لوڈشیڈنگ کا عذاب کب ختم ہوگا

18

آج کل دوسرے اہم مسائل کے ساتھ ساتھ وطن عزیز بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے ۔پنجاب کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں انتہائی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ یہاں پر رہتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں ایتھوپیا یا افریقہ کے کسی پسماندہ ملک میں رہ رہے ہیں۔ نواز شریف کو عمران خان کے ساتھ دشمنی کرنی چاہئے مگر نواز شریف خیبر پختون خوا کے لوگوں سے الیکشن ہارنے کا بدلہ لے رہے ہیں ۔ گرمی میں جو ن جولائی، اگست ستمبر میں جب بجلی استعمال 18 اور19 ہزار میگا واٹ تک بڑ ھ جاتا ہے تو 40 فی صد کے حساب سے 6 ہزار میگا واٹ اور سر دیوں میں جب بجلی کاکل خرچہ 12 یا 13 ہزار میگا واٹ ہوتا ہے، تو سر دی میں 4یا ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی چو ری ہوتی ہے۔ اسی طر ح گیس کی 25اور 30 فیصد کے درمیان چو ری ہو تی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تمام خرچہ ایک غریب صا رف دیتا ہے اور اسی طر ح اسکے بھاری بھر بل آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بجلی اور گیس چو ری کو کیسے روکا جائے ۔ اگر ہم کسی بھی مذہب کے ماننے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تو پھر تو ہمیں کسی قانون اور ضابطے کی ضرورت نہیں مگر بد قسمتی سے ہم برائے نام مسلمان ، سکھ ، عیسائی ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا کوئی ایمان دین نہیں اور ہم اللہ سے زیادہ ڈنڈے سے ڈرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کو نسا راستہ اختیارکیا جائے کہ بجلی اور اور گیس کی 30 سے 40 فی صد بجلی چو ری کو قابو کر کے غریب پر انکا بو جھ کم کیا جائے ۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں ہمیں پری پیڈ میٹراستعمال کو رواج دینا چاہئے۔ جس طر ح ہم میں موبائیل میں کا رڈ یا ازی لو ڈ کرتے ہیں۔ اسی طر ح ہمیں پری پیڈ بجلی، پانی اور گیس میٹر کو استعمال کر کے بجلی چو ری کے واقعات کو کم کر سکتے ہیں۔ جس سے ملک میں کا فی حد تک لو ڈ شیڈنگ اور بجلی چو ری روکنے پر قابو پایا جائے گا۔اور ہمارے بجلی کے وزیر عابد شیر علی جو دوسرے صوبوں کے لوگوں پر بجلی چو ری کے جو الزامات لگاتے ہیں کم از کم اس کا تدارک تو ہوجائیگا اور یہ بھی پتہ چلے کا کہ کونسا صوبہ کتنا چور ہے۔ اس وقت جن ممالک میں پری پیڈ میٹرکا نظام رائج ہے اُن میں امریکہ ، بر طانیہ، آئر لینڈ، ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ، بھارت، ارجنٹینا اور اسکے علاوہ بُہت سارے ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔پائک ریسر چ نے پو ری دنیا میں 30 ملین پری پیڈ میٹر لگائے گئے ہیں اور سال 2017 تک انکی تعداد 500ملین تک پہنچ جائے گی۔پا ئک ریسر چ کے مطابق پری پیڈ میٹر کی ما رکیٹ 2016 تک 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ سالوں میں یہ ما رکیٹ700 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ در اصل ا سے نہ صرف ملک میں بجلی اور گیس چوری میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ہمارے بُہت سارے سماجی، اقتصادی اور کلچرل مسائل حل ہو نگے۔ہم اکثر اپنے مکان اور دکان کو کسی کو کرائے پر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات یا تو کرایہ دار بھاگ جاتا ہے اور یا بجلی اور گیس بل کسی وجہ سے متنا زعہ ہو جاتا ہے۔ آج کل واپڈا ملازمین اور واپڈا صا رفین کا سب سے بڑا مسئلہ غیر مُنصفانہ بل پری پیڈ میٹر لگانے سے کم ازکم مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان بجلی اور گیس بل پر جو مسائل اور چپقلش ہوتی ہے اُس میں زیادہ حد تک کمی آئے گی۔ ایک صا رف کو پتہ ہو گا کہ مُجھے بجلی کس وقت کس طرح بجلی استعمال کرنی چاہئے