Site icon Daily Pakistan

صہیونیت کی تحریک اسرائیل کا قیام اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی

صہیونیت ایک سیاسی اور قومی تحریک ہے جس نے بیسویں صدی کی عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے اور آج بھی مشرقِ وسطی کے حالات کو سمجھنے میں اس کا اہم کردار ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن قائم کیا جائے جہاں وہ اپنی مذہبی، ثقافتی اور قومی شناخت کے ساتھ محفوظ اور خود مختار زندگی گزار سکیں۔ صہیونیت کی تحریک کا زکر تفصیل سے کرنے سے پہلے اس سوال کو سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل کا قیام فلسطینی ریاست پر کیوں کیا گیا یا یہودیوں نے یہاں کا رخ کیوں کیا۔ دراصل یہودی مذہبی روایات کے مطابق یروشلم اور اس کے اطراف کا علاقہ انبیائے کرام حضرت موسی علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام اور قدیم عبادت گاہوں کی سرزمین سمجھا جاتا ہے اور ہیکلِ سلیمانی بھی اسی شہر میں واقع تھا جسے یہودی مذہبی اور قومی شناخت کی علامت تصور کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر تقریبا دو ہزار سال قبل رومی سلطنت کے دور میں یہودیوں کی بڑی تعداد کو اس خطے سے بے دخل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں منتشر ہو گئے۔ اسی تاریخی بیدخلی اور مذہبی وابستگی کے باعث صدیوں بعد صہیونیت کی تحریک کے تحت فلسطین کو یہودی قومی وطن کے قیام کے لیے منتخب کیا گیا۔ صہیونیت کی تحریک انیسویں صدی کے آخر میں یورپ میں شروع ہوئی اور بالآخر 1948میں اسرائیل کے قیام کی صورت میں اس کا ایک بڑا مرحلہ مکمل ہوا تاہم اس کے نتیجے میں خطے میں ایک طویل سیاسی اور جغرافیائی تنازع بھی پیدا ہو گیا جو آج تک جاری ہے اسراییل کے قیام کے بعد جو جنگ جدل شروع ہوئی اس کے شعلے آج تک لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بھسم کرچکے ہیں ۔لفظ صہیون دراصل یروشلم کے ایک تاریخی پہاڑ یا مقام کا نام ہے جس کا ذکر یہودی مذہبی روایات میں ملتا ہے۔ یہودی تاریخ میں اس جگہ کو روحانی اور قومی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے اسی نسبت سے جب یہودیوں کیلئے ایک قومی وطن کے قیام کی تحریک سامنے آئی تو اسے صہیونیت کہا جانے لگا اور اس نظریے کے حامیوں کو صہیونی کہا گیا ۔ انیسویں صدی میں یورپ کے مختلف ممالک میں یہودیوں کو امتیازی سلوک اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کئی جگہوں پر یہودیوں کو سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا اور ان کیخلاف تشدد کے واقعات بھی پیش آتے تھے ان حالات نے بہت سے یہودی دانشوروں اور رہنماں کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کیا کہ اگر یہودیوں کے پاس اپنی ریاست ہوگی تو وہ زیادہ محفوظ اور خود مختار زندگی گزار سکیں گے۔ اسی سوچ نے صہیونیت کی تحریک کو جنم دیا۔صہیونیت کی تحریک کو منظم شکل دینے کا سہرا آسٹریا کے ایک یہودی صحافی اور مفکر تھیوڈور ہرزل کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے 1896میں اپنی کتاب The Jewish State میں یہ نظریہ پیش کیا کہ یہودیوں کے مسائل کا مستقل حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کے پاس اپنی ایک خود مختار ریاست ہو۔ ہرزل کی کوششوں کے نتیجے میں 1897 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل میں پہلی صہیونی کانگریس منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر سے یہودی نمائندے شریک ہوئے اور فلسطین میں یہودی قومی وطن کے قیام کیلئے ایک منظم سیاسی تحریک شروع کی گئی۔بیسویں صدی کے آغاز میں یورپ اور دیگر علاقوں سے یہودیوں کی فلسطین کی طرف ہجرت شروع ہو گئی۔ اس وقت فلسطین سلطنت عثمانیہ کے زیرِ اقتدار تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی فلسطین برطانیہ کے کنٹرول میں آ گیا اور اسے برطانوی مینڈیٹ کے تحت چلایا جانے لگا۔ 1917میں برطانیہ نے بالفور اعلامیہ جاری کیا جس میں فلسطین میں یہودی قومی وطن کے قیام کی حمایت کی گئی۔ اس اعلان نے صہیونیت کی تحریک کو مزید تقویت دی اور فلسطین میں یہودی آبادکاری کا عمل تیز ہو گیا۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی کی طرف سے کیے گئے ہولوکاسٹ میں لاکھوں یہودی مارے گئے۔ اس سانحے نے عالمی رائے عامہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور بہت سے ممالک میں یہودیوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی حمایت بڑھ گئی۔ اسی پس منظر میں اقوام متحدہ نے 1947 میں فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ عرب قیادت نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا جبکہ یہودی قیادت نے اسے قبول کر لیا۔14 مئی 1948 کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اسرائیل کے قیام کے فورا بعد ہی عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہو گئی جسے 1948کی عرب اسرائیل جنگ کہا جاتا ہے۔اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کے تقسیم منصوبے سے زیادہ علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اسی دوران تقریبا سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے یا انہیں نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ فلسطینی اس واقعے کو نکبہ یعنی تباہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اسرائیل کے قیام کے بعد مشرقِ وسطی میں کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی۔ 1956میں مصر، اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کے درمیان سوئز بحران پیدا ہوا۔ اس کے بعد 1967میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان ایک اور بڑی جنگ ہوئی جسے چھ روزہ جنگ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) مشرقی یروشلم، غزہ، گولان کی پہاڑیاں اور سینائی جزیرہ نما پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں مصر کو سینائی کا علاقہ واپس مل گیا لیکن دیگر علاقوں کا تنازع آج بھی جاری ہے۔خاص طور پر مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری ایک بڑا متنازع مسئلہ بن گئی ہے۔ اسرائیل نے ان علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر شروع کی جس پر فلسطینیوں اور عالمی برادری کے کئی حلقوں نے اعتراض کیا۔ فلسطینیوں کا موقف ہے کہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا اور ان کی آبادی کو محدود علاقوں میں دھکیل دیا گیا۔ دوسری طرف اسرائیل کا مقف ہے کہ یہ علاقے اس کی سلامتی اور تاریخی حق سے جڑے ہوئے ہیں۔اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کے باعث کئی بار جھڑپیں، انتفاضہ تحریکیں اور جنگی حالات پیدا ہوئے۔ فلسطینی علاقوں میں سیاسی اور انسانی صورتحال بھی بڑا عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ لاکھوں فلسطینی مہاجر کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے اپنے وطن واپسی کے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وقت کے ساتھ کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے بھی کیے۔ مثال کے طور پر مصر نے 1979 میں اور اردن نے 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا۔ حالیہ برسوں میں کچھ دیگر عرب ممالک نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں، لیکن فلسطین کا مسئلہ اب بھی خطے کی سیاست کا سب سے اہم اور حساس موضوع ہے۔آج مشرقِ وسطی کی سیاست، عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات میں اسرائیل اور فلسطین کا تنازع ایک مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس تنازع کی جڑیں صہیونیت کی تحریک، اسرائیل کے قیام اور فلسطینی عوام کی زمین اور حقِ خود ارادیت کے سوال سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے اثرات عالمی سیاست، سلامتی اور انسانی حقوق کی بحث میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امریکہ کی مرضی سے70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتال دراصل انسانی تاریخ کا ایک ایسا المیہ ہے جو صدیوں تک مشرق وسطی میں دائمی امن میں رکاوٹ رہے گا 28 فروری 2026 کو ایران پر اسرائیلی اور فوجی حملے کا پیس منظر بھی فلسطین اسرائیل تنازعے کا پیش خیمہ ہے جنگ ابھی جاری ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جسطرح اسرائیل کی ایماپر امریکہ کو اس غیر قانونی انسانیت سوز جنگ میں جھونکا ہے اس سے تجزیہ نگاروں کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی قائم کرنے کے سوا کچھ نہیں دکھائی دے رہی ہے قابل افسوس امر یہ ہے کہ وہ قوم جو خود یورپ سے بیدخل کی گئی وہ فلسطینی ریاست پر قبضہ جما چکی ہے اور اب فلسطینی ریاست عملی طور پر ختم کرچکی ہے اور مشرق وسطی میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر کاربند ہے اور دنیا کی واحد سپر پاور کو اپنی پالیسوں کے تحت چلا رہا ہے اس پاگل پن کو اگر نہ روکا گیا تو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ اس جنگ کو یہاں روکا جائے اور امن کے لئے کوشیش کی جائیں ۔

Exit mobile version