عالمی شیطانوں کی استاد ایجنسی کی کارستانی

256

قرآن حکیم فرقان مجید کی سورہ بقرہ کی آیت مبارکہ228 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’عورتوں کےلئے ویسے ہی حقوق ہیں جیسی ذمہ داریاں ہیں ‘‘ دین اسلام عورت کو مرد کی طرح کامل انسانی روح،ارادہ اور اختیار کا حامل سمجھتا ہے اور اْسے سیر تکامل اور ارتقا کے عالم میں دیکھتا ہے مطلب یہ یہی تو مقصد خلقت ہے اسی لئے اسلام دونوں کو’’مردوں اورعورتوں ‘‘ کوایک ہی صف میں قراردیتا ہے اور دونوں کومردوں اور عورتوں کو’’یا ایہا الناس‘‘اور’’یا ایہا الذین اَمنو‘‘کے ذریعے مخاطب کرتا ہے، اسلام نے دونوں ہی کے لئے تربیتی،اخلاقی اور علمی تعلیمات لازمی قرار دی ہیں ارشاد پروردگار عالم ہے ’’اور جو نیک عمل کرئے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرط یہ کہ صاحب ایمان بھی ہواْسے جنت میں داخل کیا جائے گا‘‘ آج یہاں ہمارا مدعا یہی ہے کہ مارچ کی8 تاریخ کو اسلام آباد،کراچی اور لاہور جیسے اہم شہروں میں عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے’عورت مارچ‘ کا جو ایک ہنگامہ بپا ہوا پاکستان کی ایلیٹ کلاس کی خواتین نے ملک کے تینوں اہم شہروں میں جو طوفان بدتمیزی مچایا آج کے زیرنظر کالم کی ابتدا میں راقم نے یہی مناسب جانا کہ ’’وقوعہ‘‘سے قبل اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ اْس حکم کا اعلان اپنے قارئین تک پہنچا دیا جائے کہ وہ وجوہ کیا تھیں کہ قرآن حکیم فرقان مجید سے خواتین کے حقوق کے بارے میں اْن آیات کا انتخاب کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا ہے یہاں یہی سوال گزشتہ دنوں بہت تواتر کیا جاتا رہا کہ ’’خواتین کے حقوق‘‘ کے نام پر8 مارچ کو ملک بھر میں کن مقاصد سے مرعوب ہوکر ملکی نجی الیکٹرونک میڈیا نے ایک ہی رخ کو ’’سبھی نے ‘‘میراتھن ٹرانسمیشن کی سطح پر چلایا اور یہی نہیں بلکہ ’’عورت مارچ‘‘کی اْن طرفدارخواتین کو زیادہ وقت بولنے کےلئے دیا جو ملکی آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتیں اْنہیں تو یوں سمجھیں موقع چاہیئے کہ وہ ملکی آئین اور قانون کے خلاف اپنے دلوں اور اپنے متعصبانہ نظریوں کے پرچار کرنے لگیں اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ پاکستان کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں جن میں خاص کر سندہ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور چند قبائلی علاقوں میں تنگ دست،مفلوک الحال،مجبور اور مقہوربلکہ معتوب ومفتوح خواتین کے خاندان کے خاندانوں کو یہ جاگیر داراور وڈیرے یہ قبائلی سردار اور خوانین چند ہزار روپے دیکر اْنہیں زندگی بھر کےلئے اپنی غلامی کےلئے خرید لیتے ہیں جو اینٹوں کے بھٹوں پر نسل درنسل مزدوریاں کرتے مرکھپ جاتے ہیں گزشتہ 71-72 برسوں کو تو چھوڑیں گزشتہ 15 برسوں میں ملکی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے اِن ہی ظالم وسفاک قبائلی سرداروں ‘ وڈیروں ، سرداروں ، چوہدریوں ، جاگیرداروں اور سیاسی نائیکوں نے اگر کوئی قانون نہیں بنایا تو ایسی ہی خواتین کے آنسوووَں کو پونچھنے کےلئے قانون بنانا ضروری نہیں سمجھا، یہ8 مارچ کو ’’عورت مارچ‘‘ کے نام پر ایلیٹ کلاس کی خواتین باہر نکلی ہوئی تھیں ان ہی کے دورقریب کے رشتہ دارجان پہچان والے ہر بار ان اسمبلیوں میں منتخب ہوکر آجاتے ہیں ملک بھر میں پھیلے ہوئے ان ’’سیاسی وجمہوری نائیکوں ‘‘ کے راستے کبھی کسی ’’ایلیٹ کلاس کی خواتین مارچ‘‘نے روکے نہیں ،ملک کی نظریاتی وحدت اور ہم آھنگی پر یہ یونہی ضربیں لگاتی رہیں تو یہ خوش ہیں یہاں ہ میں کسی کانام لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہاں مگر اْنہیں ضرور پوچھیں گے جنہوں نے8 مارچ کو’’عورت مارچ‘‘ کا علامتی نشان ’’لوگو‘‘ عین ویسا ہی بنایا جیسے اْنہیں عالمی شیطانوں کی استاد ایجنسی’’سی آئی اے‘‘کہا ’’امریکی مجسمہ آزادی‘‘کی طرح کا’’لوگو‘‘ جو اسلام آباد پریس کلب پر ایستادہ کیا گیا تھا، ایک خاتون کے ہاتھ میں آزادی کی مشعل، بات سے بات نکل رہی ہے نہیں جناب بالکل نہیں ملک کی کروڑوں مسلمان خواتین کی ترجمانی چند سو پْرباش اورکیاکہیں یہ دکھائی دینے والی عورتیں نہیں کر سکتیں ،یہ عورتیں اسلام کی سب اولین تاجر جو معزز خاتون تھیں مقدس خاتون ہیں جناب خدیجۃ الکبریٰ علیہما السلام کا نمونہ عمل نہیں بن سکتیں یہ اْن کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں