Site icon Daily Pakistan

عالمی دنیا کا برج السلام

آئزن ہاور آخری امریکی صدر تھے کہ جن کی تائیوانی صدر سے براہ راست بات چیت ہوئی تھی اور اب ٹرمپ اس کے خواہاں تھے اور 14 بلین سے زائد ڈیل کے بھی۔ مگر چین نے تائیوان پر اپنی ریڈلائن واضح کر کے امریکی صدر کو جو پیغام دیا اس نے ڈیل کو منسوخ یا موخر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یقینا بہترین سفارت کاری ایسا وصف کہ جو خون کی ہولی کھیلے اور آتش و آہن برسائے بغیر مقاصد کا حصول ممکن بناتی ہے۔ اکہتر کی دہائی میں پاکستان نے رازدارانہ سفارتکاری کے ذریعے چین امریکہ براہ راست ملاقات ممکن بنائی تھی۔ اس وقت بھی حیرانگی دونوں ممالک کے راہنمائوں کی ملاقات پر نہیں بلکہ پاکستان کی رازدارانہ کوششوں پر تھی کہ KGB, اسرائیلی موساد، MI,6, اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیاں اس اہتمام کی گرد کو بھی نہ پا سکیں اور ایک بار پھر اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان دنیا کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ مجال کہ ایران، امریکہ، سعودیہ، قطر، ترکیہ، چین و دیگر ممالک سے ہونے والی بات چیت، مشاورت اور تجاویز بارے ہمارے دفتر خارجہ اور مقتدرہ نے بڑی سے بڑی نیوز یا خفیہ ایجنسی کو ہوا بھی لگنے دی ہو۔ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد کے مآخذ وائٹ ہاوس اور ایران کے سرکاری ذرائع ہی رہے مگر دنیا بھر کے باخبر اور ماہر ترین صحافی بھی پاکستانی رابطہ کاروں سے کچھ اگلوانے میں ناکام رہے۔ یقینا رازداری مذاکراتی عمل کی خشت اول اور پاکستان نے دونوں ممالک کے اعتبار کو اسی وصف سے قائم رکھا اور برقرار ۔ یہی وجہ رہی کہ اسرائیل جیسے شاطر، مکار اور سازشی دشمن کی تمام تر عیاریاں اور مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سبھی کوششیں ایک ایک کر دم توڑتی رہیں اور دوسرا دشمن تو پاکستان کی عالمی امن کی کوششوں پر انگشت بدنداں و حیرت زدہ، ویسے پاکستان کی سفارتکاری کا آغاز تو اسی روز ہو گیا تھا جس دن ناجائز رہاست اسرائیل نے ایران کی خود مختاری پر شب خون مارا اور شاید اسی روز ہی مشرق وسطیٰ کے منظرنامہ میں تبدیلی کی تقدیر بھی لکھ دی گئی ۔ کیا یہ رب ذوالجلال کا کرم نہیں کہ پاکستان ہر دو بحرانوں میں سرخرو ہو کے نکلا۔ چھ گنا بڑے دشمن کی جارحیت نے دنیا پر مسلح افواج کی صلاحیتوں کی دھاک اور محدود و کم تر وسائل سے جدید ٹیکنالوجی کو ٹھکانے لگانے کا حیرت انگیز منظر دکھایا تو ایران امریکہ جنگ میں پاکستان برج السلام بن کر عالمی امن کا واحد علمبردار بن کر ابھرا کہ جب اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت تمام عالمی طاقتیں امریکی جارحیت کے سامنے گنگ۔ جو عزت اور مقام پاکستان کو ملا اربوں ڈالرز لابنگ اور کھربوں اسلحہ پہ لگا کے بھی نہیں ملتی۔ اس پر ہم اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔ یہی نہیں کہ گریٹر اسرائیل کا خواب آبنائے ہرمز اور اکھنڈ بھارت کا بحیرہ عرب میں غرق ہو گیا بے بلکہ تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی قیادت کو مطعون اور رسوا کیا گیا حتی کہ اسرائیل کے سرپرست فرانس ، اسپین، اٹلی جیسے ممالک نے پہلی بار اس کے جارحانہ عزائم کی مذمت کی اور عرب ممالک کے اندر اسرائیل کیخلاف نفرت کا سرد جذبہ بیدار ہوا جبکہ خلیجی ممالک نے پہلی بار امریکی چھتری کے باوجود اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کیا یہ بھی عجب کہ جارحیت کا شکار ہونے والے ہر دو مسلم ممالک کی صلاحیتیں بھی پہلی بار ایسی آشکار ہوئیں کہ دنیا حیرت زدہ اور پھر جس اتحاد نے برسوں بعد ٹوٹنا اور بننا تھا انہیں بھارت و اسرائیلی جارحیت نے مہمیز لگا کر مسلم ممالک کی دہائیوں کی دوریوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کو ایک اور اعزاز کے سوائے اسرائیل کے دوست، دشمن سبھی اس کی امن کوششوں میں کامیابی کیلئے دعا گو۔ امریکی عوام کے اندر بھی پہلی بار اسرائیل کے لیے ناپسندیدگی کے جذبات 56 فی صد تک جبکہ یورپی ممالک میں تو یہ نفرت اس سے بھی زیادہ۔ اسرائیل اپنی خفت مٹانے کیلئے اس مہم کا سرخیل پاکستان کو قرار دے کر خبث باطن کا اظہار کرنے لگا ہے اور الحمد للہ اب اسے پاکستان سے دہشت بھی ہونے لگی کہ کل تک جو اپنے دوست مودی کے ساتھ پاکستان پر چڑھ دوڑتا رہا۔حالیہ دورہ ایران اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ رائج سفارتی پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیلڈ مارشل کا پرخلوص اور پرجوش مصافحہ اہل پاکستان کی ایرانی بھائیوں کیلئے محبت و اخلاص کا ایسا تحفہ کہ جسے حالات کی سنگینوں نے مضبوط سے مضبوط تر کر دیا۔ ایران کا امریکہ پر عدم اعتماد یقینا ماضی کے تلخ تجربات کا مآحاصل مگر بداعتمادی کی اس خلیج کو پاٹنے کیلئے پاکستانی کوشش اب تاریخ کا حصہ کہ کٹھن ترین حالات میں بھی پاکستان نے امید کا دامن نہ چھوڑا کہ جب دنیا امن سے مایوس ہو چکی تھی۔ یقینا امن معاہدہ نہ صرف اہل ایران بلکہ خطہ کے تمام ممالک کیلئے اعتماد اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔ پرانے حریف حلیف بنیں گے اور نئے اتحاد وجود میں آئیں گے اور ان سب میں پاکستان کا کردار کلیدی۔ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد پاکستان کو عالمی امن کا علمبردار قرار دیکر اس کی مصالحانہ کوششوں کے معترف۔خبر ہے کہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ ایک ارب 19 ارب کے دفاعی ساز و سامان کا معائدہ کیا جو اس کے جارحانہ عزائم ظاہر کرتے ہیں مگر بھارتی سپاہ جرات اور جذبہ کہاں سے خریدے گی۔ شہادت کا وصف پاکستانی مسلح افواج کو اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن سے ممتاز کرتا ہے جو دھاک ہمارے شاہینوں اور افواج نے بزدل دشمن پر بٹھا دی وہ ہنددوں میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔

Exit mobile version