ہمارے وسیب میں یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں سیاسی اختلاف اکثر سیاسی دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ اختلاف رائے کو جمہوری حسن سمجھنے کے بجائے اسے محاذ آرائی کا جواز بنا لیا جاتا ہے۔ نتیجتا ریاستی معاملات پالیسی کے تسلسل کے بجائے سیاسی اتار چڑھا کی نذر ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیر اعلی کے پی کے کی ملاقات کا اصل وزن اسی پہلو میں ہے کہ اس نے یہ پیغام دیا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر ریاستی معاملات پر بات چیت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ یہی طرز عمل ملک کو درپیش بڑے مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔خیبر پختونخوا اس وقت سکیورٹی کے حوالے سے سب سے زیادہ دبا کا شکار صوبہ ہے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے نہ صرف عوام کو نالاں کیا ہے بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی استحکام پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں۔ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اس کے مقابلے کیلئے سیاسی اتفاق رائے، انٹیلی جنس تعاون، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی سطح پر اعتماد سازی ناگزیر ہے۔ اگر وفاق اور صوبہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے مشترکہ حکمت عملی بنائیں تو سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سب سے اہم پہلو سیاسی اتحاد ہے۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں مصروف رہتی ہیں تو شدت پسند عناصر کو جگہ ملتی ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے بالاتر رکھنا ریاستی دانشمندی کی علامت ہوتا ہے۔ تمام بڑی جماعتوں کو ایک مشترکہ نیشنل سکیورٹی چارٹر پر متفق ہونا چاہیے جس میں واضح اہداف، ذمہ داریاں اور نگرانی کا نظام طے ہو۔ پارلیمنٹ کو اس عمل کا مرکز بنایا جائے تاکہ فیصلوں کو عوامی نمائندگی کی قوت حاصل ہو۔معاشی صورتحال بھی کسی ایک حکومت یا جماعت کی پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں کی پالیسی کمزوریوں، سیاسی عدم تسلسل اور غیر پیداواری ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم پر شفاف اور بامقصد مکالمہ ضروری ہے۔ این ایف سی ایوارڈ، ترقیاتی فنڈز، سکیورٹی اخراجات اور پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی پیکجز جیسے معاملات صرف فائلوں میں نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے چاہئیں۔ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کے طور پر اضافی وسائل، انفراسٹرکچر اور بحالیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ یہ تقاضا سیاسی رعایت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ہے۔سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ سرمایہ کار وہاں آتا ہے جہاں پالیسی کا تسلسل، قانون کی حکمرانی اور سیاسی درجہ حرارت متوازن ہو۔ جب ملک میں ہر چند ماہ بعد محاذ آرائی، احتجاج اور غیر یقینی کیفیت پیدا ہو تو معیشت دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتی ہے۔ وزیراعظم اور وزیر اعلی کے درمیان رابطہ اسی لیے اہم ہے کہ یہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی سمت ایک قدم ہے۔ اس عمل کو وقتی تصویر یا رسمی اعلامیے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مستقل بین الحکومتی رابطہ میکانزم کی صورت دینا چاہیے۔ملکی سیاست میں ایک بڑا تنازع بانی پی ٹی آئی عمران خان کو مقید رکھنا اور اس پر مقدمات ہیں۔ اس معاملے نے سیاسی تقسیم کو گہرا کیا ہے اور ایک بڑی عوامی تعداد خود کو سیاسی طور پر غیر مطمئن محسوس کرتی ہے۔ ایسے حالات میں مفاہمتی راستہ اختیار کرنا ریاستی مفاد میں ہوتا ہے۔ عدالتی عمل اپنی جگہ مگر سیاسی قیادت کو کشیدگی کم کرنے کے لیے قانونی اور آئینی دائرے میں ریلیف کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ سیاسی قیدیوں کے معاملات، طویل مقدمات اور انتقامی تاثر رکھنے والی کارروائیاں جمہوری ماحول کو کمزور کرتی ہیں۔ اگر رہائی یا ریلیف کا کوئی آئینی راستہ نکلتا ہے تو اسے قومی مفاہمت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ملک کو اس وقت بدلے کی سیاست نہیں بلکہ معافی کی سیاست کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے کا رجحان وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر طویل المدت نقصان پہنچاتا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ آج کا مخالف کل کا اتحادی بھی بن سکتا ہے۔ قومی ترقی کے لیے اجتماعی سوچ، برداشت اور مکالمہ بنیادی ستون ہیں۔ پارلیمانی کمیٹیوں کو فعال بنا کر متنازع معاملات کو سڑک کے بجائے ایوان میں حل کیا جا سکتا ہے۔صوبائی حقوق کا معاملہ بھی پاکستان کی سیاست میں حساس حیثیت رکھتا ہے۔ چھوٹے اور بڑے صوبے کی بحث سے نکل کر مساوی شہری حقوق اور متوازن ترقی کی سوچ اپنانی چاہیے۔ ہر صوبے کو اس کا آئینی اور مالی حق بروقت ملنا چاہیے۔ ترقیاتی منصوبوں کی ترجیح سیاسی وابستگی نہیں بلکہ ضرورت ہونی چاہیے۔ پسماندہ علاقوں میں بجلی، سڑک، پانی، سیوریج، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنا وفاق اور صوبے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب بنیادی سہولتیں ملتی ہیں تو محرومی کا احساس کم ہوتا ہے اور ریاست سے وابستگی مضبوط ہوتی ہے۔ انتظامی سطح پر بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ، مشترکہ ٹاسک فورسز اور مربوط پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی، اسمگلنگ، ٹیکس چوری، غیر قانونی ہجرت اور سرحدی مسائل ایسے شعبے ہیں جہاں الگ الگ حکمت عملی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ مشترکہ آپریشنل فریم ورک اور جوابدہی کا نظام بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیاسی قیادت کو بیوروکریسی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔میڈیا اور عوامی بیانیے کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ سنسنی، الزام اور نفرت پر مبنی گفتگو وقتی توجہ حاصل کرتی ہے مگر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ سنجیدہ، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی مکالمہ ہی پائیدار سیاسی کلچر کو جنم دیتا ہے۔ قیادت کو اپنے بیانات میں تحمل، شائستگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ کارکنوں اور عوام تک بھی یہی پیغام جائے۔وزیراعظم اور وزیر اعلی کے پی کے کی ملاقات کو ایک آغاز کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ رابطہ مستقل مزاجی، عملی فیصلوں اور قابل پیمائش نتائج میں تبدیل ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل، معاشی بحالی کے لیے مربوط پروگرام، سیاسی کشیدگی میں کمی، قیدیوں اور مقدمات کے معاملے میں قانونی سہولت، اور صوبائی حقوق کی منصفانہ ادائیگی ایسے اقدامات ہیں جو اس ملاقات کو تاریخی بنا سکتے ہیں۔پاکستان کی بقا اور ترقی کسی ایک جماعت، ایک صوبے یا ایک شخصیت سے وابستہ نہیں بلکہ اجتماعی دانش، برداشت اور تعاون سے جڑی ہوئی ہے۔ جب قیادت بیٹھ کر بات کرتی ہے تو راستے نکلتے ہیں۔ جب دروازے بند کیے جاتے ہیں تو بحران گہرے ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ٹیبل ٹاک ہی وہ راستہ ہے جو تصادم کو تعاون میں بدل سکتا ہے اور ملک کو استحکام اور ترقی کی سمت لے جا سکتا ہے۔
محاذ آرائی نہیں،مفاہمت ۔۔۔!

