Home » کالم » مسئلہ کشمیر، عمران خان نے بہترین وکیل بن کر مثال قائم کردی
adaria

مسئلہ کشمیر، عمران خان نے بہترین وکیل بن کر مثال قائم کردی

وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہورہاہے ۔ نیو یارک میں بہت اہم ملاقاتوں میں عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو بہترین انداز میں اٹھایا ۔ ملاقات کرنے والوں میں زلمے خلیل زاد، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل ، امریکی سینیٹر لنزے گراہم اور بانی اسٹڈی کشمیر گروپ کاوفد شامل تھا ۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کردار کو سراہا جبکہ انہوں نے کہاکہ ہم نے افغان طالبان سمیت تمام فریقین کو ایک میز پر اکٹھا کیا ۔ امید ہے کہ فریقین کے مابین مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ پوری دنیا میں مودی کا اصل چہرہ بے نقاب ہورہا ہے جس طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو جاری رکھا ہوا ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی وزیراعظم کی تقریر کا اہم ترین موضوع مسئلہ کشمیر ہی ہوگا ۔ اس وقت پوری دنیا جان چکی ہے کہ بھارت کس طرح نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، اب وقت ہے کہ مودی کو ان مظالم سے روکا جائے ، افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان مسئلہ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں درپیش مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے کیونکہ کسی بھی مسئلہ کا حل فوجی نہیں ۔ آخر کار ٹیبل ٹاک سے ہی معاملات حل کیے جاتے ہیں کسی بھی صورت تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے ناقابل تلافی نقصان ہوتے ہیں ۔ یہاں امریکہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ عمران خان نے چونکہ کہا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھائیں گے کسی نے اس سے قبل مسئلہ کشمیر اس طرح نہیں اٹھایاہوگا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور خاص کر عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں دنیا یہ جان چکی ہے کہ یہ مسئلہ فلش پوائنٹ ہے ۔ دونوں طاقتیں پاکستان اوربھارت ایٹمی صلاحیت کی حامل ہیں اوربھارت اس حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ ملک ہے ۔ وہ پہلے بھی ایٹمی دھمکی دے چکا ہے ۔ گزشتہ روز بھی جب جنرل اسمبلی میں پوری دنیا اکٹھی ہورہی ہے اور مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا ۔ ایسے میں بھارتی وزیراعظم نے پھر دھمکی دے کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان 1965 اور 1971 جیسی غلطی نہ دہرائے ۔ شاید بھارت بھول چکا ہے کہ 1965 میں اس کے ساتھ کیا حال ہوا تھا ۔ اسے یہ جان لینا چاہیے کہ نہ اب 1965 ہے اور نہ ہی 1971 ۔ اب اگر بھارت نے بھول کر بھی کوئی ایسا قدم اٹھایا تو اس کو نیست و نابود کردیا جائے گا ۔ وہ ابھی نند کو یاد رکھے کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے کس طرح دشمن کے جہاز کو مار گرایا اور کس طرح اپنے ٹارگٹ لاک کیے تھے ۔ اس وقت پورا بھارت پاکستان کے ٹارگٹ پر ہے اور مسئلہ کشمیر ہماری شہ رگ کی طرح ہے ۔ مودی یہ بھول جائے کہ وہ وادی کے کشمیریوں کی آزادی کو سلب کرلے گا ۔ وہ آزادی حاصل کرکے رہیں گے ۔ ان کے مقدر میں آزادی اور مودی کے نصیب میں شکست لکھی جاچکی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو عوام تک رسائی نہیں دی جا رہی ۔ وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال اور اس سے کشمیری نوجوانوں پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے ایمنسٹی کی رپورٹ کو سراہا ۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیری عوام کی سول سوساءٹی وکالت میں معاونت جاری رکھنے کےلئے اقوام متحدہ کی کشمیر پر دو رپورٹس ایک مضبوط بنیاد ہیں ۔ وزیراعظم نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کریں ۔ دوسری جانب ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم مودی کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ مظاہرے کا اہتمام این ;200;ر جی سٹیڈیم کے باہر کیا گیا جہاں مودی نے خطاب کیا ۔ مودی کے خطاب کے موقع پر ریاست ٹیکساس کے کئی شہروں سے مظاہرین بسوں کے ذریعے ہیوسٹن پہنچے ۔ وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے بھی مظاہرے میں شرکت کی ۔ مودی کی انسان دشمن کارروائیوں کے خلاف احتجاج میں پاکستانی کشمیری سکھ بھارتی مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ان کی ٹی شرٹس اور کیپس پر بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے ۔ بینرز اور پلے کارڈز پر خالصتان تحریک اور مقبوضہ کشمیر کو ;200;زادی دو اور بھارتی قبضہ ختم کرو کے نعرے درج تھے ۔ اس کے علاوہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی بند کرے ۔ بھارتی دہشت گردی کا چہرہ مودی نازی مودی کے نعرے درج تھے ۔ مظاہرین نے پاکستان اور ;200;زاد کشمیر کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے ۔ احتجاجی ریلی میں خالصتان تحریک مقبوضہ کشمیر کی ;200;زادی والے بینرز پر مشتمل ٹرکوں نے بھی شرکت کی ۔ مظاہرین نے کہا کہ احتجاج کے ذریعے امریکیوں کو بتائیں گے بھارت میں کیا ہو رہا ہے ۔ بھارتی فاشزم کے خلاف لوگ جمع ہوئے ہیں ۔ مظاہرین نے کشمیریوں کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے کشمیر بنے گا پاکستان ہیوسٹن کی فضا گو بیک گو مودی گو کے نعروں سے گونج اٹھی ۔

ڈینگی پر قابو پانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت

ڈینگی کی وبا نے ملک بھر کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے ، چاروں صوبوں میں ڈینگ کا راج ہے اس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے ۔ گزشتہ روز ہی 2 افراد راولپنڈی اسلام آباد میں ڈینگی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے، ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبائی حکومتیں اس جانب توجہ دیں ، خصوصی طور پر ٹائروں کی دکانوں ، سکولوں ، شاپنگ سنٹرز اور ہاءوسنگ سوساءٹیوں میں جہاں جہاں پانی کھڑا ہے وہاں اسے ختم کیا جائے ۔ نیز سپرے کا بھی ترجیحی بنیادوں پر بندوبست کیا جائے تب ہی اس موذی مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ڈینگی کے وار مسلسل جاری ہیں ، چوبیس گھنٹے میں پنجاب میں مزید 5 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ صوبے میں 465 نئے مریض مختلف ہسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں ، کراچی میں ڈینگی نے مزید 2 افراد کی جان لے لی ۔ رواں سال کراچی میں ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی ۔ ڈینگی کا مرض ;200;زاد کشمیر تک بھی پہنچ گیا، مظفر ;200;باد، کوٹلی اور میرپور میں درجنوں مریض ہسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، آئندہ دنوں میں ڈینگی سے متاثرہ افرادکی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، حکومت ڈینگی کی روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ڈینگی کے مسئلے کوسیاسی جماعتیں فٹ بال نہ بنائیں ، ڈینگی کے معاملے پر بعض پارٹیاں سیاست کر رہی ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ حکومت ڈینگی کی روک تھام کےلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اس حوالے سے صوبے بھی اپناکردار ادا کر رہے ہیں ۔ پنجاب میں 70فیصد ڈینگی کے مریضوں کا تعلق پوٹھوہار سے ہے ۔ پنجاب میں 2363 ڈینگی کے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے، سندھ میں 2258، خیبر پختونخوا میں 1514 اوربلوچستان میں 1772 ڈینگی کے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے، ڈینگی سے متعلق معلومات کے لئے ہاٹ لائن قائم کردی گئی ہے، اسلام آباد میں ڈینگی کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر بنا دیا گیا ہے ۔

چلاس مسافر کوچ حادثہ

، ناقابل تلافی نقصان

گلگت بلتستان کے ضلع سکردو سے راولپنڈی ;200;نے والی بس موڑ کاٹتے ہوئے بابوسر ٹاپ کے قریب گیٹی داس کے مقام پر پہاڑ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 27 مسافر جن میں خواتین کے علاوہ 8 بچے اور پاک فوج کے 14جوان بھی شامل تھے، جاں بحق اور 10شدید زخمی ہوگئے ۔ چلاس سے ریسکیو ٹیموں کے علاوہ پاک آرمی کی امدادی ٹیموں نے میتوں و زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چلاس منتقل کیا ۔ فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات میجر جنرل احسان محمود نے بھی چلاس پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور بعد ازاں فورس کمانڈر کی ہدایت پر دس زخمیوں اور میتوں کو سی ایم ایچ گلگت منتقل کردیا گیا ۔ حادثے کا شکار بس کا نمبر ;667678; ;65; 1495 ہے، واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ دور دراز علاقے کے باعث امدادی کارروائی میں مشکلات کا سامنا رہا ۔ زخمیوں کو ;200;رمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ گلگت پہنچایا گیا جبکہ نعشیں بھی ہسپتال پہنچا ئی گئیں ۔ صدرڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، سپیکر ڈپٹی سپیکر، وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ ، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اور آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہا س نے بھی حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative