Home » کالم » محرم الحرام اسلامی سال کے مہینے کی اہمیت

محرم الحرام اسلامی سال کے مہینے کی اہمیت

محرالحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جو تقویم اسلا می اور سن ہجری کا نقطہ آغاز بھی وَ ہے ۔ اس مہینے کی دس تاریخ کو کربلا میں حضرت امام حسین;230; شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے ۔ اسی ماہ میں حضرت آدم علیہ اسلام کی توبہ قبول فر مائی گئی ۔ اسی مہینے میں حضرت نوح علیہ اسلام کی کشتی طوفان نوح کے بعد ایک پہاڑ جودی کے قریب آ کر رک گئی ۔ اسی ماہ میں حضرت یوسف علیہ اسلام کو قید سے رہائی حا صل ہوئی ۔ اسی ماہ حضرت ایوب علیہ اسلام کو طویل بیماری کے بعد شفا یاب ہو ئے ۔ اسی ماہ میں حضرت یو نس علیہ اسلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی ۔ اسی ماہ میں حضرت موسی علیہ اسلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور آل فرعون سے نجات دلائی اور فرعون کو ساتھیوں سمیت بحیرہ قلزم میں غرق کر دیا ۔ اسی ماہ میں حضرت عیسی علیہ اسلام کو زندہ آسمان پر لے جایا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ان تمام واقعات کا تعلق دین اسلام کی آمد سے قبل ہے اور یہ تمام واقعات محرم کی دسویں جسے عاشورہ محرم کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے پیش آئے ۔ قیامت کا وقوع بھی دسویں محرم بروز جمعہ کے دن ہو گا ۔

شاہ است حسین رضہ بادشاہ است حسین ;230;

( شاہ بھی حسین;230; ہے بادشاہ بھی حسین;230; ہے )

دہم است حسین ;230; دین پنا است حسین ;230;

(دین بھی حسین ;230; ہے ۔ دین کو پنا دینے والا بھی حسین ;230; ہے)

سرداد نہ داد دست در دست یزید

(سر دے دیا مگر نہیں دیا ۔ اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں )

حقا کہ بنائے لا الل است حسین ;230;

(حقیت تو یہ ہے کہ لا الہ الا ا;203; کی بنیاد ہی حسین ;230; ہے )

یہ حقیقت ہے کہ تاریخ انسانی کی دو قر با نیاں پوری تاریخ میں منفرد مقام اور نہایت عظمت و اہمیت کی عامل ہیں ۔ ایک امام الانبیا ء سیدالمرسلین ، خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ ﷺ کے جداعلیٰ حضرت ابراہیم ;230; و اسماعیل ;230; کی قربا نی اور دوسری نواسۃ رسول ، جگر گوشہ علی;230; و بتول ;230; شہید کر بلا حضرت امام حسین;230; کی قر با نی ۔ ان دونوں قربا نیوں کا پس منظر غیبی اشارہ اور ایک خواب تھا ۔ اس کی خاطر بیٹے نے باپ کے سامنے اپنے سر کو قربان ہونے کےلئے جھکا دیا تھا ۔ روایت کے مطابق جب سید نا حسین ابن علی;230; اپنے جان نثاروں کے ساتھ کربلا کی جانب جب روزنہ ہوئے اور روکنے والوں نے آپ کو روکنا چاہا تو آپ نے تمام باتوں کے جواب میں ایک بات فرمائی کہ میں نے اپنے نانا رسول اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے آپ ﷺ نے تاکید کے ساتھ مجھے ایک دینی فریضہ انجام دینے کا حکم دیا ہے ۔ اب بہر حال یہ فریضہ میں ضرور سر انجام دونگا ۔ اب خواہ اس میں مجھے نقصان ہو یا فائدہ ۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہ خواب کیا ہے ۔ فرمایا ابھی تک نہ کسی کو بتایا ہے اور نہ کسی کو بتاءو گا ۔ روایات کے مطابق یزید نے اسلامی اقدار اور دین کی روح کے منافی اپنی حکومت کا اعلان کر چکا تھا ۔ زبردستی عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا ۔ اس حکم کو ماننے کےلئے کوئی بھی حربہ استعمال کرتا تھا تاکہ لوگ میری بیعت کر لیں ۔ لیکن نواسہ رسولﷺ جگر گوشہ علی ;230; و بتول حضرت امام حسین;230; نے یزید کے کسی حکم کی پرواہ نہ کی ۔ یزید کے ظلم و جبر پر مبنی باطل نظام کے خلاف جرات اظہار اور اعلان جہاد بلند کرتے ہوئے اسوا پیغمبری پر عمل پیرا ہوئے ۔ امت مسلمہ کو حق و صداقت ا ور دین پر مر مٹنے کا درس دیا ۔ پھر اسی پر عمل کرتے ہوئے یزید کے خلاف ۷۲ نفوس قدسیہ کے ہمراہ کربلا میں وارد ہوئے ۔ اور حق و صداقت اور جرات و شجاعت کی وہ مثال قائم کی جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی ۔ حق کی آ واز بلند کرنا ، انسانی اقدار کا تحفظ اور دین کی سر بلندی ہی دراصل اسواہ پیغمبری اور شیوہ شبیری ہے ۔ جب حضرت امیر معاویہ;230; کے بعد یزید نے اقتدار سنبھالا تو یزید نے خود اور اپنے کارندوں سے مسلمانوں سے اپنی خلافت کے حق میں بیعت لینی شروع کر دی تھی ۔ جو حکم نہ مانتا اس پر تشدد کرتے ۔ بیعت کا یزید نے سید نا حسین;230; سے بھی مطالبہ کیا تھا لیکن آپ نے یزید کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ انکار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یزید کی بیعت خلافت نہیں بلکہ ملو کیت تھی ۔ یزید کی بیعت نہ کرنے والے صحابہ پر بدسلوکی کا مظاہرہ کرتا تھا ۔ ان حالات کے پیش نظر آپ کربلا میں ساتھیوں کے ساتھ پہنچے ۔ نو محرم کو یزید نے بیت نہ کرنے پر پانی بند کر دیا ۔ اور بالاخر اس معرکہ میں سید نا امام حسین ڑضہ نے ا حقاق حق کی خاطر حق و صداقت اور جرات و شجاعت کی بے مثال تاریخ رقم کر کے جام شہادت نوش فرما لیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی خواب کی تعمیل دس ذی الحجہ کو پوری ہوئی اسی طرح نواسہ رسول ﷺ اپنا خواب دس محرم کو سرزمین کربلا پر اپنا یہ خواب پورا کر دکھایا ۔ جس طرح حضرت اسماعیل علیہ اسلام سے جس سنت کی ابتدا ہوئی تھی ، سید نا حسین ;230; پر اس کی انتہا ہوئی ۔ آپ دونوں کی قربا نیاں میں جذبہ عشق و محبت کار فرما تھا ۔ اس لئے یہ قربانیاں آج تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہے گیں ۔ میاں محمد بخش فرماتے ہیں ۔

کملی دنیا چیتے رکھیا ابراہیم رضہ دا لیلا

بھل گئی ویکھ محمد بخشا حسین رضہ دا ڈیگر ویلا

پیری بیٹری کندے وچ تیر کی جانے بے در د زمانہ

درد حسین;230; دی اماں جانے یا جا نے حسین;230;د ا نانا ﷺ

About Admin

Google Analytics Alternative