Home » کالم » سیاسی پا رٹیوں کے بارے میں ایک سروے

سیاسی پا رٹیوں کے بارے میں ایک سروے

چونکہ میرا تعلق میڈیا ہے لہٰذاءکسی نہ کسی صورت مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قومی راہنماءکے ساتھ رابطو ںکا سلسلہ جا ری رہتا ہے۔ میرے پاس مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین، جس میں پاکستان مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف ، اے این پی، جماعت اسلامی، جمیعت لعلمائے اسلام، پاکستان پیپلز پا رٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ق)، کچھ آزاد اراکین کے موبائیل نمبر ہیں اور اکثر و بیشتر مختلف سیاسی پا رٹیوں کے راہنماﺅں کے ساتھ رابطہ ہوتا رہتا ہے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ وہ سیاسی قائدین جو ریڈیو، ٹی وی اور مختلف اخبارات میں ٹاک شوز اور انٹر ویو میں اللہ رسول کانام لیتے ہیں اور پاکستان کے عوام کے مسائل کی وجہ سے انکو نیند نہیں آتی ان سیاست دانوں اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین سے جب آپ رابطہ کریں گے تو یہ کبھی بھی آپکو جواب نہیں دیں گے۔ اور جب الیکشن کے دوران ووٹ لینے آتے ہیں تو پیروں پر پڑیں گے اور کسی کے 50 سال پہلے مرحوم والدین، بہن بھائی اور عزیز و آقارب کے لئے فا تحہ پڑھتے آتے ہونگے۔ جب یہ لوگ ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز بن جاتے ہیں تو پھر کبھی آپکو پکڑائی نہیں دیں گے۔ گزشتہ دنوں میرے دل میں خیال آیا کہ مختلف سیاسی پا رٹی کے لیڈران اور قائدین کے سیل نمبر معلوم کرکے ان سے رابطہ کیا جائے اور تجزیہ کیا جائے کہ ان میں کونسے ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز جواب یاResponce دیتے ہیں ۔ میں ہر سیاسی پا رٹی کے چالیس ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹرز کے نمبر معلوم کرکے اس سے کسی اہم ایشو پررابطہ کر نے کی کو شش کی اور میرے اس سروے یہ بات ثابت ہوئی کہ عوامی اور سماجی رابطوں کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سب آگے یعنی پہلے نمبر پر جنکے 40 ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹرز اور پا رٹی کے اہم عہدیداروں میں 35 نے کسی ایشو پر ریسپانس دیا، پیپلزپارٹی کے اہم شخصیات میں 40 میں 25، مسلم لیگ نواز کے 40 اعلی عہدیداروں میں صرف مہتاب عباسی اور پشاور سے ایک ایم این اے ، تحریک انصاف کے چالیس میں۰۱ عہدیداروں یعنی ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان وغیرہ نے جواب دیا اور تحریک انصاف کے ان سب کے سب کا تعلق کے پی کے سے تھا ۔ کے پی کے کے علاوہ کسی اور صوبے کے تحریک انصاف کے کسی عہدیدار نے کوئی جواب یا ریسپانس نہیں دیا۔ ایم کیو ایم کے تقریبا 40 میں ۵ اور اے این پی کے کسی عہدیدار نے جواب نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے پا رٹی کے کسی ایم این اے ایم پی ایز نے جواب نہیں دیا۔ ان میں جو سب سے زیادہ ایکٹیو سینیٹر جو ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں وہ جماعت اسلامی کے سراج الحق، پاکستان پیپلز پا رٹی کے سید خور شید شاہ ، پاکستان عوامی لیگ کے شیخ رشید احمدجماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، ایم کیو ایم بیرسٹر سیف اور صوابی سے قومی محا ذ کے بابر سلیم ، تحریک انصاف کے ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان سر فہرست ہیں۔ ہم ان لوگوں کو قومی ، صوبائی اسمبلیوں ، سینیٹ میں بھیج دیتے ہیں مگر بڑی افسوس کی بات ہے کہ پھر ایم این اے،سینیٹر بن کر وہ کسی اور دنیا کی مخلوق بن جاتے ہیں۔ مُجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُن سیاسی پا رٹیوں کے لیڈران جو ٹی وی کے ہر چینلز پر بیٹھ کر ہمیں محبت ،خوت کا درس دیتے ہیں وہی ایم این اے ، ایم پی اے اور سینیٹرز ، صوبائی اسمبلی کے ممبران کسی اہم ایشو پر سُننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر ہم دیکھیں تو تحریک انصاف کے پنجاب اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز ہیں وہ متو سط طبقے کے ہیں مگر یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ وہ عوام سے گھبراتے ہیں۔اے این پی کے اہم لیڈر کی توجہ میں نے ایک اہم قومی مسئلے کی طرف مفضول کرائی تو ایم این اے صا حب نے جواب دیا کہ آپ نے تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیا ۔ میں نے اُسے کہا آپ ایک بُہت بڑے لیڈر ہیں اور میں آپ سے اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ہمارے یہ عوامی نمائندے پاکستان کے مسائل سے بے خبر ہیں۔ پچھلے دنوں پشاور کے مسلم سٹی کالونی گیا ۔ یہ وہ علاقہ جو نو شہرہ اور پشاور کے سنگم پر واقع ہے اور یہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پر ویز خٹک اور خیبر پختون خوا کے گورنرافتخار جھگڑا کا انتخابی حلقہ ہے اور بد قسمتی سے جہاں پر ۸۱ گھنٹے سے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں جب میں کے پی کے کے گو رنر اور وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک سے سے اُنکے موبائیل نمبر پر رابطہ کرنے کی کو شش کی تو ان دونوں حضرات نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق خان نے پیسکو کے صوبائی چیف سے اس سلسلے میں بات کی اور پشاور سے ایک ایم این اے مسز بخاری نے کہا کہ وہاں پر بجلی چو ری زیادہ ہوگی اس وجہ سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ میںنے اسے کہا میڈم آپ مُجھے بتائیں کہ بجلی چوری روکنا کس کی ذمہ داری ہے۔در اصل سیا سی پا رٹیوں کی جو راہنماءعوام سے فا صلہ رکھتے ہیں وہ اچھے لیڈر نہیں ہوتے ۔اس میں بھی کوئی شک اور شُبہ نہیں کہ پاکستان کے عوام کو کوئی پتہ نہیں چلتا کہ ہم کس کو مُنتخب کرکے ووٹ دیتے ہیں مگر مُجھے اُمید ہے کہ وہ دن جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکیں گے اور پھر اُنکو ووٹ دیں گے جو انکی زخموں پر مرہم لگائیں ۔ وہ دوربہت جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اس قسم کے خود غرض عناصر کو رد کریں۔

About Admin

Google Analytics Alternative