عالمی اقتصادی فورم سے عمران خان کاکلیدی خطاب

6

وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرکے ایک بارپھر اپنی صلاحیتوں کادنیابھرکو گرویدہ بنالیا ہے ، انہوں نے پوری تقریر زبانی اوربغیر کسی نوٹ کے کی ، صدرٹرمپ سمیت دنیابھرکے عالمی رہنماءوں اور دیگرکاروباری شخصیات سے بھی ان کی اہم ملاقاتیں ہوئیں جس میں مجموعی طورپر عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی ، ایل او سی اور مسلمانوں کے خلاف کی جانیوالی چیرہ دستیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو بتایا کہ پاکستان نے بارہامرتبہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن چونکہ نریندرمودی آرایس ایس کانمائندہ اورایک دہشت گرد تنظیم پروردہ ہے جس کی وجہ سے اس نے کبھی بھی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ ایل اوسی پر مزید بلا اشتعال فائرنگ کی ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق صلب کئے ، بھارت میں مسلمانوں کی زندگی تنگ کررکھی ہے ان حالا ت کے تحت بھارت چاہتا ہی نہیں کہ خطے کے معاملات پرسکون رہیں ۔ انہوں نے خطاب کے دوران یہ بھی دنیاکوباورکرایا کہ خطے میں امن وامان کےلئے طالبان سے مذاکرات انتہائی ضروری ہے اوراس سلسلے میں پاکستان امریکہ کی مدد کررہاہے ۔ دوسری جانب انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر ایران اورامریکہ کے مابین جنگ ہوئی تو یہ صرف اس خطے کےلئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی اب ہم کسی کی جنگ کاحصہ نہیں بنیں گے امن بحال کرنے کےلئے ضرور کردارادا کریں چونکہ پاکستان افغان وار اورنائن الیون کے بعد دہشت گردی کے حوالے سے بہت متاثر ہوا افغان وار کی وجہ سے پاکستان میں کلاشنکوف اور دہشت گردی کاکلچر آیا اور نائن الیون کے بعد بے تحاشا مسائل کاسامنا کرنا پڑا لہٰذا ہم ماضی کے کھائے ہوئے کسی بھی قدم کی جانب واپس نہیں جائیں گے امن کاپیامبربنے ہیں امن ہی قائم کریں گے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسائل کو مذاکرات سے حل کرے ۔ اسی سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان صرف امن کا شراکت دار ہے، ہم کبھی بھی کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،انڈیا تباہی کی راہ پر چل رہاہے ،بھارت سے فوری جنگ کا خطرہ نہیں ،امریکا ایران اور سعودی عرب سے کہاہے کہ جنگ ہمارے لئے مہلک ہوگی امریکا نے افغانستان سے متعلق میرا موقف مان لیا، عالمی اقتصادی فورم کے صدرکی جانب سے پاکستان کی تعریف کی گئی ۔ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر عمران خان سے اردن کے وزیراعظم عمر رضاز، آذربائیجان کے صدر، امریکی صدرٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ ، آئی ایم ایف کی صدر، ایشائی ترقیاتی بنک کی نومنتخب صدر سمیت دیگر کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو نے بھی ملاقات کی ۔ دوسری جانب انٹرنیشنل میڈیا کونسل سے خطاب میں وزیراعظم کا کہناتھا کہ کرپشن ، منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت بڑھی، 2019 پاکستان کا محفوظ ترین اور امن کا سال تھا اس سال سرمایہ کاری میں 70 فیصد اضافہ ہوا،امن و استحکام کے بغیر پاکستان کی معیشت ترقی نہیں کر سکتی، حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج گورننس کی بہتری کیلئے ریاستی اداروں میں اصلاحات لانا ہے اور اس سلسلہ میں کام جاری ہے، ماضی میں حکمرانوں نے ذاتی مفاد کےلئے اداروں کو تباہ کیا بڑے بڑے منصوبوں میں کمیشن لیا، معیشت کو مصنوعی طورپر کنٹرول کیا اور دنیا سے جھوٹے وعدے کئے، فوج سے کشیدگی کی وجہ سابقہ حکومتوں کی کرپشن تھی ،سول اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی ہے ، حکومت کو عسکری سمیت تمام اداروں کو حمایت حاصل ہے معاشی اصلاحات کے باعث میڈیا نے شدید حملے کئے ،سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے عوام کے سخت رویوں کاسامنا کرناپڑا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کو ملک میں ماضی میں ہونیوالی کرپشن کی وجہ سے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جس کی وجہ سے معیشت ڈاواں ڈول ہے اس سلسلے میں حکومت احتساب کے نظام کو مزید بہترکررہی ہے اور جس نے بھی قومی خزانے کو لوٹا اس کوحساب دینا پڑے گا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت جو مہنگائی کا ایک بھونچال آیا ہوا ہے جیسے ہی وزیراعظم اپنے کامیاب دورہ کے بعد وطن واپس لوٹیں تواس سلسلے میں فوری طورپراہم اقدامات کریں کیونکہ ہرآنے والا دن ایک نئے بحران کی نوید سنا رہاہے جیسا کہ عمران خان خطے کے اوربین الاقوامی مسائل کے حل کےلئے کوشاں ہیں اسی طرح سب سے پہلے ملک کے اندر جومسائل درپیش ہیں انہیں حل کیاجائے تاکہ عوام بھی سکھ کاسانس لے سکے ۔

