پہنچ گئی ۔ باہر سے آنے والے سیاحوں کا سب سے بڑا تعلق سیکورٹی بارے ہوتا ہے ۔ پاکستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں جانا اور وہاں قیام کیلئے خاطر خواہ انتظامات کا نہ ہونا سیاحوں کیلئے ذہنی پریشانی کا ذریعہ بنتا ہے ۔ پکی سڑکیں ، ہوٹلز، سیکورٹی یہ چند ضروریات ہیں جو ہر بندہ چاہتا ہے کہ اسے ملیں ۔ چند مشہور مقامات پر سہولتیں تو موجود ہیں لیکن مدین کالام کے علاقوں میں رہائش کی سہولتیں موجود ہونا بہت ضروری ہیں ۔ گرمیوں میں کیونکہ سیاحت کی غرض سے آنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس لئے کمروں کے کرائے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ لوگوں کو رہائش کیلئے مناسب جگہ بھی دستیاب نہیں ہوتی ۔ حکومت نے کیونکہ سیاحت کے فروغ کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے لہٰذا امید کی جاسکتی ہے کہ زر مبادلہ کمانے والا سیاحت کا شعبہ ترقی کی منازل ضرور طے کرے گا ۔ مقامی باشندوں کو اس سلسلے میں مالی مدد یا قرض دیکر سستے قیام کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے ۔ وہاں کے روایتی کھانے بھی ان کے لئے آمدنی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ مقامی دستکاریوں کو فروغ مل سکتا ہے ۔ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ سیاحت کی غرض سے آنے والے لوگوں کو مکمل سیکورٹی کا احساس ہو ۔ دبئی جسکی آمدنی کا انحصار زیادہ تر سیاحت پر مبنی ہے وہاں کی حکومت نے ہر طرح کی سہولت اور قانون کی حکمرانی سے سیکورٹی کو قابل اعتماد بنا دیا ہے ۔ ہمارے ہاں کیونکہ با اثر افراد کی مداخلت بھی ہوتی ہے اس لئے قانون کا اطلاق نچلی سطح پر مشکلات سے دوچاررہتا ہے ۔ ہ میں شمالی علاقہ جات میں بہترین جگہیں مخصوص کرکے انہیں ترقی دینا پڑے گی، تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے بعد پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ڈاکومنٹری کے ذریعے لوگوں کو آنے کیلئے ترغیب دینا پڑے گی تاکہ ملکی اور غیر ملکی لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر، سیاحت کا پروگرام بناسکیں ۔ سب سے اہم کام انسانی زندگیوں کا تحفظ ہے ۔ حکومت کو سیاحتی علاقوں میں چوری ، ڈکیتی اغواء برائے تاوان جیسے جرائم کو آہنی ہاتھوں سے ڈیل کرنا پڑے گا تاکہ سیاح بغیر کسی ذہنی خوف اور پریشانی کے انفرادی طورپر گروپ کی صورت میں فیملیز کے ساتھ سیاحت کیلئے شمالی علاقوں میں مناظر قدرت دیکھنے کےلئے آسکیں ۔ پاکستان تو قدرتی مناظر سے بھرا پڑا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ معاشی طورپر مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے رہنے والے بھی اپنے ملک کی خوبصورتی کو دیکھنے سے محروم ہیں ۔ ذراءع آمدورفت اگر ہیں تو رہائش خوراک اور دیگر لوازمات کیلئے مناسب بجٹ نہیں ہوتا ۔ قلیل ذراءع میں مہینہ پورا کیا جائے یا سیرو سیاحت کی عیاشی کے بارے میں سوچا جائے ۔ یہ کام ہمارے ہاں خاص طورپر پیسے والے لوگوں تک محدود ہے ۔ اسے عام آدمی کی پہنچ تک لانے کی ضرورت ہے ۔ سندھ میں گورکھ ہل سٹیشن ہے یہ کیرتھر پہاڑوں کے سلسلے میں پانچ ہزار چھ سو نوے فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ یہ دادو کے شمال مغرب میں 94 کلو میٹر پر واقع ہے جو دیکھنے کے لائق ہے ۔ کالام ویلی جس کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے پانی کے بہاءو کی زمین ہے اللہ نے پانی کی دولت سے نوازا ہے جو آبشاروں کی صورت میں بہتا ہے سبز پہاڑ قدرت کے شاہکار ہیں یہ دریا سوات کے کنارے وادی ہے ۔ اسلام آباد سے دوسوستر کلو میٹر کے فاصلے پر قدرت کا منظر نامہ ہے ۔ اسی طرح نتھیا گلی تو ہرزبان پر ہے ۔ نتھیا گلی ہل اسٹیشن ہزارہ کے پی کے میں مری اور ایبٹ آباد سے چونتیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ برف پوش پہاڑ سبزہ اور بہتے ہوئے ندی نالے قدرت کا شاہکار معلوم ہوتے ہیں ۔ اللہ کی صناعی کا منہ بولتا عجائب خانہ ہے ۔ بلند بالا سبز پہاڑوں کو اور اردگرد کے قدرتی مناظر کو دیکھ کر اللہ یاد آجاتا ہے ۔ یہ سب کچھ اپنی اس مخلوق کیلئے بنایا جو اشرف المخلوقات حضرت انسان ہے ۔ اللہ نے جس کیلئے اپنی بارگاہ سے مقرب فرشتے کو نکال دیا اور وہ انسانوں کو بہانے پرلگا ہوا ہے ۔ ہم اسی کی ہم خیالی اور رہبری میں چل رہے ہیں ۔ بہرحال سیر، سیاحت کے مقامات کی بات ہورہی تھی ۔ آپ نے بیافو گلیشیئر دیکھا ہوگا گلگت بلتستان میں قراقرم کے پہاڑوں میں واقع ہے ۔ یہ گلیشیئر67 کلو میٹر لمبا ہے ۔ آنسو جھیل بھی دیکھنے کے قابل ہے یہ قدرتی طورپر آنسو کی شکل میں ہے ۔ یہ ماہ نور ویلی جوکہ کاغان ویلی کے قریب واقع ہے ۔ ہمالیہ کے پہاڑوں کی رینج میں ہے ۔ اللہ کی صناعی پر بندہ عش عش کراٹھتا ہے ۔ پاکستان کے رہنے والوں نے پاکستان کو ہی نہیں دیکھا کیونکہ معاشی مجبوریاں آڑے آجاتی ہیں لیکن جو استطاعت رکھتے ہیں انہیں ضرور ان قدرتی مناظر کو دیکھنے جانا چاہیے ۔ حکومت کو ان مقامات پر رہائش طعام اور سیکورٹی پر توجہ دینے اور فراہم کرنے کی ضرورت ہے اس طرح نہ صرف غیر ملکی لوگوں کے آنے کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کے زر مبادلہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