Home » کالم » علامہ محمد اقبالؒ ، جواہر لال نہرو اور محمد علی جناحؒ (1)
rana-biqi

علامہ محمد اقبالؒ ، جواہر لال نہرو اور محمد علی جناحؒ (1)

rana-biqi

تحریکِ پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ 1940 کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اِس دن برطانوی حکومت ہندکے پُرآشوب دور میں لاہورکے منٹو پارک میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیر صدارت قراردادِ لاہور جسے تاریخ میں قراردادِ پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، کے ذریعے بّرصغیر ہندوستان میں مسلمانانِ ہند کے قومی نصب العین کا تعین کیا گیا تھا۔ یہ قرارداد دراصل اعادہ تھا حکیم الاُمت علامہ اقبالؒ کی اُس ویژن کا جس میں اُنہوں نے 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ ء صدارت میں شمال مغربی ہندوستان(موجودہ پاکستان) میں یہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان میں مسلمان ایک علیحدہ قوم کہلانے کے حق دار ہیں کیونکہ یہ اسلامی فکر و نظر کے حوالے سے ایک علیحدہ نظریہ ء حیات رکھتے ہیں جنہیں ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا تھا کہ اُنہیں شمال مغربی ہندوستان میں ایک مربوط مسلم ریاست کی تشکیل کم از کم پنجاب، سندھ ، سرحد اور بلوچستان پر مشتمل شمال مغربی ہندوستان میں مسلمانوں کا مقدر دکھائی دیتی ہے۔علامہ اقبال نے لندن میں گول میز کانفرنسوں میں بھی شرکت کی تھی جہاں اُنہیں قائداعظم محمد علی جناح سے تفصیلی ملاقاتوں کا موقع بھی ملا۔ علامہ کی نگاہ بینا میں جناح ہی وہ واحد شخصیت تھے جو اُمت اسلامیہ کی کشتی منجدھار سے نکال کر کنارے لگا سکتے تھے۔ چنانچہ علامہ نے بل خصوص 1936/37 میں بیماری کے عالم میں بھی قائداعظم سے کانفیڈینشل خطوط کے ذریعے حصول پاکستان کیلئے مشاورت جاری رکھی اور مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس لاہور میں منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔ چنانچہ جب قرارداد لاہور کا 1940 میں لاہور کے منٹو پارک میں تعین کیا گیا تو قائداعظم نے اِسی قرارداد کی روشنی میں جسے تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے کی منظوری کے بعد سیاسی دانشوروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آج علامہ اقبالؒ زندہ ہوتے تو یقیناًضرور خوش ہوتے کیونکہ ہم نے ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ وہ چاہتے تھے۔اِسی اَمر کا اعادہ کرتے ہوئے 1943 میں شائع ہونے والے کتابچے ،،علامہ اقبالؒ کے جناح کے نام خطوط،، کے پیش لفظ میں قائداعظم نے خود لکھا تھا کہ ،، میرے خیال میں یہ خطوط زبردست تاریخی ا ہمیت کے حامل ہیں ، خاص طور پر وہ خطوط جن میں اقبالؒ کے خیالات واضح طور پر مسلم انڈیا کے سیاسی مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں اور جس نتیجے پر وہ خود برسوں کی سوچ بچار کے بعد پہنچے تھے ،،۔ اندریں حالات یہ کہاجا سکتا ہے کہ علامہ اقبالؒ کے ویژن کی تکمیل قائداعظم کی عملی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں تھی جسے بہرحال قائداعظم نے انگریز اور ہندو شدت پسند مخالفت کے باوجود جس میں انگریز سیاستدانوں کے علاوہ ہندو کانگریس پارٹی کے رہنما گاندہی جی اور چناکیہ کوٹلیہ میکاولی منفی صفت کے ماہر پنڈت جواہر لال نہرو پیش پیش تھے، کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرتے ہوئے پایہء تکمیل تک پہنچایا۔

