Home » کالم » عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ

عالمی عدالت انصاف میں فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔ عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادھو کیس کا فیصلہ 17جولائی کو دن 3 بجے ہیگ کے پیس پیلس میں سنایا جائے گا ۔ بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادھو تسلیم کرچکا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را‘ کا ایجنٹ ہے جسے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ فیصلہ پبلک سٹنگ کے دوران آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد پڑھ کر سنائیں گے ۔ پاکستانی وفد اٹارنی جنرل کی قیادت میں فیصلہ سننے کے لئے ہیگ روانہ ہو گیاہے ۔ رواں سال آخری سماعت کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت اٹارنی جنرل انور منصور نے بطور ایجنٹ کی تھی جبکہ بھارتی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری دیپک میتَل کر رہے تھے ۔ 22فروری کو سماعت کے دوران پاکستانی وکیل خاور قریشی نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے سوالوں کے جواب نہیں دیئے، بھارت میرے دلائل پر بے بنیاد اعتراضات کرتارہا ۔ بھارتی وکیل نے غیرمتعلقہ باتوں سے عدالتی توجہ ہٹانےکی کوشش کی ۔ بھارت نے میرے الفاظ سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ہم کلبھوشن کیس میں مثبت فیصلے کی توقع رکھتے ہیں ۔ امید ہے فیصلے سے یادیو کے ہاتھوں دہشت گردی کا شکار ہونے والے خاندانوں کو انصاف ملے گا ۔ بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کیا جائے ۔ بھارت نے پاکستان میں جاسوس بھیجے، ان سے دہشت گردی کرائی جس کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ۔ وہ پاکستان دشمن ملیشا کی فنڈنگ اور تربیت کر رہا ہے ۔ پاکستان نے بھارتی صحافی کیرن تھاپر اور پروین سوامی کی دی گئی رپورٹس کے حوالے دیئے اور کہا کہ پروین نے کلبھوشن کے ساتھ کام کرنے والے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے انٹرویوز کے حوالے دیے ۔ بھارت بتائے قونصلر رسائی معاہدے کا کلبھوشن پر اطلاق کیوں نہیں ہوتا ۔ کلبھوشن یادیو کی شہریت سے متعلق ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ بھارت نے نہیں بتایا کہ وہ حسین مبارک پٹیل ہے یا کلبھوشن یادیو ۔ جب ایک شخص کی شناخت مصدقہ ہی نہیں تو قونصلر رسائی کیسی;238; ۔ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے وکیل نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے پاس مسلمان نام سے پاسپورٹ کیوں موجود تھا ۔ کوئی جواب نہ بننے پر آخر کار بھارتی وکیل نے بھی پاسپورٹ کے جعلی ہونے کا اعتراف کر لیا اور کہا ہے اس پر سزائے موت نہیں ہو سکتی ۔ ریلیف چاہتے ہیں لہٰذا یہ معاملہ سول عدالت کو بھجوا دیا جائے ۔ بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کےلئے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی ۔ کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ;39;را;39; کے لئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا ۔ ویڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا ۔ اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی توثیق 10 اپریل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی ۔ بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے ۔ عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیاتھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جا سکتا ۔ بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا ۔ تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی ۔ بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لئے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا ۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کے طور پر دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لئے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتظامات کیے تھے ۔ یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا ۔ بہرحال ہم نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس بہت اچھا لڑالہٰذا امید ہے نتیجہ بھی اچھا آئے گا اور عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرینگے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative