Home » کالم » علی بابے
Mian-Tahwar-Hussain

علی بابے

اس وقت ملکی معیشت اور مالی ذخائر کی جو افسوسناک صورتحال ہے وہ اس قدر بھیانک ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، قرضوں کا بوجھ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرض بے انتہا بڑھ چکا ہے آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر ہم نے کسی کا لاکھ روپیہ دینا تھا تو اس وقت وہ کئی گنا بڑھ چکا ہے ۔ ہمارے ذراءع اتنے نہیں کہ اس بوجھ کو کچھ ہی عرصے میں اتارسکیں ۔ قرض کی واپسی بھی سالوں بعد ممکن ہوگی ۔ ستر سالوں سے لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے اسے سرد ہونے میں اگر ستر ماہ بھی لگ جائیں تو سودا برا نہیں ۔ محاصل کی وصولی میں بھی خردبرد کا سایہ ہے جسکی وجہ سے ملکی آمدنی میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام ہر آنے والی حکومت سے بہت امیدیں لگا لیتی ہے اور چاہتی یہ ہے کہ پلک جھپکتے تمام مسائل حل بھی ہو جائیں ملک میں خوشحالی ہو قلیل وقت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں ۔ حقائق کچھ اور ہوتے ہیں اس لئے عوام بے خبری میں بے صبرے ہو جاتے ہیں ، ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاسکتی ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم عوام کو حقیقت بتا رہا ہے کہ خزانے خالی ہیں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں انہیں کیسے پورا کیا جائے قرض لئے بغیر چارہ نہیں اور پھر پہلے لئے ہوئے قرض کو اتارنے کی بھی ہمت نہیں انہیں اتارنے کیلئے بھی مزید قرض کی ضرورت ہے ملکی آمدنی کا بیشتر حصہ قرض کی ادائیگیوں میں نکل جاتا ہے جو باقی بچتا ہے وہ ملکی ضروریات کیلئے کافی نہیں ہوتا ۔ ایسی صورتحال میں حکومت وقت کیا کرے ان کے پاس نہ تو جادو کی چھڑی ہے کہ گھمائیں اور مسائل حل کرلیں اور نہ ہی کوئی جن بابا ہے جومدد کو آئے یہاں تو صرف علی بابے تھے جنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ خوب دل کھول کر ملکی دولت پر ہاتھ صاف کئے ۔ انہوں نے کبھی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ ملکی خزانے خالی ہیں اور قرض پر قرض لیا جارہا ہے عوام تو سب اچھا کے جملوں پر لگے ہوئے تھے وہ خود ہی قرض لیتے اور خود ہی اسکا میجر پورشن ہڑپ کر جاتے ۔ عوام کو تھوڑی بہت خبر اس وقت لگتی جب بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض کے حصول کیلئے بات چیت شروع ہوتی قرض کی اقساط ملنے پر کامیاب معاشی پالیسیوں کا اتنا ڈھنڈورا پیٹا جاتا اور بار بار یہی عمل دہرایا جاتا جیسے ہم نے بہت بڑا معرکہ سر کرلیا ہو، قوم مقروض ہوتی گئی حکومت عیش ، عشرت میں لگی رہی اور آج یہ حال ہے کہ پی ٹی آئی والے کسی کو چور اور ڈاکو کہہ کر پکاریں تو برا لگتا ہے یہ الفاظ کب اور کہاں کہاں استعمال کیے جاتے ہیں آپ خود اسکا تجزیہ کرلیں جواب مل جائے گا ۔ عمران خان نے اس حقیقت کو بین الاقوامی سطح پر بیان کیا صورتحال کو چیدہ چیدہ ملکوں کے سربراہ کے گوش گزار کیا تاکہ ملکی مالی حالت دوستوں کے تعاون سے بہتری کی طرف آسکے ۔ اس کوشش کے کیا فوائد ہوئے وہ بھی آپ کے سامنے ہیں ۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، معاشی ماہرین تو ٹیلی ویژن پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ چکے تھے کہ ملک دیوالیہ ہوچکا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ملک کی جیسی بھی حالت تھی اس کیفیت سے پوزٹیو حالت میں پہنچ گیا ۔ اس وقت ٹیکس نیٹ کو بڑھایا گیا ہے ۔ سرکاری اخراجات میں قابل ستائش حد تک کمی واقع ہوئی بعض اداروں نے ملکی مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے رضاکارانہ طورپر مطالبات زر کو پس پشت ڈال دیا ۔ عمران خان ذاتی طورپر مالی بے ضابطگیوں میں ملوث نہیں پائے گئے ۔ شوکت خانم ہسپتال لاہو، پشاور ،کراچی میں تعمیر ہوئے لوگوں نے اور خاص طورپر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دل کھول کر ہسپتالوں کی تعمیر کیلئے چندے دئیے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض کی تحقیق اور علاج ان ہسپتالوں میں اعلیٰ پیمانے پر کیا جارہا ہے ۔ کسی نے آج تک عمران خان پر انگلی نہیں اٹھائی کہ ہسپتالوں کی تعمیر کیلئے جو رقم اکٹھی کی اس میں خردبرد ہوئی ۔ لوگوں کا اعتماد ہے اور اسی اعتماد کے بھروسے پر لوگ عمران خان سے تعاون کرتے ہیں ۔ ایدھی مرحوم نے اتنا بڑا ادارہ قائم کردیا اسکی بڑی وجہ ایدھی صاحب پر لوگوں کا اعتماد تھا ۔ ملک موجودہ کیفیت سے انشاء اللہ نکل آئے گا ۔ اچھے دن بھی آئیں گے ۔ احتساب جو ستر برسوں سے نہیں ہوا تھا اب ہونا شروع ہوا ہے ۔ جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں ان کے پیٹ میں مروڑ تو اٹھیں گے ۔ وہ چاہے کسی بڑی سیاسی پارٹی کے رہنما ہوں چاہے چھوٹی سیاسی پارٹی کے انہیں جواب تو دینا ہوگا ۔ قومی دولت کو لوٹ کا مال سمجھ کر کیوں اپنی تجوریوں میں بھرا گیا ۔ احتساب کا عمل کبھی تو شروع ہونا چاہیے تھا وہ اب ہوگیا آئندہ بھی اگر یہ عمل اسی طرح شروع رہا تو امید ہے پاکستان کی دولت غیر ممالک کے بینکوں میں نہیں پہنچ پائے گی ۔ جن قربانیوں کے بعد ہم نے پاکستان کو حاصل کیا وہ کسی بھی نسل کو بھولنا نہیں چاہیے ۔ پاکستان ہی ہماری پہچان ہے اس ملک کو مالی لحاظ سے کمزور ہمارے ہی رہنماءوں نے کیا اب معیشت کو محنت اور لگن سے بہتر بنا کر اپنے ملک کو مضبوط ترین بنائیں گے ۔ انشاء اللہ دعا تو یہی ہے کہ میرا ملک جس نے مجھے سب کچھ عطا کیا اب کبھی بین الاقوامی اداروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے کہ ہ میں قرض دو آنے والے وقت میں ملک کو دفاعی طورپر بھی مزید مضبوط کرنا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی اور سیاسی حالت بھی درست سمت میں رہنی چاہیے ۔ یہ علی بابوں کا گٹھ جوڑ اور پھر ان کے پیروکاروں کی جیبوں سے جب تک ملک کی لوٹی ہوئی دولت خزانے میں واپس نہیں آجاتی تب تک ہمارا ملک کمزور معاشی اور مالی صورتحال میں رہے گا ۔ امید ہے مستقبل قریب میں مزید بہتری آئے گی، صورتحال مجموعی طورپر تسلی بخش ہوگی ۔ اللہ سے دعا ہے وہ پاک ذات ہمارے خوابوں کی تعبیر جلد عطا فرمائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative