پاکستان کی معیشت اس وقت نازک مگر فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں کا تعاون ریلیف اور استحکام فراہم کر رہا ہے، تو دوسری جانب داخلی کمزوریاں اس ریلیف کو دیرپا ترقی میں بدلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی قسط پر مشتمل اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا ہے، جو بظاہر عالمی اداروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی بہتری کا اعتراف ہے، لیکن اس کے ساتھ سخت اصلاحاتی تقاضے بھی جڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعاون پاکستان کو پائیدار معاشی بحالی کی جانب لے جا سکتا ہے، یا ہم ایک بار پھر وقتی امداد کے عوض اپنی معاشی خودمختاری کو گروی رکھنے کے خطرے سے دوچار ہیں؟یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (Extended Fund Facility) پروگرام کا حصہ ہے، جس کی مجموعی مالیت 7 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان نے اس پروگرام کے تحت توانائی، محصولات، مالیاتی نظم و ضبط اور گورننس میں ساختی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بھی پاکستان کے ساتھ وسیع مالیاتی شراکت داری میں مصروف ہیں۔خصوصا عالمی بینک کا پاکستان کے ساتھ دس سالہ شراکتی فریم ورک قابلِ ذکر ہے، جس کے تحت 20 ارب ڈالر تک فنانسنگ کی جائے گی۔ اس فریم ورک کے تحت 57 اہم ترقیاتی منصوبیجن میں تعلیم، صحت، توانائی، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبے شامل ہیں جو عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی حالیہ مہینوں میں 800 ملین ڈالر کے تعاون پر دستخط کیے، جن میں بجٹ سپورٹ اور پالیسی اصلاحات شامل ہیں۔اگرچہ یہ عالمی تعاون پاکستان کیلئے اہم سہارا ہے، مگر اس کی اصل افادیت اسی وقت ممکن ہے جب اندرونی طور پر ریاستی استعداد، پالیسیوں کا تسلسل، اور ادارہ جاتی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ آئی ایم ایف نے اپنے حالیہ اعلامیے میں پاکستان کی ٹیکس اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، اور اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی کو سراہا ہے۔ حکومت نے افراط زر کو 5 سے 7 فیصد کے درمیان رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ حالیہ تخمینے کے مطابق جی ڈی پی گروتھ 2.6 فیصد، مہنگائی 5.1 فیصد، اور کرنٹ اکانٹ خسارہ 1 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے ترقیاتی اخراجات اور سبسڈی میں کٹوتی کی جا رہی ہے، جب کہ قرض کا جی ڈی پی تناسب 71.9 فیصد سے گھٹا کر 61 فیصد تک لانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ پرائمری سرپلس 1فیصد رکھا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری متوقع ہے، لیکن یہ بہتری ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرتی ہے جب کہ برآمدات اور صنعتی پیداوار تاحال مطلوبہ رفتار سے دور ہیں۔آئی ایم ایف نے اگرچہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی رفتار اور ادارہ جاتی اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے مگر اپنی حالیہ جائزہ رپورٹ میں مزید 11 نئی شرائط رکھی ہیں، جن میں بجلی کے شعبے میں نقصانات میں کمی، سرکلر ڈیٹ کا حل، ٹیکس نیٹ کی توسیع، درآمدی پابندیوں کا خاتمہ، زرعی شعبے میں حکومتی مداخلت میں کمی، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری، اور نئی ٹیرف پالیسی شامل ہیں۔ یہ شرائط اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان میں صرف وقتی اصلاحات نہیں بلکہ ساختی تبدیلی چاہتا ہے۔ تاہم، ان اصلاحات کی پائیداری کا انحصار صرف اعداد و شمار پر نہیں، بلکہ سیاسی استحکام اور پالیسی کے تسلسل پر ہے۔آئی ایم ایف نے یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے سماجی شعبے میں اہداف کے حصول میں پیش رفت کی ہے اور مالیاتی خسارہ گزشتہ 14 برس کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔ ساتھ ہی، پاکستان نے ٹیکس وصولیوں، مالیاتی شفافیت اور بیرونی ادائیگیوں کے نظم میں بہتری کی سمت قدم بڑھائے ہیں، جو معاشی بحالی کی ابتدائی علامت سمجھی جا سکتی ہے۔ تاہم، جب تک برآمدات میں نمایاں اضافہ، پیداواری معیشت کی بحالی، توانائی کے مستقل حل، اور کرپشن کے خلاف عملی پیش رفت نہ ہو، تب تک یہ بہتری پائیدار نہیں کہلائے گی۔اس وقت پاکستان کے پاس عالمی اداروں کا اعتماد، مہنگائی پر وقتی قابو، مالیاتی نظم و ضبط، اور اصلاحات کیلئے ایک موافق سیاسی بیانیہ موجود ہے۔ اگر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یہ مواقع آنے والے کسی نئے پیکج کے محض ابتدائی نکات بن کر رہ جائیں گے۔

