Home » کالم » اداریہ » مسئلہ کشمیر، عالمی طاقتوں کیلئے ایک سنجیدہ سوال
adaria

مسئلہ کشمیر، عالمی طاقتوں کیلئے ایک سنجیدہ سوال

adaria

مقبوضہ کشمیر میں حالات آئے دن سنگین سے سنگین ترین ہوتے جارہے ہیں ، بھارت کسی طرح بھی اپنی ہٹ دھرمی سے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ۔ خصوصی طورپر گزشتہ دنوں بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے ایٹمی جنگ کی دھمکی نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، امریکی تھنک ٹینک نے بھی اپنی رپورٹ میں دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی حالیہ صورتحال جنوبی ایشیاء میں ایٹمی ہتھیاروں کو چنگاری فراہم کرسکتی ہے ۔ جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس پلیٹ فارم، اسٹریٹ فور کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کشمیر تنازع کو اندرونی امور یا باہمی مسئلے کے برعکس عالمی امن اور سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے،کئی دہائیوں قبل کشمیری عوام کی رائے جاننے کا وعدہ کیا گیا تھا جوکہ پورا نہیں کیا گیا، پاکستان اور بھارتی افواج کے پاس جوہری ہتھیار ہیں جوکہ تباہی کا باعث بن سکتے ہیں ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی نے پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے جذبے کا اعتراف کیا اور نہ ہی بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر پر بات چیت کیلئے تیار ہے، ۔ ادھر حریت رہنما علی گیلانی نے پاکستان اور مسلم امہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کیلئے میدان میں آئیں ،بزرگ رہنما نے کہا ہماری جدوجہد بھارتی قبضے سے مکمل آزادی تک جاری رہے گی ۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے مودی کو آئینہ دکھا دیا، اخبار نے لکھا کہ مقبوضہ وادی کی سازش تین مرحلوں میں تیار کی گئی اس کا آغاز جون 2018ء میں اس وقت ہوا جب بی جے پی مقبوضہ کشمیر کی حکومت سے اچانک علیحدہ ہوگئی، سازش کے دوسرے حصے پر عملدرآمد اس وقت ہوا جب گورنر نے ریاستی اسمبلی تحلیل کردی ۔ امریکی اخبار کے مطابق مودی سرکار حیلے بہانوں سے الیکشن ملتوی کرتی رہی اور ایک گھناءونی سازش کا تیسرا مرحلہ 5 اگست کو آرٹیکل 370 ختم کرکے سامنے آیا ۔ اس طرح پوری وادی میں لاک ڈاءون اور ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں بھی اسی سازش کا حصہ ہیں ۔ وادی کے حالات انتہائی مخدوش ہوچکے ہیں اسی سلسلے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انسانی المیہ رونما ہونے کو ہے اور او ;200;ئی سی سمیت اسلامی ممالک کو چاہیے کہ بیانات سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں ، بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت ہندو انتہا پسند تنظیم ;200;ر ایس ایس کے غنڈے کشمیر میں بھیجنے کی تیاریاں کر رہی جس سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ،بھارت کشمیر کی صورتحال پر غلط بیانی سے کام لے رہا ہے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی نازک اور پریشان کن ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے آنے والی اطلاعات تشویشناک ہیں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو چاہیے کو دنیا کے سامنے بھارت کا چہرہ بے نقاب کریں ، اسلامی ممالک کی تنظیم او ;200;ئی سی نے اس پر بیان جاری کیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس سے بڑح کر کردار ادا کرنا چاہیے،ہم نے دنیا کو قائل کیا کہ بھارتی ;200;ئین میں تبدیلی اس کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہے ۔ ہماری کوششوں سے دنیا کا موقف کشمیر کے معاملے پر تبدیل ہو رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اسلامی دنیا بھی اپنا کردار ادا کرے گی ۔ مودی کو ایوارڈ دینے کے سوال پر وزیرخارجہ نے کہا کہ یو اے ای کے بھارت کیساتھ اپنے تعلقات ہیں اور میں جلد عرب امارات کی حکومت کو اصل حقائق سے ;200;گاہ کروں گا، مجھے امید ہے وہ ہ میں مایوس نہیں کریں گی،امریکہ متعدد بار ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے لیکن بھارت سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں ، اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے جس میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کو دعوت دی ہے کہ ;200;زاد کشمیر کا دورہ کریں اور ممکن ہوسکے تو مقبوضہ کشمیر جا کر خود صورتحال کا جائزہ لیں ۔ مودی سرکار کے اقدامات کے باوجود کرتار پوری راہداری کھولیں گے،دنیا کشمیر کے انسانی المیے سے لاتعلق رہی تو مجرمانہ غفلت ہوگی ۔ دوسری جانب پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے عہدے داروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ 5اگست کے بعد پوری دنیا بھارت کے اقدام کے خلاف ہے، بھارت میں مودی سرکار کیخلاف دھڑے بندیاں ہو چکی ہیں ۔ کرفیو توڑ کر نکلنے والوں پر پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا ، پھر بھی احتجاج نہ رکا، بھارت کے پاس کشمیر میں چھپانے کو کچھ نہیں تو وہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو وہاں کے لوگوں سے ملنے دیتے، دنیا نے دیکھا کہ مودی سرکار نے اپوزیشن کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ۔ دنیا کشمیر کے انسانی المیے سے لاتعلق رہی تو مجرمانہ غفلت ہوگی، دنیا پر واضح کیا کہ بھارتی اقدام اس کے آئین اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے منافی ہے، ایران کی قیادت نے کشمیر پر بڑا ٹھوس موقف اختیار کیا ہے، اسلامی ممالک کے عوام اور سربراہان کو مقبوضہ کشمیر کی طرف توجہ دینی چاہیے، او آئی سی کو بیانات کے بعد مزید کردار بھی ادا کرنا ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative