Home » کالم » قطرہ قطرہ پانی

قطرہ قطرہ پانی

اس سے قبل کے کالم اسی موضوع پر لکھ چکا ہوں ، سب سے زیادہ گھریلو استعمال کے پانی کی اذیت میں راولپنڈی جیسے ترقی یافتہ اور میگا سٹی میں رہتے ہوئے خود گزشتہ ایک دھائی سے برداشت کرتا چلا ;200; رہا ہوں شاید اب کی بار حکومت کو ہماری ;200;بادی پر ترس ;200; جائے لیکن افسوس کی بات ہے کہ پچیس سال کے بعد اپنا ذاتی گھر صرف پانی کی وجہ سے چند روز قبل چھوڑ نا پڑا ۔ کئی ملاقاتیں حکام سے بالا سے کر چکا ہوں ، ہر طرف سے کورا جواب، پچھلے دنوں اپنے ایم این اے صاحب کو بھی ملا، اتنا خشک اور کورا جواب کہ میں جل کر رہ گیا، اتنی بے مروتی کہ اس نے یہ تک نہ سوچا کہ میں پنڈی سے 40 میل سفر کر کے اس کے ڈیرے پر گیا، اور مانگا کیا ،اپنا بنیادی حق پانی، جو اس نے انتہائی حقارت سے رد کر دیا کہ مشکل ہے ، ہم ;200;پ کی اس کالونی جسکے تقریبا;34; برابر سے چوہدری نثار علی خان کی حالیہ جاری کی گئی واٹر سپلاء گزر رہی تھی،وہاں سے ایک چھوٹا کنکشن دینے یا اس بابت متعلقہ حکام سے بات کرنے سے ہی صاف انکار کر دیا ۔ حالانکہ یہ ;200;بادی کوٹھہ کلاں کا حصہ اور اسی یونین کونسل میں شامل ہے جسکے لئے یہ بڑی پاءپ لائن بچھائی گئی ۔ بجائے مجھے حوصلہ دینے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ کوڑے (جھوٹے)وعدے نہیں کرتا بلکہ اس کا انداز دھتکارنے جیسا تھا ۔ جا بابا معاف کر پانڑیں شانڑیں میرے پاس نہیں ہے ۔ مجھے وہ میرا ایم این اے کم اور ایک مخبوط الحواس شخص زیادہ لگا ۔ اتنا خشک رویہ شاید اس لیئے بھی ہو کہ اسے شک ہو جیسے ووٹ ہم نے کسی اور کی صندوقڑی میں ڈالا ہو اور اب پانی اس سے مانگنے ;200;ئے ہوں ۔ پانی میرے لیڈر نے مجھے نہیں دیا بلکہ کوئی ;200;س امید تک نہ دلائی اور یوں اس لازوال محبت کا جواب انشا اللہ ;200;ئندہ انتخابات میں دینا اب مجھ پر بھی واجب ہو چکا ہے ۔ پانی کی ہر طرف کمی گھروں کھیتوں کی خشکی اور زراعت کی زبوں حالی،کے ساتھ ساتھ گذشتہ کئی دھائیوں سے ہر حکومت کی بڑے ;200;بی ذخائر کی تعمیر پر مجرمانہ خاموشی اور غفلت اور خصوصاً بھارت کا لاکھوں کروڑوں ڈالر ہر سال اس بات پر پاکستان کے اندر موجود اپنے پالتو کتوں کو اس وجہ سے کھلاتے رہنا کہ وہ بغیر کوئی معقول دلیل کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتے رہیں ، جتنی اونچی بھونک اتنا بڑا نوالہ، ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں ایک پیٹیشن ملک عبداللطیف کھوکھر ایڈووکیٹ بنام پاکستان دائر کی، یہ سال 2010 کی بات ہے، ایک دو دفعہ سپریم کورٹ کی کاز لسٹ پر نکلی، لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی، ماروی نامی ایک نام نہاد خاتون سندھ سے ہیں ، انکی اور میری جھڑپ بھی سپریم کورٹ کے اندر ہوئی جس نے مجھے دھمکی دی کہ میں اپنی پیٹیشن واپس لے لوں ورنہ خون خرابہ ہو جائے گا، ایک سماعت پر تین رکنی بنچ کے ایک فاضل جج صاحب نے میری انتہائی دل شکنی کی یہ کہہ کر کہ ان جیسی درخواستوں کو سننے کی بجائے عدالت عظمیٰ کے پاس اور بہت سے اہم کیسسز زیر التوا پڑے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ تاہم جتنی دل ;200;زای ہوتی رہی، میں اتنا ہی ڈٹا رہا کہ سال 2018 میں اپریل کو اس جیسی دیگر تمام درخواستوں کو یکجا کر دیا گیا اور فریقین کو گھنٹوں سنا گیا، دیگر درخواست گزاروں کےساتھ ساتھ مجھے بھی تقریباًفل کورٹ میں اپنے دلائل کا پورا موقع دیا گیا اور یوں ملک کے اس اہم ترین کیس کا جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ ممبر بینچ سے حتمی فیصلہ ہو گیا اور یوں تمام کی تمام درخواستیں ایک سنگل ;200;رڈر کے ذریعے ڈسپوز;200;ف کر دی گئیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative