فسادیوں کا خاتمہ جاری ۔ ۔ !

16

سبھی جانتے ہیں کہ بائیس فروری 2017 سے فسادیوں کے خاتمے کےلئے آپریشن رد الفساد شروع کیا گیا تھا جس کے تین سال گذشتہ روز مکمل ہوئے اور یہ کامیابی سے جاری و ساری ہے ۔ اسی حوالہ سے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے سیاحت تک کے سفر میں سیکیورٹی فورسز کو قوم کی مکمل حمایت حاصل رہی ۔ اس حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ افواج پاکستان ملکی خودمختاری اور سیکیورٹی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیا ر ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے سے پاکستان اور خطے میں امن و استحکام آئے گاکیونکہ انسداد دہشت گردی کی دو دہائیوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دینے پر قوم کو سلام اور تمام شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ اگرچہ اس جنگ میں کامیابی کےلئے جان و مال کی قربانی دینی پڑی ، یاد رہے کہ پاکستان کی سرحدی سیکیورٹی بھی یقینی بنانا بھی اس آپریشن کا حصہ تھا ۔ آپریشن رد الفساد کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ ملک بھرکواسلحہ سے پاک کرنا،بارودی مواد پر کنٹرول اس آپریشن کا اہم جزو ہیں جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اس آپریشن کا طرہ امتیاز رہا ۔ اس کے علاوہ خیبر ایجنسی میں بھی گذشتہ کافی عرصے سے شدت پسندوں کےخلاف پاک فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں ۔ ان آپریشنز کو بالترتیب خیبر ون، ٹو اور تھری کا نام دیا گیا ہے ۔ آپریشن خیبر فور کا آغاز بھی کیا گیا تھا جس میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔ یہ بات دھیان میں رہے کہ 2014 میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے چند ماہ بعد پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بدترین سانحے کے بعد پاکستان کی فوجی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیاتھا ۔ اس دوران پاکستانی فورسز کی جانب سے وطنِ عزیز میں گذشتہ کچھ برس سے وقتاً فوقتاً کومبنگ آپریشنز بھی کئے گئے جن میں ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کی گئیں اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ۔ دوسری جانب یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ دہلی کے حکمران نہتے کشمیریوں کیخلاف غیر انسانی مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کیخلاف سراپا احتجاج مظاہرین پر بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے گزشتہ روز بھی 4کشمیری نوجوان شہید جبکہ 17افراد زخمی ہوگئے ۔ چاڑورہ کے علاقے میں ہونیوالی کارروائی میں قابض بھارتی افواج نے پیلٹ گنوں اور خود کار اسلحے کا استعمال کیا خود بھارتی ٹی وی چینل ’’ آج تک ‘‘ کے مطابق بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران عورتوں کی بے حرمتی کی اور نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونےوالے دو مجاہدین کو سپرد خاک کردیاگیا ۔ لوگوں کے جم غفیر کے باعث نماز جنازہ چار مرتبہ ادا کی گئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ ریاست میں بھارتی مظالم کا یہ عالم ہے کہ صرف جنوری 2020 کے دوران 21 معصوم کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں سے تین کی شہادت حراست کے دوران ہوئی ۔ صرف اسی مہینے میں تشویش ناک حد تک زخمی ہونےوالوں کی تعداد 287 ہے جبکہ اس نہایت قلیل عرصے کے دوران 23 دکانوں اور مکانوں کو مسمار یا نذرِ آتش کیا گیا اور یہ سلسلہ ہنوذ اسی بربریت کے ساتھ جاری ہے ۔ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس‘‘ کی ان سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ایک انسانی المیہ ہے کہ ’’ تاریخ سے بالعموم کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا ‘‘ اور یہی معاملہ دہلی کے حکمرانوں کے ساتھ بھی ہے ۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ افواجِ پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے جس دلیری سے وطنِ عزیز کے طول و عرض میں فسادیوں کا سر کچلا ہے ، اس میں دہلی اور کابل انتظامیہ کےلئے بہت سے سبق پنہاں ہیں بشرطیکہ وہ اس بارے میں دھیان دیں کیونکہ نہایت تھوڑے عرصے میں پاکستان کے سر فروشوں نے جس طرح پاکستان سے دہشتگردی کی جڑیں اکھاڑ پھینکی ہیں ، اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے وہ کم ہے اور اسی تناظر میں با وقار سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے عام لوگوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اپنی اس کوشش میں پاکستان کو خاصی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے ۔ بہر کیف توقع رکھنی چاہیے کہ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس ‘‘ جس طرح سے سی پیک کیخلاف اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں ، ان کی بیخ کنی کےلئے عالمی برادری بھی اپنا مثبت کردار ادا کرے گی ۔ اس تمام تناظر میں امن پسند حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ آنےوالے دنوں میں پاکستان کے مختلف حصوں میں جاری دہشت گردی کی لعنت کو مکمل طور پر کچل دیا جائیگا اور وطنِ عزیز ہر لحاظ سے ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنے گا ۔ ( انشاء اللہ )