حقیقت یہی ہے کہ بھارت کے بانی وزیراعظم جواہر لال نہرو جنہیں متحدہ ہندوستان کی آزادی کے حوالے سے انگریز سیاست دانوں کی حمایت حاصل تھی ، دراصل ماضی میں جنوبی ایشیا میں ہندو مرکزی حکومت کے خالق چندر گپت موریہ کے سیاسی مشیر چناکیہ کوٹلیہ کی میکاولی صفت کے قائل تھے اور تحریکِ پاکستان کے حوالے سے متحدہ ہندوستان کی راہ میں علامہ اقبالؒ اور محمد علی جناحؒ کی رفاقت کو بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے بظاہر جناح اقبال تعلق میں دراڑ ڈالنے کی نیت سے تب پنجاب کانگریس کے صدر میاں افتخار الدین کے ہمراہ 1937 میں عیادت کیلئے علامہ اقبال سے ملاقات کی۔ علامہ اقبالؒ کے ایک خانوادے یوسف صلاح الدین نے قومی اخبار نوائے وقت کو ماضی میں انٹرویو دیتے ہوئے علامہ ا قبال کی اِس ملاقات کے حوالے سے کہا تھا کہ میاں افتخارالدین کے ہمراہ جواہر لال نہرو علامہ اقبال کو ملنے کیلئے آئے تو نہرو کرسی پر بیٹھنے کے بجائے زمین پر بیٹھ گئے اور کہا کہ علامہ صاحب ہم تو آپ کو مسلمانوں کا لیڈر مانتے ہیں لیکن علامہ ا قبالؒ نے جواب دیا کہ وہ تو اپنے آپ کو قائداعظم کا ادنیٰ سا سپاہی سمجھتے ہیں۔ جبکہ جواہر لال نہرو نے علامہ سے اِس ملاقات کے حوالے سے اپنی کتاب تلاش ہند (Dicovery of India) میں شاطرانہ طور پر لکھا ہے کہ اپنی وفات سے چند ماہ قبل علامہ نے مجھے بلا بھیجا میں نے بڑی خوشی سے اُن کے حکم کی تعمیل کی۔جب میں مختلف مسائل پر اُن سے گفتگو کر رہا تھا تو میں نے محسوس کیا کہ باوجود اختلاف کے ہم دونوں میں کس قدر اشتراکِ خیال ہے اور کتنی آسانی سے اُن کیساتھ نباہ ہو سکتا ہے۔ میرے رخصت ہونے سے ذرا دیر پہلے اُنہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم میں اور جناح میں کیا چیز مشترک ہے، وہ ایک سیاستدان ہیں اور تم ایک محب وطن؟ مجھے اُمید ہے کہ مجھ میں اور جناح میں بہت کچھ مشترک ہوگا۔ اب رہا میرا محب وطن ہونا تو آجکل یہ کوئی قابل تعریف چیز نہیں ہے۔البتہ جواہر لال نہرو نے علامہ اقبالؒ کی وفات کے بعد 1945 میں اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ دراصل مسلمان عوام اور نئے متوسط طبقے خصوصاً نوجوانوں کو متاثر کرنے میں اقبال کا اہم حصہ ہے، شروع میں اُنہوں نے اُردو میں نظمیں لکھیں جو بہت مقبول ہوئیں ۔ جنگ بلقان کے دوران اُنہوں نے اسلامی موضوع اختیار کئے اور مسلمانوں کے جذبات کو شدید تر کر دیالیکن وہ شاعر عالم اور فلسفی تھے اور عوام کی قیادت نہیں کر سکتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی اُردو اور فارسی شاعری کے ذریعے تعلیم یافتہ مسلمانوں کیلئے ایک فلسفیانہ نظریہ مہیا کر دیا اور اُن میں تفریقی رجحان پیدا کر دیا ۔ یوں تو اُن کی ہردلعزیزی اُن کی کمال شاعری کی وجہ سے تھی لیکن اُس کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ مسلم ذہن کی اس ضرورت کو پورا کر رہے تھے کہ اُسے اپنے لئے ایک لنگر مل جائے۔ کیونکہ ہندوستان کی قومی تحریک میں ہندوؤں کا غلبہ تھا اِس لئے مسلم ذہن میں کشمکش پیدا ہوئی چنانچہ بہت سے لوگوں نے اِس قومیت کو قبول کرکے علیحدگی کی تحریک میں اپنا اثر ڈال دیا۔ اندریں حالات جواہر لال نہرو کی علامہ اقبالؒ سے اِس ملاقات کے حوالے سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ نہرو جس مقصد سے علامہ صاحب سے ملاقات کیلئے آئے تھے اُسے حاصل کرنے میں ناکام رہے کیونکہ اُنہوں نے اپنی اِسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ خان عبدالغفار خان کی قیادت میں (95 فی صد مسلم آبادی والا صوبہ سرحد) مضبوطی سے کانگریس کیساتھ رہا اور یہی حال ملک کے دوسرے حصوں میں متوسط طبقے کے اُن بہت سے مسلمانوں کا تھا جن میں سیاسی شعور پید اہو چکا تھا ( نہرو کی اِن مسلمانوں سے مراد صوبہ سرحد کی خدائی خدمت گار تحریک کے علاوہ جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار سمیت دیگر مسلم مذہبی جماعتوں سے لیتے تھے جو کانگریس کیساتھ تعاون کی پالیسی اپنائے ہوئے تھیں) جبکہ قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں نہرو کی رائے تلخیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اپنی اِسی شہرہ آفاق کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان کا تانا بانا اُس کی تاریخ ، جغرافیہ ، مشترکہ تہذیب اور بعض دوسرے اسباب سے مل کر بنا ہے ۔ ہم میں سے اکثر کی رائے یہ ہے کہ ہندوستان ایک قوم ہے جبکہ مسٹر جناح نے دو قوموں کا نظریہ پیش کیا ہے۔مسٹر جناح کہتے ہیں کہ ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں ، ہندو اور مسلمان۔ مجھے نہیں معلوم آخر یہ دو قومیں کیسے ہو گئی ہیں؟ نہرو ایک جانب تو متحدہ ہندوستان کے نام پر مشترکہ تہذیب کی بات کرتے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب وہ بدھ مت اور جین مت کو بھی ہندو تہذیب کا حصہ نہیں مانتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ بدھ مت اور جین مت کو ہم ہندو مت نہیں کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی ویدک دھرم۔ہندوستان کا رہنے والا بدھ یا جینی گو سو فی صد ہندوستانی تخیل اور تہذیب کی پیداوار ہے پھر بھی ہم اُسے ہندو نہیں کہہ سکتے۔ ہم اپنی تہذیبی روایات کیلئے خواہ کوئی سا لفظ استعمال کریں انڈین، ہندی یا ہندوستانی ، ہماری تہذیب اور قوم کی اہم خصوصیت ترکیب و امتزاج کی کا وہ داخلی رجحان ہے جو ہندو فلسفیانہ طرز خیال کا پیدا کیا ہوا ہے۔بیرونی اثرات مختلف زمانوں میں ہندو تہذیب پر حملہ آور ہوتے تھے لیکن ہندوازم نے ہمیشہ اِن کا کامیابی کیساتھ مقابلہ کیا اور امتزاج اور جذب کے عمل سے اِس پر فتح حاصل کی۔ نہرو ہندوازم کی آفاقیت کے حوالے سے کہتے ہیں کہ بادی النظر میں شمال مغرب کے پٹھان اور جنوب کے تامل میں کوئی چیز مشترک نہیں ، لیکن اِن سب اختلافات کے باوجود پٹھان اور تامل دونوں پر ہندوستان کا نقش صاف نظر آتا ہے۔ سرحد کا علاقہ قدیم ہندوستانی تہذیب کے بڑے مرکزوں میں سے تھا جہاں ابھی تک پرانی عمارتوں اور خانقاؤں کے کھنڈر موجود ہیں۔موہنجو داڑو اور ہڑپہ کو دیکھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اِس تہذیب نے مدتوں ہندوستان کی سرزمین میں پرورش پائی تھی۔ البتہ جواہر لال نہرو یہ کہتے ہوئے کتراتے ہیں کہ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی دراوڑی تہزیب کو تو خود آریا ہندو سماج نے افغانستان کے راستے ہندوستان میں داخل ہو کر تباہی و بربادی کا نشان بنایا تھا۔(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

About Admin

Google Analytics Alternative