کالم

غازی یونیورسٹی میں علمی ادبی سرگرمیاں

riaz chu

ذوقِ لطافت اور حسِ نزاکت کے حوالے سے یوں تو پورا جنوبی پنجاب منفرد مقام پر فائز ہے مگر علمی ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں مذاکروں کی محافل سے جو رونقیں ڈیرہ غازی میں نظر آ رہی ہیں۔ نہ صرف لائقِ تحسین ہیں بلکہ قابلِ رشک بھی۔ سخنورانٍ سرزمین کی بدولت غازی خان کی دھرتی زعفران زار لگ رہی ہے۔غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ نے ڈیرہ غازیخان کے ساکن اور سرگرم صحافی مظہر علی خان لاشاری کی کتاب اور صاحب کتاب کی پذیرائی کیلئے 11 نومبر 2022 کو ایک خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا۔ شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر ارشد منیر لغاری نے اس خوبصورت تقریب کے انتظامات کیے اور اپنے موثر خطاب میں طلبہ و طالبات کو تعلیم و تحقیق اور جدید علوم کی گہراﺅں کے فہم پر زور دیا۔ انہوں نے مظہر لاشاری کی علمی کاوش کو سراہا ۔ مظہر علی خان لاشاری جنوبی پنجاب کی صحافت میں ایک بڑا نام ہے۔ نوائے وقت کے بیوروچیف اور روزنامہ 92 نیوز کے سینئر کالم نگار ہیں چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ تازہ ترین تصنیف ان کے مشہور کالم کے عنوان "من کی باتیں” سے معنون کی گئی ہے۔یہ تصنیف متنوع موضوعات، زبردست معلومات اور علمی ادبی حوالے سے ایک خوبصورت تخلیق ہے جو سلیس زبان میں ہونے کے باعث ایک عام قاری کیلئے بھی بڑی دلکش اور معلومات افزا ہے۔تقریب سے ڈیرہ غازی خان ڈگری کالج اور پنجاب یونیورسٹی کے سابق معروف طالبعلم راہنما غلام مصطفی خان میرانی(چیئرمین کونسل آف نیشنل افیئرز) نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے پرانی یادوں کو دہرایا اور کہا کہ بدقسمتی سے آج کی شوریدہ سیاست اور ڑولیدہ صحافت نے ملک اور معاشرے کو بدترین ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ محبتیں مفقود اور مناقشے زوروں پر ہیں۔ بے لگام سوشل میڈیا اور زرد صحافت میں بلیک میلنگ کے رحجان نے سماجی بگاڑ اور افراتفری پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ جھوٹ، بددیانتی اور لوٹ مار کا کلچر فروغ پا رہا ہے۔ شتر بے مہار ماحول کو نکیل ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ایسے ماحول میں مظہر لاشاری جیسے نابغہ روزگار صحافی غنیمت ہیں جو اپنی بساط کی حد تک چراغ بدست ہیں اور اصلاحِ احوال کیلئے مساعی مسلسل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علمی ادبی حلقوں میں مظہر لاشاری صاحب کو "شورشِ ثانی” کہا جانا ہے۔ اس کی وجہ قال و قلم کے میدان میں ان کی فصاحت و بلاغت اور اندازِ خطابت ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مظہر خان لاشاری کے اعزاز میں منعقدہ تقریب پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامیہ کے اقدام کو احسن فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے طلبہ و طالبات سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ بڑے اہم دور سے گزر رہے ہیں۔ وقت کی قدر کریں۔ اپنے تابناک مستقبل کی تعمیر کیلئے اپنے آج کے پل پل کا حساب رکھیں۔ورنہ یاد رکھیں کہ لمحوں کا ضیاع، زندگی میں برسوں رلاتا ہے۔ وائس چانسلر غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان پروفیسر ڈاکٹر کامران عبداللہ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کردار سازی اور قومی تشخص کی تعمیر پر زور دیا۔سماجی ترقی اور قومی عروج وکمال کا راز اعلیٰ اخلاق، جفاکشی اور جہد مسلسل میں پنہاں ہے۔ جامعہ غازی مختلف شعبوں میں تعلیم و تحقیق کے معیار کو جدید تقاضوں ہم آہنگ کرنے میں لگاتار کوشش کر رہی ہے۔ علمی ادبی سرگرمیوں اور سائنسی تحقیقات سے وابستہ دلچسپیوں کی یونیورسٹی پوری حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ انہوں نے مظہر لاشاری کی تصانیف پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر ڈیرہ غازی خان کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت محمد حنیف خان پتافی نے مظہر خان لاشاری کی چوتھی تصنیف "من کی باتیں” پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مصنف نے کمال ہنرمندی سے ملک کے سیاسی سماجی اور اقتصادی حالات کی عکاسی کی ہے اور ساتھ ساتھ وسیب کے مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی بھی تعریف کی کہ جامعہ غازی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور ایم پی اے حلقہ وہ یونیورسٹی کے مسائل حل کرنے اور یہاں کے ماحول کو خوبصورت بنانے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔تقریب کے معزز مہمان مظہر علی خان لاشاری نے یونیورسٹی انتظامیہ اور سامعین و حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنی تصنیف "من کی باتیں ” کے بارے میں کہا کہ یہ ان کے مشاہدات، ادراکات اور محسوسات کے بطن سے جنم لینے والے خیالات ہیں جو قارئین کی نذر کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پانچویں تصنیف بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ مظہر خان لاشاری نے اپنے خطاب میں علم کی ضرورت، ریسرچ کی افادیت ، تاریخی اور سماجی علوم کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ طلبہ کو محنت اور لگن کے ساتھ اپنی پڑھائی کی طرف دھیان کی تلقین کی۔ انہوں نے قدیم و جدید علوم اور واقعات کے تذکروں اور تقابل کے بعض دلچسپ گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے علامہ اقبال اور آغا شورش کاشمیری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان لوگوں کے افکار ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مسائل اور علاقائی مشکلات میرے روزمرہ مطالعے کا حصہ ہیں اور حق گوئی میرا نصیب العین۔ مخلوق کی خدمت کے ذریعے میں اپنے رب کی رضا کا متلاشی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی یہ یاد گار تقریب میری زندگی کا گرانقدر اثاثہ ہے جس کیلئے میں منتظمین اور حاضرین و سامعین کا سپاس گزار ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے