پاکستان خاص خبریں

لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت، وزیراعظم شہباز شریف ہائی کورٹ میں پیش ہو گئے

لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت، وزیراعظم شہباز شریف ہائی کورٹ میں پیش ہو گئے

اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف ہائی کورٹ میں پیش ہو گئے ہیں چیف جسٹس اطہرمن اللہ کیس کی سماعت کر رہے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ جس تکلیف سے گزرتے ہیں اس کا کسی کو اندازہ نہیں ریاست کا وہ ردعمل نہیں آ رہا جو اس کی ذمہ داری ہے،لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں اس لیے آج آپ کو تکلیف دی ہے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے
وزیراعظم سے مکالمہ کرتے ہوے کہا کہ لاپتہ افراد بہت بڑا مسئلہ ہے ریاست کا وہ ردعمل نہیں آ رہا جو اس کی ذمہ داری ہے 9سال چیف ایگزیکٹو رہنے والے نے فخریہ لکھا کہ لوگوں کو اٹھا کر بیرون ملک بھیج دیتے ہیں لوگوں کو اٹھا کر بیرون ملک بھیج دینے کی بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی پالیسی ہے لاپتہ افراد کے اہل خانہ جس تکلیف سے گزرتے ہیں اس کا کسی کو اندازہ نہیں لاپتہ افراد احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن وفاقی حکومت نے ان کی اواز نہ سنی زیر اعظم شہباز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ میں روسٹرم پر آگئے ہیں انھوں نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کےمعاملے پر ہم نے کابینہ کمیٹی بنائی ہے کابینہ کمیٹی نے لاپتہ افراد کے معاملے پر اجلاس بھی کیے ہیں کابینہ کمیٹی نے لاپتہ افراد کے معاملے پر اجلاس بھی کیے ہیں،کیس کی سماعت جاری ہے وزیراعظم نے کہا کہ میں یہاں کوئی Lame excuse دینے نہیں آیا ایک لاپتہ فرد کے بچے نے مجھے کہا کہ وزیراعظم میرے ابو کو مجھ سے ملا دیں،یہ بہت تکلیف دہ ہے، اب ضرورت ہے کہ آگے بڑھ کر اس کے والد کی تلاش کی جائے، اللہ جانتا ہے یہ کس نے کیا ہے لیکن اس کو تلاش کرنا میری ذمہ داری ہے انھوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ اپنی بساط کے مطابق ہر کوشش کرونگا، میں اس ملک کی عدالتوں کو جوابدہ ہوں، بالآخر مجھے جا کر اپنے رب کو بھی جواب دینا ہے، میں یہاں Blame game کھیلنے نہیں آیا،ہم نے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی ہے اور اسکی چھ میٹنگز ہو چکی ہی
یاد رہے کہ اس کیس کے حوالے سے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے اخبارات روزنامہ پاکستان اور ڈیلی پیتریاٹ نے پہلی بار یہ خبر بریک کی تھی جس پر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس سے متعلقہ تمام اداروں کو طلب کیا تھا اس کیس میں حساس اداروں کے سربراہ اور پولیس کے اعلئی حکام بھی پیش ہوئے تھے اس کیس میں روزنامہ پاکستان اور اسکے چیف ایڈیٹر ایس کے نیازی کو ایک فریق تسلیم کیا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri