Home » کالم » مریم نواز اوربلاول بھٹو کاسیاسی مستقبل

مریم نواز اوربلاول بھٹو کاسیاسی مستقبل

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں سفر شروع کر دیا ہے جبکہ دنیا آگے جا رہی ہے ۔ بعض اراکین پارلیمنٹ کی خرید و فروخت، وہی مخالف جماعتوں میں توڑ پھوڑ،وہی الزام تراشیاں ،وہی مخالف صوبائی حکومت کو گرانے کی باتیں ۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان;238; کیا ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ہے ۔ اب تو بات اناء کی تسکین پر بھی آگئی ہے کہ مخالف جماعتوں کا سیاسی طو پر نیست و نابود کر دو ۔ مخالف سیاستدانوں کو کسی نہ کسی طرح پابند سلاسل کر دو ۔ الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہو ۔ حکمران جماعت کے ترجمانوں کی فوج ظفر فوج کی یہ ڈیوٹی لگا دی گئی ہے کہ صبح بستر سے بذریعہ ٹوئیٹ الزامات اور دشنام طرازی سے دن کا آغاز کرواور پھر دن میں پریس کانفرنسوں اور بیانات کے زریعے سیاسی مخالفین کو گندہ کرتے رہو ۔ میڈیا کی تنقیدی زبان بند رکھواور شام کو شاباش اسی کو ملے گی جس کی دن بھر کی کارکردگی سب سے بہتر ہوگی ۔ اس وجہ سے اگلے دن ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا مقابلہ پھر شروع ہو جاتا ہے اور رات تک جاری رہتا ہے ۔ ترجمانوں کے علاوہ بعض وزراء بھی تنخواہ اور مراعات کا حلال کرنے کی کوشش میں ترجمانوں سے آگے نکلنے کی تگ و دو کرتے ہیں ۔ تنخواہ او ر مراعات تو وزارتی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے اور عوام کے مسائل حل کرنے سے حلال ہوتی ہے ۔ لیکن یہاں تو سب کچھ الٹا چل پڑا ہے ۔ حکمرانوں کو ان باتوں سے فرصت ہو تو عوام کی مشکلات کے حل پر توجہ دیں ۔ ان کو کیا معلوم کہ عام آدمی کے کیا مسائل ہیں ۔ وہ کس طرح روٹی پوری کرتا ہے اور اس کے بچے پیٹ بھر کر روٹی کھا بھی لیتے ہیں یا نہیں ۔ دوائی خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے مریض اور ان کے گھر والے کن کن اذیتوں سے گزرتے ہیں ۔ گیس اور بجلی کے روز بروز بڑھتے بل اور مکان کا کرایہ سفید پوش کیسے ادا کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پڑھے لکھے نوجوان روزگار اور نوکریوں کے حصول کے لیئے کس طرح در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ کیا ملک افراتفری اور بدامنی کی طرف نہیں بڑھ رہا ۔ یہ نہایت ہی توجہ طلب بات ہے ۔ ماضی میں ہارس ٹریڈنگ کا سنتے تھے ۔ کیا آج ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ بجٹ پاس کرانا ہو یا اب چیئرمین سینیٹ کا معاملہ کیا ہم ماضی میں واپس نہیں چلے گئے ہیں ۔ جب اپوزیشن نے بجٹ کے مسترد اور منظور نہ کرنے کی بات کی تو حکومت نے کس دھڑلے سے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں بجٹ ضرور منظور ہوگا ۔ کیا اس دوران لین دین نہیں ہوا ۔ جس کے نتیجے میں بجٹ منظور کرایا گیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو چھوڑ کر بعض چھوٹی جماعتیں پوری کی پوری بِک گئیں ۔ اور اپنے مفادات حاصل کر لئے ۔ اب یہی کچھ چیئر مین سینٹ کے معاملے میں ہو رہا ہے ۔ حکومت برملا چیئرمین سینٹ کو ڈٹ جانے کا کہہ چکی ہے اور بڑے وثوق سے کہتی ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی تحریک کامیاب نہیں ہوگی ۔ صادق سنجرانی کو کیوں ہٹایا جا رہا ہے یہ الگ بحث ہے لیکن یہ کیسا نیا پاکستان ہے یہ کیسی جمہوریت ہے کہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے کیئے جائیں ۔ میر صادق اور میر جعفر تو ہر جماعت میں اور ہر وقت موجود ہوتے ہیں ۔ اپنے ضمیر کے سوداگر کہاں نہیں ہوتے لیکن کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا تھا جو آج نئے پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت وفاقی حکومت کی آنکھ کا کانٹا ہے ۔ برسراقتدار آنے کے بعد تحریک انصاف کی یہ کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح سندھ کے عوام کے ووٹ کو بے تقدس کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کیا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کےلئے وہاں اراکین صوبائی اسمبلی کی خریداری کو کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہوئی ۔ پھر متعدد رہنماءوں پر طرح طرح کے مقدمات بنائے گئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ لیکن پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماءوں اور اراکین قومی اسمبلی اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے ہی رہیں گے ۔ چند ایک کو چھوڑ کر باقی پیپلز پارٹی کی روایت ہے کہ جتنے بھی نا مساعد حالات ہو ں یہ جماعت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جمے رہتے ہیں اور ان کے قدموں میں لغزش نہیں آتی ۔ سندھ حکومت گرانے کی کوشش میں ایک وفاقی وزیر نے گورنر سندھ کو جادوگر بھی کہا ۔ کئی بار گورنر راج کی بھی بات ہوئی لیکن گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر ان افواہوں اور دعوءوں کی تردید کی اور کہا کہ سندھ میں گورنر راج سے متعلق نہ کوئی تجویز زیر غور ہے نہ ہی ایسی ان کی سوچ ہے ۔ ویسے بھی آئینی طور پر گورنر راج نافذ کرنے کےلئے بعض حالات و واقعات ضروری ہیں اور اس وقت صوبے میں ایسے کوئی عوامل نہیں ہیں جن کی بنیاد پر آئینی طور پر گورنر راج نافذ کیا جا سکے ۔ پاکستان کی سیاست میں اور موجودہ حالات میں بلاول بھٹو اور مریم نواز واقعتا ایک تبدیلی ہے ۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز اگرچہ اس وقت ایک صفحے پر ہیں ۔ دونوں حکومت کے مخالف ہیں لیکن دونوں کی سیاسی سوچ میں بہت بڑا فرق ہے ۔ مریم نواز کی ساری توجہ میاں نواز شریف کی رہائی پر ہے ۔ ان کی تمام تقاریر اور بیانات کا محور نواز شریف ہیں ۔ جس کیلئے وہ سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں ۔ یہ ان کا حق بھی ہے کہ وہ اپنے والد کی رہائی کیلئے تمام تر کوششیں کریں لیکن اس کےلئے اپنی جماعت کو استعمال کرنا خود ان کی سیاست کےلئے نقصان دہ ہوگا ۔ دوسری طرف بلاول بھٹو کی تمام تقاریر اور بیانات میں عوام کی مشکلات میں اضافہ اور حکومتی کارکردگی پر تنقید شامل ہوتی ہے ۔ بلاول بھٹو کی سوچ ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سوچ کی عکاس ہے ۔ بلاول بھٹو اپنے نانا کی طرح غریب عوام اور عام آدمی کی بات کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اگر ان کا یہی طرز بیان اور یہی سیاسی سوچ اور کوششیں رہیں تو بلاشبہ سیاسی مستقبل بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کا ہی ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative