Home » کالم » سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کےلئے آبی ذخائر کی ضرورت

سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کےلئے آبی ذخائر کی ضرورت

بھارت آبی منصوبوں پر سالانہ 38 ارب ڈالر خرچ کر کے پاکستان کو صحراء و ریگستان میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کرچکا ہے ۔ امریکہ اسرائیل سمیت کئی ممالک پاکستان کی تباہی کے منصوبے میں اس کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں ۔ بھارت درجنوں نئے ڈیم بھی شروع کر چکا ہے ۔ بھارت پاکستان آنے والے دریاءوں کا پانی روکنے کے منصوبوں پر انتہائی تیزی سے عمل پیرا ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری حکمران اور پاکستان کے چند پردہ نشین بھارت کو یہ ملک دشمن منصوبے مکمل کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں ۔

نجانے سندھ کو کالا باغ ڈیم بننے پر کیوں اعتراض ہے ۔ کچھ سندھی لیڈر اس مخالفت میں پیش پیش ہیں جن کے پاس اس کی مخالفت کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ۔ جب منگلا اور تربیلا ڈیم بن رہے تھے تو یہی لوگ اس وقت بھی واویلا مچا رہے تھے مگر دونوں ڈیم بن جانے کے بعد سندھ کو ملنے والا پانی دگنا ہو چکا ہے اور کالا باغ ڈیم بننے کے بعد سندھ کو ملنے والے پانی میں مزید اضافہ ہی ہوگا اور دریائے سندھ کا بہاوَ بھی جاری رہےگا ۔ کالاباغ ڈیم نہ بنا تو یہ سندھ اورپاکستان کےلئے خودکشی کے مترادف ہوگا ۔ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی ۔ اگر ڈیم نہ بنے تو ہماری زراعت تباہ ہو جائے گی ۔ یہ پاکستان کا نقصان ہے کیونکہ اگر سندھ کی زراعت ختم ہوگئی تو لوگ بھوکے مریں گے ۔

بدقسمتی سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو کالا باغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا کوئی ادراک نہیں ۔ کوئی ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ کے ڈوبنے کے خطرے کو جواز بنائے بیٹھا ہے تو کوئی لسانی و علاقائی مسائل میں گھرا بیٹھا ہے ۔ حالانکہ ماہرین کہہ چکے ہیں کہ نوشہرہ ڈیم سے 150 فٹ بلند ہے لہذا اس کو کوئی خطرہ نہیں ۔ ڈیم سے صرف پنجاب کو نہیں خیبر پختونخواہ کو بھی فائدہ ہوگا ۔ وہاں آٹھ لاکھ ایکڑ فٹ زمین زیر کاشت آئے گی جس سے صوبے میں غربت کم ہوگی ۔ کالاباغ ڈیم کے ذریعے بجلی صرف 1;46;02 روپے فی یونٹ قیمت پر دستیاب ہوگی ۔

دنیا بھر میں آبی ذخائر کے ماہرین اور پاکستان میں ڈیمز کے ماہرین نے حکمرانوں کو انتباہ کیا ہے کہ اگر ڈیم تعمیر کئے گئے ہوتے تو پاکستان بارشوں اور سیلاب کے اس پانی نہ صرف آئندہ کئی برسوں تک زرعی مقاصد کے لئے ذخیرہ کر سکتا تھا بلکہ یہ تباہی و بربادی بھی نہ آتی ۔ اس پانی سے عوام کو سستی بجلی بھی میسر ہوتی ۔

واپڈا کے حکام کا کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری میں اپنے تجربہ کو بھی بروئے کار لائیں گے ۔ آبادکاری کے اس منصوبے پر 5 ارب 73 کروڑ (573 کروڑ) روپے صرف ہوں گے ۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے بعض ایسے افراد بھی ساڑھے بارہ ایکڑ زرعی اراضی کے مالک بن جائیں گے جن کے پاس اس وقت ایک یا نصف ایکڑ کے لگ بھگ اراضی ہے ۔ ان لوگوں کو جو اراضی ملے گی وہ نہری نظام سے منسلک ہوگی ۔ متاثرین کالاباغ ڈیم کو ان کو موجودہ رہائش کے قریب ہی جدید طرز کے دیہات میں آباد کیا جائے گا ۔ مجموعی طور پر 47 گاؤں آباد کئے جائیں گے جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو رہائشی پلاٹ فراہم کئے جائیں گے ۔ گاؤں کی آبادی کےلئے ضروری سہولتیں اور ذراءع روزگار بھی حکومت فراہم کرے گی ۔ لوگوں کو فنی تربیت کی سہولتیں بچوں کےلئے تعلیم اور علاج معالجہ کا بھی انتظام ہوگا اور صاف پینے کا پانی اور گندے پانی کے نکاس کا بھی بندوبست ہوگا ۔

کالا باغ ڈیم بلاشبہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کا ضامن منصوبہ تھا لیکن اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے سپیشل ڈیسک قائم کر کے اربوں روپے کے فنڈز مختص کر دیے ۔ اِس فنڈ کی مدد سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے سیاستدانوں اور خلاف لکھنے اور بولنے والے نام نہاد دانشوروں کی ’’ضروریات‘‘ پوری کی جاتیں تھیں ۔ یہ ماننے میں کوئی ہرج نہیں کہ ہمارے سیاستدانوں اور دانشوروں کی کم عقلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے دشمن 30 سال سے اپنے مقصد میں کامیاب چلا آ رہا ہے اور کالا باغ ڈیم منصوبے کی پہلی اینٹ نہیں رکھی جا سکی بلکہ اس منصوبے کو ہی متنازعہ بنا دیا گیا کہ بھارتی خفیہ ادارے کے ٹکڑوں پر پلنے والوں نے اِسے پاکستان توڑنے سے ہی تعبیر کر دیا اور یوں یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی متنازع ہوکر ایسا اچھوت بن گیا جسے چْھونے سے اس کے حمایتی بھی خوف کھانے لگے ۔ کالا باغ ڈیم کی جھیل میں اتنا زیادہ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا کہ اس میں سے زرعی مقاصد کے لئے سندھ کو 4 ملین ایکڑ فٹ، خیبر پی کے کو 2;46;2 ملین ایکڑ فٹ، پنجاب کو 2 ملین ایکڑ فٹ اور بلوچستان کو 1;46;5 ملین ایکڑ فٹ پانی مل سکے گا ۔ کالا باغ ڈیم کی جھیل کے پانی سے چاروں صوبے خوراک میں بھی خود کفیل ہو سکتے ہیں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچ سکتے ہیں ۔

سیاست دان کالا باغ ڈیم کی مخالفت چھوڑ دیں ۔ یہ تیکنیکی معاملہ ہے اسے سیاسی نہ بنائیں ۔ اسے ماہرین پر چھوڑ دیا جائے ۔ ملک بھر کے انجینئر اور ڈیموں کے ماہرین اس سلسلہ میں جو بھی فیصلہ کریں گے اس کے قبول کر لیا جائے ۔ ڈیمز کی تعمیر بہت ضروری ہے کیونکہ ہر سال سیلاب کا جو تجربہ قوم کو ہوتا ہے اب دوبارہ ایسا تجربہ برادشت کرنے کی سکت نہیں ۔ خدارا قومی ترقی کے ضامن کالا باغ ڈیم کو متنازعہ بنا کر سیاست کی نذر نہ کریں

About Admin

Google Analytics Alternative