53

سےونگ سکےمےں ۔۔۔منافع مےں کمی

زندگی بھر قومی خدمات انجام دےنے کے عوض ملازمےن سرکار کو رےٹائرمنٹ پر جو رقم ملتی ہے اس کے استعمال کےلئے انہوں نے پہلے ہی منصوبہ بندی کی ہوتی ہے اکثرےت اپنی بےٹےوں کی شادےوں پرکچھ رقم صرف کر دےتے ہےں اور ساری زندگی اس موہوم امےد پر بسر کر دےتے ہےں کہ رےٹائرمنٹ کے بعد رہائشی مکان کےلئے کچھ نہ کچھ کرےں گے ان ضرورےات کے حصول کے بعد وہ بچوں کی شادےوں کے فراءض سے تو ضرور سبکدوش ہو جاتے ہےں اور مکانوں کے کراےہ ادا کرنے کے بوجھ سے بھی نجات حاصل کر لےتے ہےں لےکن ان کے پاس گزارے کےلئے جو تھوڑی بہت پونجی بچتی ہے وہ اسے نےشنل ڈےفنس کی منافع سکےموں مےں لگا کر اپنے سانسوں کا زندگی کے ساتھ رشتہ برقرار رکھتے ہےں ۔ قومی بچت کی سکےموں مےں رےٹائرڈ ملازمےن کے علاوہ بوڑھے لوگ ،ےتےم اور بےوہ خواتےن جن کا اور کوئی ذرےعہ آمدن نہےں ہوتا اور نہ کوئی کاروبار کرنے کی صلاحےت و ہمت رکھتے ہےں اور نہ ہی اس رسک کا اندےشہ لے سکتے ہےں اپنی رقوم جمع کراتے ہےں ۔ حکومت نے قومی بچت سکےموں کے منافع کی شرح مےں کمی کر دی ہے جبکہ اس تبدےلی کی دعوے دار حکومت سے توقع تو ےہ تھی کہ چھوٹی چھوٹی بچت والوں کی شرح منافع مےں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کےا جائے گا تاکہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے مےں ان سفےد پوش گھرانوں کو تھوڑا رےلےف مل سکے اور ان کا گزارہ نسبتاً آسانی سے ہو سکے لےکن اب دوسری مرتبہ منافع کی شرح مےں کمی کر دی گئی ہے ۔ پہلے گزشتہ سال نومبر مےں منافع مےں کمی کی گئی تھی اب رواں ماہ منافع پھر کم کر دےا گےا ہے جس سے ان سکےموں مےں سرماےہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے ۔ ان سکےموں مےں سرماےہ کاری کرنے والے لوگوں کو اب تک اےک لاکھ روپے کی سرماےہ کاری کرنے پر 1400 روپے ملا کرتے تھے ،لےکن شرح منافع کم ہونے کے بعد نئے سرماےہ کاروں کو اےک ہزار روپے منافع ملے گا ۔ دنےا بھر مےں حکومتےں نجی بچتوں کی شرح مےں منافع کےلئے غےر معمولی ترغےبات دےتی ہےں اور وہاں ےہ بچتےں قومی خزانے اور قومی معےشت کےلئے رےڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتی ہےں ۔ بچتوں کی اےسی سکےمےں ہمارے ہاں ہی نہےں بلکہ بھارت،جرمنی اور جاپان مےں بھی ہےں لےکن ہمارے ہاں آئی اےم اےف اور اےف اے ٹی اےف ان سکےموں کے خاتمے کے درپے ہےں ۔ پاکستان اےسے ممالک جہاں لوگوں کی آمدنی کی شرح کم ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراط زر نے ان کی بچتوں کی شرح کو پہلے ہی بے حد متاثر کر دےا ہے ۔ بہتر تو ےہ تھا کہ عوام کا سرماےہ محفوظ کرنے کےلئے قومی بچت سکےموں کو پر کشش بناےا جاتا لےکن ماضی سے لے کر تا حال ہمےشہ بچت کے جذبے کا گلا گھونٹنے پر اکتفا کےا گےا ۔ جی ڈی پی کسی ملک کی ترقی جانچنے کا اےک پےمانہ ہے گو اقتصادےات مےں اب اس کی اتنی اہمےت نہےں ہے لےکن پھر بھی اسے اہمےت دی جاتی ہے اس وقت صورت حال ےہ ہے کہ چےن اور بھارت دونوں کی گروتھ رےٹ پاکستان کے مقابلے مےں کہےں زےادہ ہے بےنک فار انٹر نےشنل کے سپلےمنٹ کے چےف اےگزےکٹو نے کہا تھا کہ پاکستان مےں بچت کی شرح دنےا مےں سب سے کم ہے سرماےہ کاری کےلئے اس مےں اضافے کی شدےد ضرورت ہے ۔ دوسری طرف روپے کے مقابلے مےں ڈالر 152کی سطح پر جا پہنچا جبکہ ےورو اور برطانوی پونڈ کی قدر مےں بھی اضافہ کا رجحان ہے اےسی صورت مےں تو حکومت کو چاہیے کہ وہ قومی بچت سکےموں کو پر کشش بنائے تا کہ ملک کاسفےد پوش طبقہ مہنگائی کا دباءو برداشت کر سکے ۔ موجودہ دور مےں تو بچت سکےموں مےں سرماےہ کاری کرنے والوں کی مشکلات مےں اور بھی اضافہ ہو گےا ہے ۔ ن بچت سکےموں پر منافع کی شرح شرمناک حد تک کم کرنا، مجبور اور بے بس طبقے کا قتل عام کرنے کے مترادف ہے ۔ ماضی مےں بھی ان سکےموں پر اتار چڑھاءو آتا رہا ۔ نواز شرےف عہد کے وزےر خزانہ سرتاج عزےز کے سر عزےز مےں سب سے پہلے ےہ اچھوتا خےال آےا کہ انہوں نے بےنکوں کے بچت کھاتوں کے منافع پر دس فےصد ود ہولڈنگ ٹےکس عائد کر دےا پھر ےہ شرف بھی نواز شرےف حکومت کو ہی حاصل ہوا کہ دو مرتبہ قومی بچت سکےموں کے نفع مےں کمی کی گئی اور موثر بہ ماضی ود ہولڈنگ ٹےکس کا نادر شاہی حکم جاری کےا گےا ۔ ماضی مےں سےلف ڈےفنس سےونگ مےں لگائی گئی رقم پہلے دس سال بعد پانچ گنا ہوا کرتی تھی اب ےہ دس سال بعد تےن گنا ہوتی ہے پہلے ےہ آمدنی ٹےکس سے مستثنیٰ تھی بلکہ اس طرح لگائی گئی رقم پر معمول کے انکم ٹےکس مےں بھی رعاےت ملتی تھی لےکن اب ےہ رقم انکم ٹےکس کی زد مےں ہے ۔ قومی بچت کا ادارہ حکومت کےلئے عوام سے رقوم حاصل کرنے کا بہترےن ذرےعہ ہے اس پر جو منافع ادا کےا جاتا ہے وہ افراط زر کے مقابلے مےں کم ہے ۔ ماضی مےں جب بےنکوں کی تعداد بھی کم تھی حکومت نے عوام کو بچت کی عادت ڈالنے کےلئے ڈاک خانوں مےں سےونگ بےنک کا شعبہ قائم کےا جہاں دو روپے کے حساب سے اکاءونٹ کھولا جا سکتا تھا اور اس پر اےک اعشارےہ پانچ ےا دو فےصد سالانہ منافع ملا کرتا تھا پھر بھی کئی کروڑ کی رقم جمع کی جاتی تھی ۔ پاکستان کے معرض وجود مےں آنے پر چند بےنک اور محدود ڈاک خانے بےنکاری نظام کو چلا رہے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ بتدرےج ان کی تعداد بڑھتی گئی اور ان مےں روپےہ جمع کرانے کی مد مےں اضافہ ہوتا چلا گےا اس نظام کو منظم کرنے اور اور فروغ دےنے کےلئے حکومت نے وزارت مالےات کے تحت سنٹرل ڈائرےکٹرےٹ آف نےشنل کا محکمہ بناےا جو وقتاً فوقتاً ،مدت کے لحاظ سے مختلف سکےموں کا اجراء کرتا جا رہا ہے ان کو نےشنل سےونگ سکےم کہا جاتا ہے ان مےں مختلف اوقات مےں ردوبدل ہوتا رہا بعض سکےموں کو ختم کر دےا گےا اور چند نئی سکےمےں شروع کی گئےں اس وقت ڈےفنس سےونگ سرٹےفےکےٹ ،سےونگ اکاءونٹ ،پنشنرز بےنےفٹ اکاءونٹ اور انعامی بانڈز کی سکےمےں زےر عمل ہےں ۔ 1972ء مےں قائم ہونے والے قومی بچتوں کے اس ادارے کے قےام کا اےک مقصد عوام کو کو آپرےٹو بےنکوں کی لوٹ کھسوٹ سے بچانا بھی تھا ۔ قومی بچتوں کے اس ادارے مےں اس وقت 44ارب روپے کی سرماےہ کاری ہو چکی ہے جو کہ اےک رےکارڈ ہے ۔ اس وقت ملک کے چاروں صوبوں مےں قومی بچت کی 336 برانچےں کام کر رہی ہےں جن مےں تقرےباً چھ ہزار ملازمےن خدمات انجام دے رہے ہےں اور صارفےن کی تعداد کے مقابلے مےں ان ملازمےن کی تعداد بہت کم ہے جس کی وجہ سے اےک صارف کو منافع کے حصول کےلئے کڑے انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑتا ہے ۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران کوئی نئی بھرتی بھی نہےں ہوئی اور صارفےن کی تعداد مےں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔ اگر قومی بےنکوں کے مقابلے مےں قومی بچت مےں کام کرنے والے ملازمےن کو ملنے والی مراعات کا موازنہ کےا جائے تو ان اداروں کے ملازمےن کو ماسوائے تنخواہ کے کوئی دوسری سہولت مےسر نہےں ےہ ادارہ معاشی بد حالی کی صورت مےں حکومت پاکستان کو چلانے کےلئے کم لاگت مےں مدد دے رہا ہے ۔ اےٹمی دھماکے کے بعد جب سرماےہ ملک سے بھاگ رہا تھا تو بھی قومی بچت کا ادارہ ملک کی مدد کو آےا اور142ارب دے کر ملک کو آزاد کراےا ۔ ان اداروں کو سہولتےں بہم پہنچانے ،کارکنوں اور ملازمےن کےلئے بہتر پےکےج دےنے کی ضرورت ہے تا کہ ان کے کام جذبے اور لگن کو مزےد جلا مل سکے اور وہ خود کفےل ہو سکےں ۔ قومی بچت کے اداروں کا سارے سسٹم کو بھی کمپےوٹرائزڈ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ راقم کی ارباب اختےار سے پرزور اپےل ہے کہ تمام سکےموں پر شرح منافع کو بھی بہتر بناےا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں