کالم

شاہ ولی اللہ اور آج کے سیاسی فتنوں میں علما ء کا کردار

شاہ ولی اللہ دہلوی کی علمی، روحانی اور اصلاحی شخصیت برصغیر کی تاریخ میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا دور سیاسی انتشار، فکری انحطاط، فرقہ واریت اور زوالِ مسلمانی کا زمانہ تھا۔ مگر اس بدترین ماحول میں بھی انہوں نے امت کو جوڑنے، فکری توازن پیدا کرنے اور دین کو اس کی اصل بنیادوں کی طرف واپس لانے کی جدوجہد کی۔ آج جب ہم اپنے اردگرد کے سیاسی اور مذہبی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہی زوال، وہی انتشار، وہی باہمی نفرت اور وہی خانہ جنگی ایک نئی شکل میں ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج کے دور میں فتنے زیادہ پیچیدہ، زیادہ گہرے غور زیادہ منظم ہیں جبکہ علم کی روشنی اور کردار کی قوت کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔شاہ ولی اللہ دہلوی کا بنیادی پیغام اعتدال، حکمت اور اتحاد تھا۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ امت کا اختلاف کبھی تو علمی ہوتا ہے اور کبھی نفسیاتی یا سیاسی۔ علمی اختلاف رحمت بن سکتا ہے اگر اسے دل کی دشمنی میں نہ بدلا جائے، لیکن سیاسی اختلاف ہمیشہ انتشار پیدا کرتا ہے اگر اس میں انا، مفاد اور طاقت کی کشمکش شامل ہو جائے۔ آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں اختلاف علمی نہیں رہا، بلکہ سیاست، گروہ بندی، مسلکی برتری، شہرت اور اثر و رسوخ کی جنگ نے مذہبی طبقات میں ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں جنہوں نے معاشرے کے ہر حصے کو متاثر کیا ہے۔ہمارے دور کے بہت سے علما اپنی اصل ذمہ داری لوگوں کو جوڑنا، دین کی سچی رہنمائی دینا، اور امت کا فکری و اخلاقی معیار بلند کرنا سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ منبر جس کا مقصد لوگوں میں محبت، انصاف، عدل اور حکمت پیدا کرنا تھا، بعض جگہوں پر تقسیم کا ذریعہ بن چکا ہے۔ مساجد جو اتحاد کا مرکز تھیں، وہ کہیں کہیں سیاسی بیانیوں، مسلکی فتوں اور گروہی ترجیحات کے زیر اثر آ چکی ہیں۔ بعض علما تو چند ٹکوں کے عوض جاسوسی اور چاپلوسی بھی کرتے ہیں آج مذہبی گفتگو میں علم کم اور جذبات زیادہ ہیں تحقیق کم اور الزام تراشی زیادہ ہے دلیل کم اور سیاسی طرف داری زیادہ ہے یہ سب کچھ امت کے اجتماعی ضمیر کو زخمی کر رہا ہے ۔شاہ ولی اللہ نے فتوے کو ایک امانت قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک فتوی دین کی تشریح کا وہ درجہ ہے جس میں تقوی ذمہ داری اور علمی دیانت سب سے بڑھ کر ضروری ہیں۔ مگر آج کے حالات میں فتوی بعض حلقوں کے ہاتھ میں ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ کہیں کسی مخصوص جماعت کے حق میں فتوے دیئے جاتے ہیں، کہیں مخالفین کے خلاف۔ اس طرح فتوے کو نہ صرف کمزور کیا جا رہا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہو رہا ہے۔ لوگ اب نہیں جانتے کہ کون سا فتوی دین کی بنیاد پر ہے اور کون سا حالات، دبا یا کسی مفاد کی بنا پر۔شاہ ولی اللہ نے ہمیشہ توجہ دلائی کہ دین کو دنیاوی مفادات کا ذریعہ بنانا امت کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے علمائے کرام کو اس بات سے خبردار کیا کہ دنیا، سیاست اور طاقت کے کھیل میں پڑ کر دین کی روح کو نقصان نہ پہنچائیں۔ مگر آج کے دور میں بعض علما سیاسی جماعتوں کے قریب، بعض حکومتوں کے ہمنوا، اور بعض کسی نہ کسی طاقتور حلقے کی زبان بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتِ حال نے عوام میں شدید ذہنی انتشار پیدا کیا ہے۔ لوگ سمجھ نہیں پا رہے کہ کون سا عالم محض دین کا ترجمان ہے اور کون سا کسی ایجنڈے یا ایجنسی کا – یہ دھندلاپن معاشرتی بگاڑ کو مزید بڑھا رہا ہے۔شاہ ولی اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ امت کے زوال کی وجہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ اندرونی اختلافات ہیں۔ آج اگر ہم اپنی مساجد، مدارس، ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا کے ماحول کو دیکھیں تو ہمیں یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ علمائے کرام کے درمیان تلخ زبان، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات، اور چھوٹے چھوٹے اختلافات کو جنگ کی شکل دینے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال شاہ ولی اللہ کی فکر سے سیدھی متصادم ہے۔ اختلاف رائے ایک حد تک ضروری ہے، مگر اسے تکفیر، توہین اور ذاتی حملوں تک لے جانا نہ دین ہے نہ اخلاق۔عوام کی ایک بڑی تعداد نے بھی جذباتی وابستگیوں کی وجہ سے وہ شعور کھو دیا ہے جس کی شاہ ولی اللہ نے ہمیشہ تاکید کی تھی۔ عوام کی وابستگی عالم کے علم اور کردار کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ اس کی آواز، اس کے لہجے یا اس کے گروہ کے ساتھ۔ مگر بدقسمتی سے آج لوگ اپنی پسند کے علما کو معصوم سمجھتے ہیں اور دوسرے مسلک یا گروہ کے علما کو برا۔ یہی سوچ امت کو مزید تقسیم کرتی ہے۔ اگر عوام باشعور ہو جائیں، فتنے خود بخود مٹنے لگتے ہیں۔آج کے حالات ہمیں ایک نئے فکری احیا کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ ایسے علما کی ضرورت ہے جن کی زبان میں سختی نہیں بلکہ حکمت ہو، جن کی گفتگو میں نفرت نہیں بلکہ خیرخواہی ہو، جن کی ترجیح سیاست نہیں بلکہ دین ہو، اور جن کی دیانت لوگوں کو متاثر کر سکے۔ شاہ ولی اللہ نے اسی معیار کا عالم پیش کیا تھا جو لوگوں کو جوڑتا ہے اور ان کے اخلاق کو بہتر بناتا ہے۔ اگر ہمارا مذہبی طبقہ اس معیار کو اپنائے تو امت کا بگڑتا ہوا سفر پلٹ سکتا ہے۔سیاسی فتنوں کے اس دور میں سب سے بڑی ذمہ داری علما پر ہے، مگر ساتھ ہی عوام پر بھی ہے کہ وہ دین کو جذباتی نعرے کی طرح نہ لیں بلکہ علم، اخلاق، تحقیق اور حکمت کے ساتھ سمجھیں۔ امت اس وقت متحد ہو سکتی ہے جب علمائے کرام اپنی اصل حیثیت میں واپس آئیںاصلاح کرنے والے، سکھانے والے، جوڑنے والے اور قوم کے فکری نگہبان۔شاہ ولی اللہ دہلوی کا پیغام آج بھی زندہ ہے، مگر اس پیغام کو عملی شکل دینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔اگر ہم نے آج بھی نہ سمجھا تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے