Home » کالم » محکمہ وائلڈلائف کی بے حسی

محکمہ وائلڈلائف کی بے حسی

حال ہی میں محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے 200سے زائد انتہائی خوبصورت اور نادر پرندے جن کو انگریزی میں فیزنٹ اور اردو میں منال یادراج کہا جاتا ہے ،چڑیا گھر سے چکوال کے ایک علاقے میں ’’آزاد‘‘ کئے ۔اس کے ساتھ ساتھ شکاریوں کو اکٹھا کیا اور قتل عام کی دعوت دی ،مفت میں نہیں ،شکاریوں سے قتال کی فیس لی گئی ۔ اس قتال سے محکمہ جنگلی حیات نے ساڑھے سات لاکھ روپے کمائے ۔یہ وہ فیس تھی جو شکاریوں نے یہ خوبصورت پرندے مارنے کیلئے ادا کی ۔حکومت پنجاب نے اس شرمناک قتال کی جو قیمت وصول کی وہ ان 200پرندوں کی زندگی کی قیمت کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔حکومت ساڑھے سات لاکھ روپے کی’’ خطیر‘‘ رقم سے کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ؟کوئی ڈیم تعمیر ہو گا ،کوئی موٹر وے بنے گی یا کوئی قرض اتارا جائے گا؟ معزز قارئین دنیا بھر میں جنگلی حیات کا دن منایا جاتا ہے ۔وطن عزیز میں بھی این جی اوز کے زیر اہتمام آگاہی واکس اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں جس میں ماہرین جنگل کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں ہمارے ہاں جانوروں اور پرندوں کے تحفظ سے متعلق بھی کئی تنظیمیں قائم ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ نہ جانے کیوں چکوال کے علاقے میں پرندوں کے اس قتل عام پر کسی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی پاکستان میں ہر دن دنیا بھر سے آنے والے پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو رہی ہے ۔ جب انسان کے پاس بے تحاشا اور زائد ازضرورت آمدنی ہو تو وہ نت نئے مصارف دریافت کر لیتا ہے ۔دور جدید نے دنیا بھر میں جہاں ارتکاز دولت کو عام کیا وہاں نت نئے مصارف بھی دریافت کرائے ۔ایسے ہی مصارف میں ایک شکار بھی ہے ۔انسان پرانے وقتوں ہی سے شکار کرتا آیا ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ شکار صرف غذائی ضروریات کیلئے یا کسی موذی سے نجات پانے کیلئے ہوا کرتا تھا ۔تفریح کیلئے شکار کرنے والے شاذ ہوا کرتے تھے ۔آج حال یہ ہے کہ تفریح اور کھیل تماشے کے طور پر جانوروں اور پرندوں کو ہلاک کرنا ان کی گردنیں اور کھال اتار کر بطور ’’ٹرافی ‘‘ اپنے گھروں کی زینت بنانا مشغلے کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔امیر لوگ شکار کیلئے غریب اور پسماندہ ممالک کا رخ کرتے ہیں ان کا سر اور کھالیں بطور’’ٹرافی‘‘ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔19ویں صدی سے قبل اس کا رواج نہ تھا ۔شکاریوں نے ہاتھی دانت کے حصول کیلئے اس کی نسلیں ختم کر ڈالیں ۔اس تمام کھیل تماشے کو ’’ دا بگ گیم ‘‘ کا خوبصورت نام دیا گیا ہے۔بہیمیت کو خوشنما الفاظ کے جامے میں ملفوف کر دینا رواج پا گیا ہے۔ابن صفی نے کہا تھا
آدمی کیوں ہے وحشتوں کا شکار
کیوں جنوں میں کمی نہیں ہوتی
جنوں میں کمی نہ ہونے کا سبب شائد یہ بھی ہے کہ آج ہر چیز کیلئے جذبہ محرکہ ،پیسہ یا تفریح اور لذت خوشی قرار پا چکا ہے ۔شکار کا بگ گیم ایک جانب ملین ڈالر انڈسٹری ہے تو دوسری جانب پیسے والوں کی تفریح وتسکین کا سامان۔افریقہ میں اسے بگ گیم کا نام دیا گیا ہے ۔وہاں شیر ، ہاتھی گینڈے ،بھینسے اور چیتے کے شکار کیلئے شکاری آتے ہیں ۔ ہزاروں ڈالر لٹا کر شکار کرتے ہیں اور اپنی ٹرافی سمیٹ کر چلتے بنتے ہیں اور اپنی ہلاکتوں پر فخر کرتے ہیں ۔اگلے زمانے میں بادشاہ سلامت یا شہزادی ذیشان شکار کو نکلنے والے سوار ،پیادے ،کارندے ،محافظ اور خاصہ بردار بھی اپنے شوق ،استعداد اور توفیق کے مطابق ذوق شکار کی تسکین کرتے تھے ۔کئی شکار کے شائقین چیتے یا کسی خونخوار درندے کے شکار کا خطرہ مول نہ لیتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات سے ہی پرندے منگوا کر اور ان پرندوں کو نشانہ بنا کر ہی سامان آسودگی کر لیتے ہیں ۔اصل مسئلہ اس جبلت کا ہوتا ہے جو شکار کو نکلنے والے ہر فرد کے دل میں ہوتی ہے ۔کسی پرندے کو تاک کر نشانہ لگانا ،اس کا زخمی ہو کر پھڑپھڑاتے ہوئے گرنا ،اس کے جسم سے لہو کے فوارے پھوٹنا ،اس کا تڑپنا اور پھر آہستہ آہستہ اس کے اعضاء کا ڈھیلے پڑ جانا اور بلآخرکھلی آنکھوں کے ساتھ ساکت و صامت ہو جانا شکاری کیلئے قلبی راحت کا باعث ہوتا ہے۔معزز قارئین جنگلی جانور اور خوبصورت پرندے قدرت کا حسین تحفہ ہیں ۔ان کی حفاظت کرنا تو ہم سب کا فرض ہے ۔خداوند کریم کی طرف سے بنائی گئی یہ دنیا صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں ،چرند پرنداور جانوروں کا رہنا بھی اتنا ضروری ہے جتنا خود انسانوں کیلئے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انسانوں نے ان حشرات الارض اور طرح طرح کے پرندوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا شروع کر رکھا ہے ۔ہمارے ہاں انسانوں کے تحفظ کیلئے جو قوانین و ضوابط بنائے گئے ہیں ان پر کسی نہ کسی طریقہ سے عمل درآمد ہو ہی جاتا ہے لیکن ان بے چارے جانوروں کیلئے کوئی ایسے اقدامات نہیں کئے جاتے کہ ان کی نسلیں محفوظ رہ سکیں ۔کہنے کو تو حیوانات کے تحفظ کیلئے وائلڈ لائف کا محکمہ قائم ہے اور ناپید ہونے والے جانوروں کی نسلوں کے تحفظ کیلئے مختلف قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور ان پر عمل درآمد کیلئے محکمہ وائلڈلائف میں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو کھپایا بھی گیا ہے لیکن یہ ملازمین جانوروں کا تحفظ کرنے کے بجائے اپنے افسروں کو خوش کرنے اور مقتدر شخصیات کے علاوہ بڑے بڑے سیاستدانوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے خود ہی ان قیمتی اور نایاب جانوروں کے خاتمہ کا سبب بن رہے ہیں ۔محکمہ ’’وائلڈ لائف‘‘ کے ملازمین کی ’’آشیر باد ‘‘ سے ہونے والے غیر قانونی شکار نے خوبصورت جانوروں اور پرندوں کو نایاب کر دیا ہے جبکہ ان ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے دکانداروں نے اپنی دکانوں اور لوگوں نے گھروں کے اندر خوبصورت پرندے چھوٹے چھوٹے پنجروں میں قید کر رکھے ہیں ۔وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی مبینہ ملی بھگت سے صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں موسم سرما میں سائبیریا سے آنے والے پرندوں کا بے دریغ شکار کیاگیا جبکہ بنوں ، کوہاٹ اور ڈی آئی خان کے ریگستانی علاقوں میں باز پکڑنے کا کاروبار بھی زوروں پر ہے جبکہ راقم کا علاقہ ہیڈمرالہ سیالکوٹ ہزاروں نایاب پرندوں کیلئے موت کی آماجگاہ بن گیا ہے علاقہ میں نہروں کے کناروں کے قریب شکاریوں نے اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور محکمہ کی چشم پوشی کے باعث پرندوں کی نایاب نسلیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ یورپ سے آنے والے پرندوں کا شکار کرنے کیلئے اکثر اوقات اعلیٰ شخصیات ان شکار گاہوں کا رخ کرتی ہیں اور ان کی آمد پر سیکورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔دنیا بھر کے یخ بستہ خطوں اور ممالک کے علاوہ روس کے سرد علاقے سائبیریا میں سردیاں شروع ہوتے ہی ہر سال لاکھوں خوبصورت پرندے طویل اڑانیں بھرتے اور شور مچاتے پاکستان اور بھارت میں سردیاں گزارنے آتے ہیں ۔ان میں زیادہ ترپرندے سائبیریا کے علاوہ کینیڈا ،آسٹریلیااور نیوزی لینڈ سے آتے ہیں جبکہ 70فیصد پرندے افغانستان سے تین فضائی راستوں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن اس سال پرندوں کی بڑی تعداد نہ جانے کیوں نہیں آئی۔محکمہ جنگلی حیات کے اجازت نامے سے ہر سال پرندوں اور جانوروں کے قتل عام کے مقابلے افسوس ناک ہیں۔کیا موجودہ حکومت جو ملک کوگرین، خوبصورت اور سیاحوں کیلئے پر کشش بنانے کا کئی بار عندیہ دے چکی ہے محکمہ وائلڈ لائف کے خلاف غیر قانونی شکار کرانے ،قیمتی اور نایاب جانوروں کے قتل عام کے علاوہ شکار کا لطف اٹھانے والے سیاستدانوں اور امراء کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی اور جگہ جگہ دکانوں میں مقیدخوبصورت پرندوں کو رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

About Admin

Google Analytics Alternative