شام کی صورتحال

14

شام میں موجودہ جاری جنگ سے پہلے وہاں کے عوام بے روز گاری، بڑے پیمانے پر بد عنوانیوں کرپشن، سیاسی آزادی نہ ہونے اور بشار اسد حکومت کو عوام کو دبانے اور ان پر ظلم کی شکایات عام تھیں۔مارچ 2011 میں شام کے عوام بھی جمہو ریت اور عرب سپرنگ سے مٹا ثر ہوکر شام کے شہر دیرہ میں مظاہرے شروع ہوئے ۔ بشار الاسد حکومت نے عوام کو دبانے کیلئے زور طاقت کا بے تحا شا استعمال کیا۔جسکے نتیجے میں پورے ملک میں بشار الاسد اور انکے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے ۔ جوں جوں حالات خراب اور بگڑتے جا رہے تھے تو حکومت مخالف قوتوں نے بھی اپنی حفاظت میں ہتھیار اُٹھانا شروع کئے اورعام لوگ اپنے اپنے علاقوں سے قانون نا فذ کرنے والے اداروں کو نکلنے کے لئے بر سر پیکار ہوئے۔بشار الاسد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ بیرونی قوتوں کی مدد سے ملک میں جاری دہشت گر دی اور انتہا پسندی کو کچلے گے۔ اور وطن عزیز میں امن و آمان قائم رکھنے کے لئے پو ری کو شش کی جائے گی۔ وقت کے ساتھ حالات مزید بگڑتے جا رہے تھے اور سول وارجیسی صورت حال پیدا ہوگئی۔ شام کی اس جنگ میں ایران،روس بشار اسد کی مدد کرتا ہے جبکہ امریکہ ، سعودی عرب اور دوسرے کئی ممالک با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔امریکہ سعودی عرب، فرانس، روس ایران اور دوسرے کئی ممالک کی بر ہ راست مدا خلت کی وجہ سے اور ان دو گروہوں کی سیاسی ، فوجی اور مالی مدد کی وجہ سے شام افغانستان کی وجہ سے بڑی طاقتوں کے لئے میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔ امریکہ شام اور بشار اسد کو کمزور اور ختم کرنے کے لئے اور اسرائیل کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اگر مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ شام میں حزب للہ ہے، جنہوں نے ہمیشہ اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔ جبکہ ایران شام جیسے سُنی ملک کے شیعہ حکمران بشار اسد کو بچانے کیلئے کو شاں ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن کے بُہت سارے عوام شامی فو جیوں اور بشارت لاسدکے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہی ہیں۔اسی طر ح شام کی حکومت اور بشار الاسد کو بچانے کے لئے روس نے 2015 میں شامی حکومت مخالف قوتوں پر ہوائی حملے کئے۔ اور اسی طرح امریکہ اور دیگر کئی ممالک با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔اسی طر ح ایران کی حکومت شامی حکومت اور بشار الاسد کو بچانے کے لئے فوجی اور مالی امداد ، فوجی مشیر اور رعایتی نر خوں پر ہتھیار بھی دے رہے ہیں۔شام ایران کا قریبی اتحادی ہے کیونکہ ایران لبنان میں شیعہ جہادی گروہوں کو شام کے راستے مختلف قسم کی چیزیں فراہم کر رہے ہیں۔شام میں تُرکی بھی با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو وہ بھی با غیوں یا حکومت مخا لگ گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔ اور انکی پو ری پو ری کو شش ہے کہ شام میں ایران کا راستہ ہر حالت میں روکا جائے۔ بد قسمتی سے اس جا ری جنگ کی وجہ سے اب تک تقریباً 5 لاکھ لوگ لُقمہ اجل بن گئے ہیں۔ 63 لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور شامی آبادی کا 10 فی صد لوگ ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق شام کے 13 ملین لوگوں کو بنیادی سہولیات کیلئے تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ شام میں تقریباً 85 فی صد عوام غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گرانے پر مجبور ہیں۔ اس خا نہ جنگی کو ختم کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے سلامتی کو نسل نے 2012 کے جنیوا کے اعلامیہ کے نفا ذ کے لئے کہا جس کا مقصد ایک کثیر الاقوامی با ڈی بنا نا جسکے پاس تمام اختیارات ہونگے اور جو باہمی افہام و تفہیم سے بنایا جائے گا مگر شام کی حکومت نے اس وجہ سے اس پر بات کرنے سے انکار کیا کہ بات چیت میں اپوزیشن کے مطالبات پر گفت و شنید نہیں ہوگی۔اسکے بعد 2015 میں امریکہ بے ایک کمیٹی بنائی جسکا مطلب دشمنی کو ختم کرنا ہے ۔ اور اس میں جہادی گروہوں کو شامل نہیں کیا جائے گا مگر یہ اُس مہینے ختم ہوگئی۔ اپا لو کے فال کے بعد جنوری 2017میں قازقستان میں قازقستان نے شامی حکومتی اہلکاروں اور با غیوں کے درمیان با لمشافہ بات چیت کا آغاز کیا ۔ مگر وہ بھی ناکام ہو گیا۔اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو مسلمان ممالک کی اس قسم کی بے اتفاقی مسلم اُمہ کو نُقصان پہنچ رہا ہے۔ ا
*****