Home » کالم » سیاسی و عسکری قیادت کا مقبوضہ کشمیر کیلئے ہر حد تک جانے کا عزم
adaria

سیاسی و عسکری قیادت کا مقبوضہ کشمیر کیلئے ہر حد تک جانے کا عزم

سیاسی و عسکری قیادت نے بغیر کسی تمہید کے بھارت کو واضح پیغام دیدیا ہے کہ کشمیر کیلئے ہر حد تک جائیں گے، کچھ ہوا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ، مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کیخلاف اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی ۔ ہم عالمی عدالت انصاف میں بھی جانے کا سوچ رہے ہیں ۔ بھارت نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے، خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، بہادر شاہ ظفر نہیں ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کیا جائے گا ۔ بھارت کشمیریوں کو کچلے گا تو پلوامہ جیسا ردعمل آئے گا اور الزام پاکستان پر عائد کردیا جائے گا ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ میں کوئی نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا یہ ایکشن لینے کا وقت ہے، دنیا سے اپیل ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عملدرآمد کرائے ۔ اگر کچھ ہوا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے ماضی میں ایکشن نہ لینے کی وجہ سے بھارت کو شہ ملی ۔ وزیراعظم کی یہ بات بالکل درست ہے پاکستان 7 دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہر فورم پر آواز اٹھا رہا ہے لیکن بین الاقوامی برادری نے اس جانب توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں اور بھارت کو اتنی شہ ملی کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو ختم کرنے کیلئے آئین میں تبدیلی کرڈالی ۔ بھارت کی جانب سے بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کی تنسیخ کے ذریعے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی غیر قانونی اور جابرانہ کوشش لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کلسٹر بموں کا استعمال اور مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ہم عالمی عدالت انصاف میں جانے کا بھی سوچ رہے ہیں بھارت نے حملہ کیا تو جواب دینگے ،خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے پاکستان بہادرشاہ ظفر کا نہیں ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کرے گا انڈیاکشمیریوں کو کچلے گاتوپلوامہ جیسا رد عمل آئیگا اور الزام پاکستان پرلگے گا نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا یہ ایکشن لینے کا وقت ہے دنیا سے اپیل ہے وہ اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد کرائے کچھ ہواتوہم ذمہ دارنہیں ہوں گے ماضی میں ایکشن نہ لینے پر بھارت کو شہ ملی اگر اب دنیا نے کچھ نہ کیا تو اس کے سنگین نتاءج نکلیں گے اورپوری عالمی برادری متاثر ہوگی اگر جنگ ہوئی تو کسی کی فتح نہیں ہوگی سب ہارجائیں گے ہم نے خلوص نیت کے ساتھ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں کیں تاہم بشکیک سربراہ اجلاس کے موقع پر ہ میں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت بات چیت میں سنجیدہ نہیں اور وہ اس پیشکش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے بھارتی سوچ ساری دنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہے عالمی برادری سے اس لئے خاموش ہے کہ بھارت میں زیادہ نقصا ن مسلمانوں کا ہو رہا ہے مگر اس کا ساری دنیا کو نقصان پہنچے گا ۔ یہ سیشن صرف کشمیر یا پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے آج یہاں سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ پوری قوم اس معاملے پر اکٹھی ہے ۔ دوسری جانب کور کمانڈرز کانفرنس نے کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کو مسترد کرنے کے حکومتی فیصلہ کی مکمل تائید کی ہے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج کشمیری عوام کی جدوجہد کی کامیابی تک ان کے ساتھ کھڑی ہے اورکشمیر کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے پاکستان آرمی اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کیلئے مکمل تیار ہے ۔ کئی عشرے قبل آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ذریعے جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو جائز قرار دینے کی نام نہاد بھارتی کوششوں کو پاکستان نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اب بھارت نے خود ہی ان کو منسوخ کر دیا ہے ۔

