Site icon Daily Pakistan

صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف اور بدلتا عالمی منظرنامہ

عالمی سیاست غیر یقینی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت، سفارت کاری اور بیانیہ تینوں آپس میں گتھم گتھا نظر آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ٹرمپ کی مقبولیت کا جائزہ لینا محض ایک سیاسی تجزیہ ہی نہیں بلکہ عالمی رجحانات کو سمجھنے کی کوشش بھی ہے۔ امریکہ میں ان کی مقبولیت 35سے 40فیصد کے درمیان سمجھی جا رہی ہے۔ یورپ میں یہ شرح 15 سے 20 فیصد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جبکہ عالمی اوسط 30سے 35فیصد کے درمیان بتائی جاتی ہے یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی حمایت مضبوط ضرور ہے مگر وسیع بالکل نہیں اور یہ بتدریج کم ہورہی ہے ۔
جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو روس اور یوکرائین کی جنگ کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں ۔ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران دعوی کیا تھا کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی جنگ کو 24گھنٹوں میں رکوا دیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کے اثرات یورپ کی سلامتی اور عالمی معیشت پر بدستور مرتب ہو رہے ہیں اور لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں یورپ میں بے چینی اسی لیے زیادہ ہے کہ انہیں ٹرمپ سے فوری اور واضح سفارتی کامیابی کی توقع تھی جو بالکل پوری نہ ہو سکی حتی کہ ٹرمپ نے یوکرائن کی فوجی امداد بھی بند کردی ۔اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں Gaza Strip کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال بنی ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے یکطرفہ غزہ امن کے لیے ایک پیس بورڈ کا تصور پیش کیا اس کا پہلا اجلاس بھی ہوچکا مگر یہ منصوبہ ابتدا ہی سے متنازع، مبہم اور نامکمل سمجھا گیا ہے ۔عالمی برادری کی ایک بڑی تعداد نے اسے اس لیے مسترد کیا کہ اس میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی واضح کوئی بات شامل نہیں تھی۔ ٹرمپ حماس کی مذمت ضرور کرتے ہیں اسے غیر مسلح کرنے پر زور دیتے ہیں مگر وہ اسرائیلی جارحیت پر نسبتاً نہ صرف خاموش دکھائی دیتے ہیں بلکہ اس کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح غزہ پر بمباری نے پورے علاقے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ایک اندازے کے مطابق 70 ہزار افراد سے زائد افراد کو شہید کردیا گیا جن میں بچے بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں کیا یہ سب حماس کے مسلح لوگ تھے ۔پھر اسرائیل یا وزیراعظم نتین یاہو کی سزا کیا ہے؟ٹرمپ کے بارے میں ایک تاثر تیزی سے عام ہو رہا ہے کہ وہ انیسویں صدی کے امپیریلسٹ طرزِ فکر کے حامل رہنما ہیں یعنی طاقت کی سیاست پر یقین رکھنے والے جو طاقتور کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور طاقت کے بل پر اپنے مفادات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں میں سفارتکاری سے زیادہ دبا اور طاقت کا عنصر نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور کئی دیگر خطوں میں ان پر اعتماد کم ہوا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی بعض پالیسیوں کو خود امریکہ کے اندر بھی دھچکا لگا۔ حالیہ تجارتی ٹیرف کے فیصلوں کو امریکی سپریم کورٹ کے چھ ججوں نے ان کی ٹیرف پالیسی کو زمین بوس کردیا کالعدم قرار دیا اس فیصلے نے نہ صرف انتظامیہ کو قانونی چیلنج دیا بلکہ سیاسی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی۔ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل دیا اور ججوں کو تنقید کا نشانہ بنایا حتیٰ کہ انہیں بیوقوف تک کہہ ڈالا۔ اس طرزِ بیان نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھایا اور اعتدال پسند طبقے میں تشویش پیدا کی۔ٹرمپ پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی تعریف سننا پسند کرتے ہیں اور تنقید کو برداشت نہیں کرتے انکے پچھلے دور میں نریندرمودی انکی تعریف کرنے کے ماہر سمجھے جاتے تھے جبکہ دور میں شہبازشریف نے انکی تعریفوں کے پل باندھ دئیے ہیں لیکن پاکستان نے ان تعریفوں سے کیا حاصل کیا کچھ پتہ نہیں نہ ٹیرف میں کمی ہوئی نہ سرمایہ کاری پاکستان آئی نہ ہی امریکہ کی امیگریشن پالیسی پاکستانیوں کیلئے نرم ہوئی۔ ٹرمپ کی تقاریر میں اکثر اپنی کامیابیوں کا ذکر نمایاں ہوتا ہے جبکہ مخالفین اسے انا پرست اور خود پسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے کی بات ضرور کرتے ہیں دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی یا کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے وعدے کو عملی شکل بھی نہیں دے سکے۔ نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان مکمل دوطرفہ تعلقات بحال کروا سکے۔ جنوبی ایشیا میں یہ سوال بدستور موجود ہے کہ اگر امریکہ ثالثی کی پیشکش کرتا ہے تو پھر عملی پیش رفت کیوں نہیں ہوتی۔یورپ کے تناظر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھا اور دفاعی اخراجات پر اختلافات نے شکوک وشبہات کو جنم دیا۔ یورپی عوام کی اکثریت ایک مستحکم اور پیش گوئی کے قابل قیادت چاہتی ہے جبکہ ٹرمپ کا انداز اکثر غیر متوقع سمجھا جاتا ہے۔ یہی غیر یقینی ان کی مقبولیت کو محدود کرتی ہے ٹرمپ نے یورپ کو دھمکی دی تھی کہ ڈنمارک کا حصہ گرین لینڈ اگر امریکہ کے حوالے نہ کیا گیا تو امریکہ فوجی کارروائی کریگا اور ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔امریکہ کے اندر بھی معیشت، مہنگائی، امیگریشن اور سماجی تقسیم جیسے مسائل یا عوامل بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے حامی سخت سرحدی کنٹرول اور معاشی قوم پرستی کو کسی حد تک سراہتے ہیں مگر مخالفین کے نزدیک یہ پالیسیاں سماجی ہم آہنگی اور عالمی ساکھ کیلئے نقصان دہ ہیں۔یوں مجموعی تصویر ایک ایسے رہنما کی بنتی ہے جو اپنے حامیوں کیلئے طاقت اور خود اعتمادی کی علامت ہے مگر مخالفین کے نزدیک تقسیم اور تنازع کا باعث۔ عالمی سطح پر ان کی مقبولیت کا گراف اسی تضاد کی عکاسی کرتا ہے امریکہ میں مضبوط مگر محدود حمایت، یورپ میں کم ترین سطح، اور دنیا بھر میں ملے جلے رجحانات ۔ آنے والا وقت فیصلہ کریگا کہ آیا ٹرمپ عالمی تنازعات میں کوئی بڑی پیش رفت کر کے اپنے وعدوں کو پورا کر پائیں گے یا نہیں۔ فی الحال جب یوکرین جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے، غزہ میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکا، اور یورپ میں بے یقینی برقرار ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مقبولیت کا گراف وعدوں اور نتائج کے درمیان فاصلے کی کہانی سنا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت میں ایران پر طاقتور بم برسائے اور وہ اسے مسلمان ممالک کے سربراہوں کی موجودگی میں اپنی کامیابی ظاہر کرتے ہیں اور مڈل ایسٹ میں ایران پر حملہ کرنے کیلئے 2003کے بعد سب سے بڑا فوجی ساز و سامان اکٹھا کررہے ہیں تاکہ ایران پر حملہ کیا جائے یا ایران کو ڈرا دھمکا کر اس کو سرنڈر کیا جائے اگر جمعرات کو عمان میں ہونے والے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے ایک اور جنگ ہوگی جس سے معصوم لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہونگے ۔

Exit mobile version