کہتے ہیں انتظار کرنے والوں کے دن بے قراری میں اور راتیں اختر شماری میں گزرتی ہیں۔ انتظار ایک ایسی کیفیت ہے جو بیک وقت دل کو بہلاتی بھی ہے اور روح کو زخمی بھی کرتی ہے۔ اگر کوئی اس مرحلے سے گزرا ہو تو وہ جانتا ہے کہ دن کیسے بوجھ بن جاتے ہیں اور راتیں ستارے گنتے گنتے ختم ہو جاتی ہیں۔ مگر آج یہ انتظار کسی ایک فرد کا نہیں رہا، یہ ایک پوری قوم کی مشترکہ حالت بن چکی ہے۔ معاشی آسودگی، سیاسی استحکام، انصاف اور سچ کے نظام کے انتظار میں پوری قوم کھڑی ہے کہ کب وہ صبح طلوع ہوگی کہ حق اور سچ کا بول بالا ہوگا اور سماجی انصاف کا غلبہ ہوگا۔مگر ترمیمات در ترمیمات نے عوام کو تو مایوس ہی کر دیا ہے اور انتظار کے ایک خاص درجے پر پہنچ کر آج مزدور ، نوجوان اور ملک کا عام شہری جو ہر انتخاب میں امید کا پرچم تھامے قطار میں کھڑا ہوتا ہیمیر تنہا کا یہ شعر گنگنانے پر مجبور ہیں۔
نہیں تابِ صبر باقی، بس اب انتظار کب تک؟
کوئی حد بھی ہے کروں میں تیرے انتظار کب تک؟
انتظار میں اذیت بھی ہے اور ایک عجیب سی لذت بھی، اسی لیے اسے ،،گُڑ کے اچار،، سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انسان کے اندر حبِ جمال کی صفت اسے بہتر کی تلاش پر آمادہ رکھتی ہے، یہی تلاش زندگی کو حرکت دیتی ہے۔ مگر جب انتظار کا کوئی منطقی انجام نہ ہو، جب ہر وعدہ اگلے وعدے پر ٹال دیا جائے، تو یہی کیفیت قنوطیت میں بدل جاتی ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اسی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں امید اور مایوسی آمنے سامنے ہیں۔آج کا بحران صرف معاشی نہیں، فکری بھی ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ ہے، تو دوسری طرف نوجوانوں کی مایوسی، ذہنی انتشار اور سماجی بے چینی۔ اس خلا کو شعور نے نہیں بلکہ فرقہ واریت، فتویٰ بازی اور نفرت آمیز بیانیوں نے پُر کر لیا ہے۔ فرد اپنی ذات تک محدود ہوتا جا رہا ہے، اجتماعی سوچ دم توڑ رہی ہے، اور مفاد پرستی کو دانش کا نام دے دیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ آج کا دور مشینوں کا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کا دور بند کمروں کے فیصلوں کا ہے۔ نظام سے جڑے دو طبقے پہل بن چکے ہیںایک وہ جو فیصلہ کرتا ہے، اور دوسرا وہ جو نتائج بھگتتا ہے۔ محنت کش صبح سے شام تک مشقت میں جُتا رہتا ہے، پسینہ بہاتا ہے، لائنوں میں کھڑا ہوتا ہے، اور پھر شام کو یہ جان کر گھر لوٹتا ہے کہ اس کی محنت، اس کا وقت اور اس کی رائے سب بے وزن ہیں۔اصل المیہ یہ نہیں کہ یہاں سچ لکھنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں سچ سننے کی سکت ہی ختم ہو چکی ہے۔ نوجوان مایوس ہیں، عوام تھکے ہوئے ہیں، ملک بے چینی، افراتفری اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے، مگر اس اجتماعی اضطراب کا علاج شعور کے بجائے فرقہ واریت، فتویٰ بازی اور نفرت کے بیانیوں سے کیا جا رہا ہے اور المیہ یہ ہے کہ جب ان فتوی فروشوں کا مفاد ہوتا ہے تو درباری کا کردار ادا کرتے ہوئے دربار میں ایک ہی مجلس میں وحدت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیںاور اسی طرح سے ایک عام اور سیدھے سادے فرد کو ذات میں قید کر دیا گیا ہے، مفاد پرستی کو دانش اور خاموشی کو حکمت کا نام دیا جا رہا ہے۔ عالمی استعمار کی بالادستی کے سائے میں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، مقامی چہرے صرف پردہ بدلتے ہیں، اور عوام کو جمہوریت کے نام پر قطاروں میں کھڑا کر کے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی رائے اہم ہے،حالانکہ فیصلہ کہیں اور، کسی اور فارم پر پہلے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور انتخابات جمہوریت کا تہوار کہلاتے ہیںمگر یہاں عوام کو صرف قطاروں کی زینت بنایا جاتا ہے۔ گھنٹوں لائنوں میں کھڑا کر کے ووٹ ڈلوایا جاتا ہے، اور پھر نتیجہ فارم پینتالیس کے بجائے فارم سینتالیس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے تو عوام کو دھوپ، بارش اور انتظار کی اذیت میں مبتلا کرنے کی منطق کیا ہے؟ کیا ووٹ اب رائے کا اظہار نہیں رہا، محض ایک رسمی عمل بن چکا ہے؟چونکہ جدت پسندی انسان کی فطرت میں شامل ہے، اس لیے وہ اس کیفیت کو ہمیشہ برداشت نہیں کرتا۔ تاریخ میں اہلِ قلم، شاعر اور نوجوان محض تماشائی نہیں رہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو پہلے سوال اٹھاتا ہے، پھر روایت کو چیلنج کرتا ہے، اور آخرکار جمود توڑتا ہے۔ سچ لکھنے کی قیمت ضرور ادا کرنی پڑتی ہے، مگر خاموشی کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وہ انقلابی شعور ہے جو قلم سے جنم لیتا ہے اور وقت آنے پر تاریخ کا رُخ موڑ دیتا ہے۔مولانا ظفر علی خان کا شعر آج بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔
گناہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
آج شاعر صرف لفظوں کا مجرم نہیں ہوتا، وہ سوال اٹھانے کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ اور سوال جب عام ہو جائے تو اقتدار کے ایوان لرزنے لگتے ہیں اور پھر شاعر بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ حالانکہ شاعر اور ادیب ہمیشہ سوال اٹھانے والے رہے ہیں۔ شاعر اور ادیب ہمیشہ سوال اٹھانے والے رہے ہیں۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، احمد فراز، عبدالغنی خان اور فخر زمان جیسے مزاحمتی اور انقلابی قلم کاروں کو ان کے نظریات اور سچ بولنے کی پاداش میں گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جاتا تھا، کیونکہ طاقت کے ایوان اختلاف اور سوال سے خائف رہتے تھے۔ سعادت حسن منٹوکو ناول( کالی شلوار )لکھنے پر ، حسرت موہانی،فیض احمد فیض۔علی سردار جعفری، مولوی ظفر علی خان،احمق پھپھوندوی ، قاضی نذر الاسلام کے بعض نظریات یا تنقیدی خیالات کو مختلف دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بین الاقوامی سطح پر، پابلو نیرودا، برتولت بریخت، آلبرٹ کامیو، جارج آرویل اور شارل بودلیر جیسے شعرا اور ادیب بھی اپنے وقت میں مزاحمت اور سچ کیلئے جیل یا جبر برداشت کر چکے اور کچھ پھانسیاں وغیرہ بھی دی گئیں۔ آج بھی شاعر اور ادیب اٹھائے جاتے ہیں، مگر طریقہ بدل چکا ہے۔ اب چونکہ آٹی کا دور ہے توان کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کیا جاتا ہے، انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ کون سا سچ بولنا ہے اور کون سا نہیں، اور پھر اس شرط پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آئندہ قلم کی سمت درست رکھی جائے ۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ قلم کو مکمل طور پر اپڈیٹ کبھی نہیں کیا جا سکا۔آج ملک ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں انتظار اب محض صبر نہیں رہا ۔ عوام مایوس ہیں، نوجوان بے چین ہیں، اور اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ چکا ہے اور اگر جبر کو حکمرانی کا مستقل ہتھیار بنائے رکھا گیا، تو یہ انتظار کسی نئے عنوان کے ساتھ ضرور ختم ہوگا جسے طلوع صبح سے بھی تعبیرکیا جاتا ہے۔
کالم
طلوع صبح کا انتظار، مگر کب تک؟
- by web desk
- جنوری 14, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 57 Views
- 5 مہینے ago