چین کی طرف سے بھی بھارت کو تنبیہ

چین نے کہا ہے کہ بھارتی اقدام ہماری خودمختاری کیلئے خطرہ ہے، قانون سازی کے باوجود مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہی رہے گا، لداخ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان اسٹرٹیجک ایریا ہے اسے بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں یکطرفہ طورپر قوانین میں تبدیلی ہماری سالمیت کیخلاف ہے جو کہ کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ اور بھارتی اقدام غیر آئینی اورغیر قانونی ہے، نئی دہلی نے چین کی سرحدی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جاری بیان میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے فیصلے پر بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ چین نے کہا بھارت کے ساتھ سرحد پر مغربی سرحد میں چینی حدود میں مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ۔ کشمیر کی صورتحال پر چین کو سخت تشویش لاحق ہے، ہم پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات کے ذریعے تنازع کو حل کریں ۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہماری پوزیشن بہت کلیئر ہے ، یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان عرصہ دراز سے چل آرہا ہے، عالمی برادری بھی اس پر متفق ہے کہ دونوں ممالک بیٹھ کر تحمل سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں ۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں خرابی پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، چین نے اپنے بیان میں زیادہ سے زیادہ بھارتی جموں وکشمیر کے لداخ کے تزویراتی اہمیت کے علاقے کے حوالے سے کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ چین نے مزید کہا بیجنگ پہلے ہی اپنے مغربی علاقے کی بھارت میں شمولیت کا مخالف ہے ۔ مسئلہ کشمیر میں چین بھی اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان اور تبت کے درمیان بدھ مت اکثریت کا حامل لداخ کا علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے ۔ چین کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی برادری کو سمجھ جانا چاہیے کہ بھارت کتنا خطرناک خون اور آگ کا کا کھیل کھیل رہا ہے ۔ اگر اس کو نہ روکا گیا تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی کیونکہ پاکستان ،بھارت اور چین ایٹمی طاقت کی حامل قوتیں ہیں ۔

کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے کاٹنے نہیں دینگے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تو کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں ، ہم شہ رگ کوکاٹنے نہیں دیں گے،کشمیری ہمارے مسلمان بھائی ہیں ،پارلیمنٹ اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر اچھا پیغام نہیں گیا،اب وقت کاتقاضا ہے کہ ہ میں یکجہتی دکھانی چاہیے،پارلیمنٹ کی کارروائی اس سے بھی بہتر ہوسکتی تھی، آج سے 4پانچ سال بعد سپرپاور چین ہوگا،افغانستان کے مسئلے پر پاکستان پوری محنت کررہا تھا کہ مسائل حل ہوں ،پاک بھارت کشیدگی سے پورا خطہ اس لپیٹ میں آئے گا،امریکہ پاکستان کی جغرافیائی حالت کو نظر انداز نہیں کر سکتا،کشمیر کے حالات جہاں تھے وہاں لے کر آنا چاہئیں ،مودی نے تو آرٹیکل 370کا خاتمہ اپنے منشور میں رکھا ہوا تھا، بھارت میں پاکستان سے زیادہ غربت ہے،پاکستان کو بھارت کے اقدام کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا،فیصلہ تو سیاسی قیادت نے کرنا ہے فوج تو تیار ہے،ہ میں انٹرنیشنل کورٹس میں بھی جانا چاہیے، وزیراعظم کام پر لگے ہوئے ہیں ،انہیں قوم کو تازہ صورتحال بتانی چاہیے،اس مسئلے پر پیش رفت بہت جلدی ہونی چاہیے دیرنہیں ہونی چاہیے، تمام مسلم ممالک کو اکٹھا ہونا چاہیے،مسلم امہ اکٹھی نہیں ہوگی تو نتاءج اچھے نہیں ہونگے ۔ تمام مسلمان ممالک اکٹھے ہوجائیں اوردنیا کو پیغام دیں کہ ہم متحد ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative