ظفر اقبال کا ’’د ال د لیا‘‘

26

میرے زیرِ مطالعہ پاکستان کے ایک عظیم المرتبت مزاح نگار کے مزاحیہ کالموں کا مجموعہ موجود ہے اور یہ منفرد طرز و اسلوب کا لکھاری مجھے بڑی بلندی پر دکھائی دیتا ہے ۔ مجھے یہ لکھاری اُن لکھاریوں سے بڑا س لئے دکھائی دیتا ہے جس طرح برناڈشا کا قول بھی خود مصنف نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ وہ شیکسپیئر سے بڑا ادیب ہونے کا دعویدار تھا کہ وہ اُس کے کندھوں پر کھڑا ہے ۔ عالی مرتبت ظفر اقبال نے بھی اپنے آپ کو شفیق الرحمن، مشتاق احمد یوسفی اور عطاء الحق قاسمی سے بڑا مزاح نگار کہا ہے ۔ مجھے یہ فیصلہ نہیں کرنا ہے کہ ظفر اقبال چھوٹا یا بڑا مزاح نگار ہے البتہ آپ نے اپنے قاری کےلئے آسانیاں تخلیق کی ہیں ۔ آپ کے کالموں پر مبنی 63 پاروں کا جو نام رکھا گیا ہے یہ حلق سے نکلتا ہے او رخلق تک جاتا ہے ۔ ظفر اقبال صاحب مبارک باد کے اس لئے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ نے خلقِ خدا کی رائے کا احترام کیا ہے اور عوام کے دل کی بات کی ہے ۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ موتی لعل کی کوٹھی نہر کے کنارے پر تھی او رلوگوں نے موتی لعل کے ساتھ نہرو لگا دیا تھا اور آج خلق خدا کی رائے کا ہی احترام کیا جارہا ہے کہ نہرو ایک خاندان کی پہچان بن گیا جو لوگ خلقِ خدا کی رائے کا احترام کرتے ہیں اُن کا احترام خلقِ خدا کے اجتماعی ضمیروں میں بدرجہ اُتم موجود رہتا ہے ۔ پاکستان کی کل آبادی 22 کروڑ کے قریب ہے اور ہر پاکستانی کی زبان پر ’’دال دلیا‘‘ رہتا ہے ۔ مگر 22 کروڑ عوام کو ظفر اقبال کی کتاب دال دلیا نہیں پہنچائی جاسکتی نہ ہی اتنی تعداد میں شاءع کی جاسکتی ہے ۔ ہاں جدید عہد کے ابلاغی ویپن اس کے متحمل ہوسکتے ہیں کہ ظفر اقبال کی خوبصورت تحریروں کو زیادہ سے زیادہ نیٹ کے ذریعے عوام تک لوٹا دیا جائے کیونکہ ظفر اقبال کی تحریریں عوام کی امانت ہیں جس طرح پروفیسر انور مسعود نے عوام کے ہونٹوں سے نکلتی ہوئی باتوں کو لے کر واپس اُن کے کانوں تک پہنچانے کی کاوش کی ہے بالکل ایسے ہی ہمارے ظفر اقبال صاحب نے اپنے مشاہدے کی گہرائی اور تجربہ کی گیرائی سے عام بات کو قرینے اور سلیقے کا لبادا پہنا کر خاص بنا دیا ہے ۔ ظفر اقبال کے کالموں کو آپ بار بار پڑھیے دوگونہ لذت اور سہ گونہ لطف محسوس ہوگا کیونکہ آپ نے مزاح میں نثر لکھی ہے جو قاری کو ہنساتی ہے ۔ جس کے خلاف بھی لکھا گیا ہے وہ بھی ظفر اقبال کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ داد شاید نہ دیتا ہو ہنستا ضرور ہے کیونکہ مزاح ہنسنے اور طنز ڈسنے کا عمل ہوتا ہے ۔ ظفر اقبال کے سارے کالم ایک کارِ اعزاز کے زمرے میں آتے ہیں ۔ غفور شاہ قاسم نے تحقیق و تنقید میں پاکستانی ادب کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’مزاح ہنسنے اور طنز ڈسنے کا عمل ہے‘‘ ۔ مزاح ایک کارِ اعزاز ہے اور طنز ایک خارزار ۔ طنز پسماندہ معاشروں میں نشو و نما پاتا ہے اور مزاح خوشحال معاشروں میں پروان چڑھتا ہے ۔ شاعری میں جتنی وضع داری پردہ داری اور رکھ رکھاءو کا تکلف ہونا چاہیے ۔ طنز و مزاح میں اتنی بے تکلفی درکار ہوتی ہے پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اس میں پسماندہ اور خوشحال دونوں قسم کے طبقات موجود ہیں چنانچہ ہمارے ہاں طنزو مزاح کا سلسلہ قدم بہ قدم چلتا ہے ۔ عطاء الحق قاسمی بین الاقوامی شہرت یافہ مزاح نگار کالم نگار ہیں آپ ظفر اقبال کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں : ’’ظفر اقبال کی شاعری میری دیرینہ دوست ہے اس کے ساتھ میری محبت کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک شاءع ہونے والے تمام شعری مجموعوں کے علاوہ ان کے کالم کا بھی آغاز کالم کے آخر میں شاءع شدہ ان کی کسی غزل سے کرتا ہوں ، چاہے یہ شعر پہلے سے سنا بھی ہو پھر بھی پہلی محبت کالطف دیتا ہے ۔ مقطع کی سرشاری کے بعد ان کے کالم پڑھتا ہوں اور کالم پڑھنے کے دوران کبھی مجھ پرہنسی کا دورہ پڑ جاتا ہے اور کبھی بہت گہری سنجیدگی مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ یک سطحی تخلیق کا شمار کم ہی پڑھنے والوں میں ہوتا ہے ، جبکہ بڑے لکھنے والوں کی تحریر اپنے اندر کئی پرتیں لئے ہوتی ہے ۔ میں ظفر اقبال کو ہمہ جہت لکھاریوں میں شمار کرتا ہوں ۔ مجھے ظفر اقبال کی بے پناہ تخلیقی فراوانی پر رشک آتا ہے ۔ وہ ایک عرصے سے شاعری اور کالم نگاری میں مقدار اور معیار کا ریکارڈ قائم رکھنے میں کامیاب نظر آتے ہیں اور یاد رکھیں محض معیار کی اہمیت اپنی جگہ تاہم مقدار بھی آپ کو وکٹری اسٹینڈ پر کھڑا کرنے میں مدددگار ثابت ہوتی ہے ۔ ظفر اقبال کالموں میں نئے شعری مجموعوں پر اظہار خیال کرتے نظر آتے ہیں اور انہیں اپنے شعری نظریئے کے مطابق پرکھتے ہیں اور اس کے بعد شاعر یا تو خود کشی کے مختلف طریقوں پر غور و خوض شروع کر دیتا ہے یا اس تعریف کے بعد اقبال اور غالب سے کم تر کسی شاعر سے اپنا موازنہ پسند نہیں کرتا خود مجھے بھی ظفر اقبال کے سیاسی اور ادبی کالموں سے بعض دفعہ جزوی اختلاف ہوتا ہے اور واضح رہے ظفر اقبال اتنا اپنی تعریف سے خوش نہیں ہوت جتنا خو د پر تنقید سے ہوتے ہیں ۔ مگر اصل بات تو یہ ہے کہ بات کہنے کا سلیقہ آنا چاہیے اور یہ سلیقہ ظفر اقبال سے سیکھا جاسکتا ہے‘‘ ۔ اس کتاب کے جملہ حقوق محفوظ ہیں مگر اس کا نام غیر محفوظ ہے ۔ ’’دال دلیا‘‘ پر سب کو اختیار بھی ہے اور دال دلیا ہمارا اپنا دال دلیہ ہے کیونکہ اس کے مصنف ہمارے اپنے ظفر اقبا ل ہیں اور اس کا اہتمام علامہ عبدالستار عاصم کے ساتھ محمد فاروق چوہان نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے ۔ قلم فاءونڈیشن انٹر نیشنل کو اسے شاءع کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اس کتاب کے قانونی مشیر رانا شہناز احمد خاں ممتاز قانون دان ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے ہیں ۔ انتساب ایک ایسی بولنے والی زبان کے نام کیا ہے جس کو سننے کےلئے لاکھوں کان ہمیشہ محتاج رہے ہیں وہ شخصیت بولتی نہیں بلکہ موتی رولتی ہے ۔ دل چاہتا ہے کہ وہ بولتے جائیں اور ہم سب سنتے جائیں ۔

فقط اسی شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

متعلقہ خبریں

گھر میں جوتے پہننا منع ہے، جاپانیوں کی رسم صحت کے لیے مفید

پاک بھارت جنگ کا سوچنا پاگل پن ہوگا، وزیراعظم

میں تیرا حُسن تیرے حُسنِ بیان تک دیکھوں

ہمارے بہت ہی محبوب قومی ہیرو شجاعت ہاشمی ہی انتساب کے سزا وار تھے ۔ ظفر اقبال نے ’’دال دلیا‘‘ میں خوب دال اور خوب تردلیہ فراہم کیا ہے ۔ ستارے کیا کہتے ہیں ، مفت اشتہار ، ہمار ے جنگلی جانور ، سرخیاں ، متن اور دانیال عزیز کی خدا میری نظم کیوں پڑھے گا ۔ ہمارے پھل ، گھریلو ٹوٹکے ، ہمارے پکوان، گھریلو مشورے اور نمونے کی خط و کتابت آپ کو ’’دال دلیا ‘‘ میں ہی ملے گی اور وہ بھی بہت ارزاں قیمت پر صرف 400 روپے میں ملے گی ۔