سی پیک پرامریکی تنقید

اورچین کاردعمل

امریکہ کی جانب سے پاکستان کو سی پیک کے حوالے سے جو پیشکش کی گئی اور اس سلسلے میں امریکی تنقید بھی سامنے آئی جس کے جواب میں چین نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ سی پیک کامیابی سے چل رہاہے یانہیں اس کاجواب پاکستان اورپاکستان کی عوام نے دیناہے امریکہ کے ادارے خود برے ہیں وہ انہیں درست کرے ۔ سی پیک پاکستان اور چین کی باہمی قربت اور عظیم دوستی کی مثال ہے اس میں ہم کسی قسم کاکسی کو بھی رخنہ نہیں ڈالنے دیں گے ۔ ادھرچینی سفارتخانے نے امریکی نائب سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز کی سی پیک پر تنقید کو منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا ہے کہ پابندیوں کی چھڑی گھمانے والا امریکا یہ کام عالمی معیشت نہیں اپنے سیاسی مفادات کیلئے کرتا ہے،چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ چین نے کبھی کسی ملک کو قرضوں کی ادائیگی کےلئے مجبور نہیں کیا اورپاکستان سے بھی غیر معقول مطالبات نہیں کرے گا، امریکا دنیا بھر میں پابندیوں کی چھڑی لے کر گھومتا ہے اور ممالک کو بلیک لسٹ کرتا رہتا ہے، تاہم یہ امریکی عمل عالمی معیشت کیلئے نہیں بلکہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کیلئے ہوتا ہے ۔ 21 جنوری کو دورہ پاکستان پر آنےوالی امریکی نائب سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے ایک مرتبہ پھر پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے منفی ردعمل دیا جو نئی بات نہیں ہے بلکہ نومبر 2019والی تقریر کا تکرار ہے جسے پاکستان اور چین دونوں مسترد کر چکے ہیں ۔ سی پیک کے پہلے فیز پر کام مکمل ہوچکا ہے اور دوسرے فیز پر تیزی سے کام جاری ہے،منصوبہ مکمل ہونے سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ ہوگا ۔

اشیائے خوردونوش کا بحران، تحقیقات کےلئے کمیٹی کاقیام

آٹا، چینی کے بعد دیگراشیائے خوردونوش جن میں دالیں ، چاول وغیرہ شامل ہیں وہ بھی نایاب ہوتی جارہی ہیں اور دکانداروں نے من مانے ریٹ بڑھادیئے ہیں ادھرچکی کے آٹے کی قیمت بھی قابو سے باہرہے ۔ نیز آٹابحران کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنادی گئی ہے تاکہ اصل وجوہات تلاش کی جاسکیں ۔ جب آٹا وافرمقدار میں موجود ہے تو پھر باہر سے منگوانے کی کیوں ضرورت درپیش آرہی ہے ۔ لاہور میں چکی مالکان کیخلاف انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف درجنوں مقدمات درج کرلیے جس پر چکی اونرز ایسوسی ایشن نے غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کردی ۔ ہڑتال کے باعث صوبائی دارالحکومت کی چکیاں بند ہوگئیں اور آٹے کے مزید قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے بھی چکی مالکان کیساتھ ہڑتال میں شریک ہونے کا اعلان کر د یا ۔ ادھر حکومت نے گندم بحران کی تحقیقات کیلئے ایف ;200;ئی اے کی ٹیم تشکیل دے دی، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف ;200;ئی اے ٹیم کے سربراہ ہوں گے ۔ ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بحران میں ملوث مافیا اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی، ٹیم سرکاری اور حکومتی نمائندوں کے کردار کا بھی جائزہ لے گی، فلور ملز مالکان نے کتنی گندم خریدی، کتنا آٹا بنایا، تحقیقات ہوں گی ۔ گندم اور ;200;ٹے کے بحران کو فوری ختم کرنے کے حوالے سے تجویز پر مبنی رپورٹ بھی اعلیٰ حکام کو دی جائے گی ۔

چودھری نثارکواہم

ذمہ داریاں ملنے کا امکان

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز اور روز نیوز کا خصوصی طورپرایس کے نیازی کا یہ طرہ امتیا ز رہاہے کہ انہوں نے بروقت قبل ازوقت اپنے قارئین اور ناظرین کوحالات سے باخبررکھا جس کو بے حد سراہا بھی جاتا ہے ۔ اب ایس کے نیازی نے چودھری نثار کے حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ انہیں قومی سیاسی حالات میں اہم کردار ملنے والاہے ۔ ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری نثار کو وزارت سے بھی بڑا عہدہ ملنے والا ہے ،چوہدری نثار کا پاکستانی سیاست میں بہت اہم رول بننے جارہا ہے ،چوہدری نثار تجربہ کار آدمی ہیں ،ایس کے نیازی نے مزید کہاکہ وزیراعظم کا دورہ انتہائی کامیاب جارہا ہے ،وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم میں بڑی اہم باتیں کیں ، وزیراعظم نے کسی جنگ کا حصہ نہ بننے کی بڑی بات کی ہے ،امریکا کو وزیراعظم کی اہم تقریر کے بعد سوچنا پڑیگا ،وزیراعظم عمران خان عوام کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ۔