سیاسی ہم اہنگی لائق تحسین

12

قومی اسمبلی نے افواج پاکستان کے تینوں سربراہان کی مدت ملازمت کے حوالے سے ترمیمی بلوں کی منظوری کثرت رائے سے دے دی ہے ۔ بل کے تحت بری بحری اور پاک فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس ;200;ف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سال کےلئے دوبارہ تقرری یا توسیع کر سکیں گے ۔ بل کے تحت ;200;رمی ایکٹ کی سیکشن 8اے کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سالوں کےلئے جنرل رینک کے ;200;فیسر کو چیف ;200;ف ;200;رمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس ;200;ف سٹاف کمیٹی کی تقرری کر سکیں گے جبکہ شق 8 بی کے تحت تعینات ;200;رمی چیف کی دوبارہ تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کےلئے وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر صدر مملکت مزید تین سالوں کےلئے چیف ;200;ف ;200;رمی سٹاف کا تقرری یا ان کے عہدے کی معیاد میں توسیع کر سکیں گے ۔ بل کی شق 8 سی میں ;200;رمی چیف کے عہدے کی ریٹائرمنٹ اور ملازمت کی حدود کا تعین کیا گیا ہے ۔ اب چیف ;200;ف ;200;رمی سٹاف، چیئرمین جائنٹ چیفس ;200;ف سٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ کے سربراہ اورپاک بحریہ کے سربراہوں کی تقرریوں یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا ۔ ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے معاملے کو لے کر پیالی میں طوفان اٹھانے کی جو کوشش کی گئی تھی اسے عوامی نمائندگان نے سیاسی بلوغت ، ہم ;200;ہنگی اور قومی اتحاد سے ناکام بنا دیا ہے ۔ اسے پارلیمنٹ کی بالادستی کی طرف قدم قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہو گا ۔ ایک طویل عرصہ بعد ہی سہی لیکن ایک ایسے ایشو کو مل بیٹھ کر طے کیا گیا ہے جس پر بلاوجہ شور اٹھا دیا جاتا تھا ۔ ملک کی سب اہم سیاسی جماعتوں نے اداروں کو مستحکم کرنے کے ضمن میں جس دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے وہ لائق تحسین ہے ۔ ایسا کیا جانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ پاکستان کو خارجہ محاذ پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً مشرقی اور مغربی پڑوسی ممالک میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بدلتی صورتحال انتہائی نازک ہے جس سے پاکستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ مشرقی پڑوسی بھارت شدید قسم کے داخلی دباوَ کا شکار ہے اور عدم استحکام کی طرف بڑھ چکا ہے ۔ مقبوضہ وادی پہلے ہی لاوہ کی صورت اختیار کر چکی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ ان داخلی ایشوز سے توجہ ہٹانے کےلئے مودی حکومت حسب عادت اور ماضی کی طرح سرحدوں پر کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے ۔ جبکہ اب مغربی پڑوسی ملک ایران کے ایک اہم جنرل قاسم سلیمانی کو امریکہ نے نشانہ بنا کر طبل جنگ بجا دیا ہے جس کے بعد پورے خطے پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں ۔ افغانستان پہلے ہی جنگ کی وجہ سے بدامنی کی ;200;ماجگاہ ہے ۔ یوں پاکستان کے اردگرد جغرافیائی سیاست ایسی نہیں ہے کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت داخلی تنازعات میں الجھی رہے ، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری مغربی اور مشرقی سرحدوں پر منڈلاتی تباہی پر مکمل توجہ مرکوزرکھی جائے ۔ خدا نہ کرے اس کشیدہ جغرافیائی ماحول میں اگر ہم داخلی طور پر چھوٹے چھوٹے فروعی قسم کے مسائل میں الجھے رہے تو ریاست مخالف عناصر ان نازک لمحات میں ملک کو غیر مستحکم کرنے اور دشمن ملک کی خواہشات کی حمایت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ ایسا اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب ریاست داخلی مسائل میں الجھتی ہے تو دشمن لابیاں تیزی کے ساتھ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ایکا کر لیتی ہیں ۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں ;200;رمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سامنے ;200;یا تو بعض حلقوں میں گمراہ کن تبصروں تجزیوں اور پروپیگنڈا شروع ہو گیا تھا ۔ ترمیمی بل کے معاملے پر مرکزی دھارے میں شامل سنجیدہ سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے اور مشترکہ کاوشوں کو عام شہریوں نے سراہا ہے ۔ یہ سارا عمل اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت نہ صرف آگے بڑھ رہی ہے بلکہ مضبوط بھی ہورہی ہے ، جس کو پاکستان کے دشمن ;200;سانی سے ہضم نہیں کرسکتے ہیں ۔ سیاسی استحکام کی خاطر تمام سیاسی جماعتوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں کو پیچھے چھوڑ کر یہ ثبوت دیا ہے کہ وہ ریاست کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں ۔ ہماری عدلیہ کےلئے بھی یہ بات اہم ہونی چاہئے کہ وہ ایگزیکٹو کے معاملات میں دخل اندازی کےلئے داغی گئی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ قوم اور عدلیہ کا قیمتی وقت برباد نہ ہو ۔ اس ساری پیشرفت کے مثبت اثرات مرتب ظاہر ہونا شروع ہیں ۔ گزشتہ روزپاکستانی اسٹاک مارکیٹ عروج پر رہی ، جبکہ دنیا کی دیگر نمایاں منڈیوں میں کمی دیکھی جارہی ہے تو اس سے اس دلیل کو تائید ملتی ہے کہ 2020 ء میں ملکی معیشت میں بہتری نمایاں رہے گی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا ۔ ملکی معیشت تیز ہو گی تو اس کے عام آدمی کی زندگی پر بھی مثبت اثر پڑے گا ۔ ہم سب عام پاکستانیوں کی یہی خواہش ہے کہ اس کی زندگی سہل ہو ،ایسا اُسی صورت ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکا م اور ادارے مضبوط ہوں ۔