Home » کالم » فرقہ وارانہ تعصبات ۔۔۔راء اور این ڈی ایس !
asgher ali shad

فرقہ وارانہ تعصبات ۔۔۔راء اور این ڈی ایس !

asgher ali shad

یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حالیہ دنوں میں راء اور این ڈی ایس کی شہہ پر وطن عزیز میں فرقہ وارانہ تعصبات کو ہوا دینے کی نئی لہر جاری ہے، کراچی میں ممتاز عالم دین مولانا تقی عثمانی پر ہونے والا قاتلانہ حملہ بھی غالباً اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت اور این ڈی ایس تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو ان کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے مگر یہ حقیقت ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کے لئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق راء اور این ڈی ایس کے اس پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس، موساد اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے۔ مودی سرکار کا جنگی جنون انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور امریکہ ہمہ وقت ’’ڈو مور‘‘ کی اپنی راگنی الاپتا رہتا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں ہندو انتہاپسندی اور ہجوم کے ہاتھوں معصوم انسانوں کے قتل کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چلے ہیں اور ان میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ بھارتی اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں بلکہ اس کی جگہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی پتھر کا زمانہ ہے جب کوئی ایک طبقہ کسی بھی جگہ کسی معصوم کو قتل کرتا تھا اور کہیں سے کوئی سوال نہیں اٹھتا تھا، بلکہ اس علاقے میں اس بربریت کے خلاف بولنے والے کو بھی جان سے ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔ یہی حال اس وقت بھارت کی اقلیتیوں خصوصاً مسلمانوں کا ہے، جن کی آئے روز کسی نہ کسی شکل میں نسل کشی ہوتی ہے اور عالمی برادری اس ساری صورتحال پر ایک خاموش تماشائی کا کردار نبھانے سے زیادہ کچھ نہیں کر رہی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بھارت میں ہولی کے تہوار کے موقع پر بھی ہریانہ کے گوڑگاؤں ( جسے ہندو جنونی آج کل گروگرام کے نام سے پکارتے ہیں) میں جنونی ہندوؤں نے معصوم مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ۔ مبصرین کے مطابق یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے جو شبانہ روز قربانیاں دیں، ان کا معترف ہر ذی شعور ہے۔ ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کی قربانیوں کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور این ڈی ایس نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو ‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے اورآفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور این ڈی ایس پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ دوسری جانب نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے مگر عالمی برادری کا ضمیر ہے کہ جاگنے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا۔ اس ضمن میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی حلقے بھی اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے اور عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔

*****

About Admin

Google Analytics Alternative