ہیں ، کیا وہ کسی کی محتاج تھیں ;238; جنہوں نے اپنا تمام مال ومتاع دین اسلام پر وار دیا جن کی مقدس ومعزز اولاد دین اسلام کے تحفظ،بقا اورہمیشگی کی سلامتی کےلئے کربلا کے تپتے صحرا میں اپنی قیمتی جانوں سے کھیل گی،بات ہورہی ہے خواتین کے حقوق کی جناب خدیجۃ الکبریٰ ایک خاتون تھیں ،ایک کامیاب اور نیک سیرت دیندار افضل ترین خاتون ہونے کے ناطے عالم اسلام کی ہر خاتون کےلئے قابل عمل نمونہ بھی ہیں مسلمان خواتین تجارتی شعبہ کے میدان میں سرگرم عمل خواتین اْن کی ذات والہ صفات سے کیا کچھ نہیں سیکھ سکتیں ;238; آج جو خواتین کے حقوق کےلئے معروف اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنے سے منکر ہورہی ہیں وہ غور کریں کہ ’’اسلام کی ضوفشانی سے قبل عورت کے ’’مقام ومرتبہ‘‘کا تصور بھی محال تھا اْسے نہایت نفرت وحقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا لڑکی پیدائش ذلت عار سمجھی جاتی تھی قرآن حکیم نے اس حقیقت کو ان لفظوں میں بیان کیا’’جب ان میں سے کسی کو لڑکی پیدائش کی خبردی جاتی ہے تواس کے چہرے کا رنگ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اسے بہت بْری خبر خیال کرتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسروں کے سامنے آنے سے شرم ’’محسوس‘‘ کرتا ہے اور سوچتا ہے کیا میں اسے ذلت کےلئے زندہ رہنے دوں یا زمین میں گاڑدوں یاد رکھو!وہ جوبھی فیصلہ کرتے ہیں وہ بہت بْراہے‘‘ عورت مارچ کے نام پر عورتوں کو اکسانے والے کیوں نہیں سمجھنا چاہتے کہ ’’اسلام عورت کو مرد کی طرح مکمل طور پر عورت کو آزاد سمجھتا ہے جیسا کہ قران پاک کی اس آیت مبارکہ میں ارشاد ہوا ہے ’’ہر نفس اپنے اعمال کا رہین ہے‘‘ایک مقام پر ارشادِالٰہی ہے ’’جوبھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کریگا اور جوبْرا کرئے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہوگا‘‘بالکل اسی طرح یہ آیتِ مبارکہ بھی مرد اور عورت دونوں کےلئے یکساں مخاطب ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے’’زناکار عورت اور زناکار مرد دونوں کو سوسوکوڑے لگائے جائیں ‘‘اس کے علاوہ دیگر آیات میں بھی ایک جیسے گناہ پردونوں مردوں اور عورتوں کےلئے ایک جیسی سزا کا حکم سنایا گیا ہے علما اور مفسرین نے قرآنی احکامات کی تشریح کرتے ہوئے واضح طورپر بتایا ہے کہ’ارادہ و اختیار سے استقلال پیدا ہوتا ہے اوراسلام یہی استقلال اقتصادی حقوق میں بھی نافذ کرتا ہے اسلام بغیر کسی رکاوٹ کے عورت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کے مالی معاملات انجام دے عورت کو اْس سرمایہ کا مالک شمارکرتا ہے،جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ’’مردوں ’’کےلئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے اور عورتوں کےلئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے‘‘بقول مفسرین لغت میں ’’اکتساب‘‘ کے معنی کسب اور حاصل کرنے کے ہیں اسی طرح ایک دوسرا قانون کلی ہے یعنی’’ تمام لوگ اپنے مال پر مسلط ہیں ‘‘ اس قانون کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عورت کے اقتصادی استقلال کا احترام کرتا ہے اور عورت مرد میں کسی فرق کا قائل نہیں ہے، خلاصہ یہ کہ اسلام کی نظر میں ’عورت‘ معاشرہ کا ایک بنیادی رکن ہے اسے ایک بے ارادہ، محکوم،سر پرست کا محتاج سمجھنے سے احتراز کیا جائے اور ‘‘یقینا اللہ تعالیٰ ہی بہترین فیصلہ کرنےوالا ہے‘‘ عورتوں کے حقوق کے نام پر بلاوجہ کی دہائیاں اور واویلا کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جہاں دائرہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی میں پاکستان کے ہر قومی طبقہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت خواتین منسلک ہیں ، اپنی خدمات احسن طور پر انجام دے رہی ہیں پاک فوج ہویاپولیس،وکلالت کاشعبہ ہو یاصحافت کا،ڈاکٹر، انجینئر،طالب علم یا اساتذہ،پاکستان نیوی ہو یا آئیرفورس‘پاکستان قومی آئیر لائن کے پائلٹس ،اعلیٰ عدلیہ میں خواتین چیف جسٹس ر ہیں ، قومی کھیلوں کے ہر شعبہ میں اہل اور باصلاحیت خواتین ہ میں کہاں کہاں نظر نہیں آتیں ;238; عورتوں کے حقوق غصب کہاں ہورہے ہیں ;238; یقینا کسی محب وطن پاکستانی کے پاس اس سوال کاجواب نہیں ہوگا مگرامریکی سی آئی اے کے پاس ضرور ہوگا پاکستان میں عورت مارچ کے پس پشت پینٹاگان کے علاوہ اور کون تھا;238; ۔