Home » تازہ ترین » سیاسی قیادت کی بھارتی اقدام کی مذمت اور کشمیر کاز کیلیے یک زباں

سیاسی قیادت کی بھارتی اقدام کی مذمت اور کشمیر کاز کیلیے یک زباں

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھارتی آرٹیکل 370 ختم کرنے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی اقدام ناقابل قبول اور  اقوام متحدہ کے خلاف اعلان بغاوت اور جنگ ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بھارتی آرٹیکل 370 ختم کرنے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی اقدام ناقابل قبول اور اقوام متحدہ کے خلاف اعلان بغاوت اور جنگ ہے، پاکستان فی الفور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائے، چین، روس، ترکی، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک سے فوری طورپر رابطہ اور مشاورت کی جائے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کشمیری تنہا نہیں، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، قائد اعظم کے اس فرمان پر ہر پاکستانی کٹ مرنے کو تیار ہے، جو ہماری شہہ رگ اور قومی عزت وغیرت پر ہاتھ ڈالنے کی حماقت کرے گا، وہ بھیانک انجام سے دوچار ہوگا، کشمیریوں کو پیغام دیتے ہیں کہ ان کے جائز قانونی اور انسانی حقوق کے لئے پاکستان ہر حد تک جائے گا، کشمیر کاز کے لئے پاکستان یک زباں اور متحد ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش بھارتی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی توہین ہے، استصواب رائے کشمیریوں کا جمہوری حق ہے، بھارت کشمیر میں جمہوریت کا قتل کررہا ہے جو عالمی برادری کا امتحان ہے، یہ پاکستان کے قومی مفاد کا معاملہ ہے، اس پر پورا پاکستان ایک ہے، سیاسی وعسکری قیادت کے اجتماعی فیصلوں کا وقت آگیا ہے، کشمیر کاز کے لئے پاکستان یک آواز اور متحد ہے، پارلیمان کا مشترکہ ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے کر جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری 

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر بھارت کے مظالم ناقابل برداشت ہیں، انتہا پسند بھارتی حکومت کے عزائم کھل کر سامنے آچکے ہیں، صدر پاکستان فی الفور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لئے حکم جاری کریں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان  

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی بھارتی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بی جے پی کے مکروہ عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں، کشمیر کی خود مختارحیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

سینیٹر شیری رحمان 

پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان  نے اس حوالے سے کہا کہ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے باقاعدہ اعلان جنگ کردیا ہے، جس شق کو نہرو ختم نہ کرسکا، اسے مودی نے ختم کرکے بتادیا کہ بھارت اشتعال انگیز ریاست ہے، شرم آرہی ہے کہ ہمارا حکمران بھی مودی کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیتا رہا ہے، عمران خان صاحب! کہاں ہے وہ مودی جس کی جیت کو آپ کشمیر کے مسئلے کے حل سے تعبیر کرتے رہے، ریاست پاکستان کو کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی بنانا ضروری ہے، بھارت سن لے! پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔

وزیرخارجہ  

وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت نے آج اقوام متحدہ کے وعدے کی خلاف ورزی کی، آج بھارت نے مسئلہ کشمیر کو عالمی حیثیت دلادی، بھارت کے مذموم مقاصد بےنقاب ہوگئے، بھارت کی غلط فہمی ہے کہ معاملے کو دبالے گا، بھارتی اقدام کے اثرات لداخ اور آزاد کشمیر میں بھی دکھائی دیں گے، مسئلہ کشمیر پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے، پاکستان کی خواہش تھی کہ معاملے کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے، صدر ٹرمپ نے بھی ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

سراج الحق 

امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ کشمیریوں کے لیے کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے اہم رہنما قید اور نظربند ہیں،  بھارتی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے،بھارت نے اس اقدام سے شملہ معاہدے اور عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان  

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کا کشمیر کے حوالے سے فیصلہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، کشمیر متنازعہ علاقہ کوئی طاقت کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتی، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ، بین الاقوامی برادری کو کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدام کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور: جے یو آئی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرکے حکومتی موقف سنے گی اور بھارت نے جنگ مسلط کی تو جواب دیں گے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر 

وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے کہا کہ ہم بھارتی آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے سے مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہا، ہمارا احتجاج ریاست کی تقسیم پر ہے، 35 اے ریاست کے مہاراجہ نے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے بنایا تھا جب کہ ہمیں پاک فوج پر مکمل اعتماد ہے، بھارت کے ساتھ 70 سال کے حساب کتاب چکانے ہیں،  آزاد کشمیر کا بچہ بچہ افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative