Home » کالم » مسئلہ کشمیر۔۔۔بھارتی مذموم عزائم اورپاکستان کی موثرحکمت عملی
adaria

مسئلہ کشمیر۔۔۔بھارتی مذموم عزائم اورپاکستان کی موثرحکمت عملی

پاکستان نے بھارت کووہ جواب دیاہے جس کا شاید خام وخیال میں بھی نہیں سوچ سکتاتھا، چونکہ بھارت کی جانب سے حالات اتنے خراب کئے جاچکے ہیں کہ اس کی لپیٹ میں پوراخطہ آسکتاہے پاکستان نے ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اور تیسرے فریق کی شمولیت سے یہ مسئلہ حل کیاجائے لیکن بھارت نے اس مسئلے کے حل کرنے کے راستے میں ہمیشہ روڑے ہی اٹکائے ،جب بھی یہ مسئلہ حل ہونے کے قریب آتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی اورمسئلہ کھڑاکردیتا ہے جس طرح اس مرتبہ جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی تو اس نے آئین کی شقیں بھی تبدیل کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرکے رکھ دی جس سے خطے میں آگ بھڑکنا شروع ہوگئی چونکہ لداخ کامسئلہ چین کے ساتھ ہے اس وجہ سے چین بھی سامنے آگیا ہے ، پاکستان نے ان حالات کے پیش نظر بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کاحکم دیا اورساتھ ہی اپنے ہائی کمشنر کوواپس بلانے کاکہہ دیا ہے ،وزیراعظم نے سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اس سلسلے میں ان کے مختلف ممالک کے سربراہوں سے رابطے بھی ہورہے ہیں اور پاکستان ابھی تک یہ کوشش کررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے ۔ گزشتہ روزوزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی ;200;ئی ایس ;200;ئی، ڈی جی ایم او اور دیگر حکام شریک ہوئے ۔ پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ پاکستان نے نئی دلی میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو بھی واپس بلا لیا ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے ایل او سی پر مسلح افواج کو تیار رہنے کی ہدایت کردی ہے ،اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غور کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا جن میں کہا گیا ہے اجلاس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت معطل اور باہمی معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے اور 14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے اور 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال انتہائی خراب ہورہی ہے اور بھارتی عزائم داخلی و خارجی سطح پر عیاں ہوچکے ہیں ، بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پریشانی میں پرخطر ;200;پشنز اختیار کرسکتا ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوج جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے، بھارتی عزائم خطے میں تشدد بڑھا کر اسے فلیش پوائنٹ بناسکتے ہیں ، بھارت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر تنازعے کے پرامن حل کی طرف بڑھے ۔ دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی کو اہم امور سونپ دئیے ہیں ،وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی تمام قانونی امور کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کریگی، فی الحال بھارت کے ساتھ تعلقات نچلی سطح پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا ۔ ہم نے او ;200;ئی سی سے بھی رابطہ کیا انہوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، 5اگست کو بھارت نے کچھ اقدامات کیے جن کی فی الفور مذمت کی گئی ۔ ;200;ج ہر کشمیری بچہ یونین کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے اور کشمیری پاکستانی پارلیمان کا فیصلہ سننے چاہتے ہیں ، تمام ارکین اسمبلی بشمول اپوزیشن نے ثابت کیا کہ کشمیر کاز پر ہم سب متفق ہیں بھارت کو حکومتی فیصلوں سے آگاہ کردیا گیا ہے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس بھی ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،وزیراعظم نے اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر حکومتی ترجمانوں کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کا کیس لڑے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اِدھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف کشمیری عوام سڑکوں پرنکل آئے اورزبردست احتجاج کیا،قابض فورسز نے احتجاجی مظاہرین پراندھادھندفائرنگ کی، پیلٹ گنوں کا استعمال کیا اورآنسو گیس کے شیل بھی برسائے جس کی وجہ سے چھ نہتے معصوم کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ سو سے زائد مظاہرین شدید زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں وہاں پر بدستورکرفیونافذ ہے ،بازاربندہیں ، انٹرنیٹ ،موبائل اور ریلوے کی سروس معطل کردی گئی ہے ،پوری کشمیری آبادی کادنیابھرسے رابطہ منقطع کردیاگیا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کو یہ علم نہ ہوسکے کہ بھارت وہاں پرنہتے معصوم کشمیریوں کے خون کی ہولی کس طرح کھیل رہاہے ۔ بھارتی دہشت گرد فوج کشمیریوں کو گھر سے نکال کرگرفتارکررہی ہے اورانہیں شہید کیاجارہاہے یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری اس جانب توجہ دے اگراب بھی اس نے اس مسئلے کوحل نہ کیاتو وہ یہ نہ سوچے کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ صرف پاکستان اوربھارت کے مابین نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی لہٰذا مودی کواُس کے مذموم عزائم کوتکمیل پہنچانے سے روکاجائے اسی میں سب کی بہتری ہوگی ۔

مسئلہ کشمیر۔۔۔بین الاقوامی برادری توجہ دے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی یا سفارتی تعلقات رکھنا کشمیریوں کے ساتھ زیادتی ہوگی،یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر مسئلے کو عالمی سطح پر کیسے اٹھاتی ہے،ساری دنیا ہمارا مشترکہ پارلیمنٹ اجلاس دیکھ رہی ہوتی ہے، ہمارے پارلیمنٹریز کو اس بات کا خیال نہیں ہوتا اور ایک دوسرے کے خلاف بولتے رہتے ہیں ، ہمارا بیرونی دنیا میں یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم ایک ہیں ، حکومت پاکستان کو چین کو اعتماد میں لینا چاہیے اور بین الاقوامی برادری کوبھی اس جانب توجہ دینی چاہیے ۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر)عبد القیوم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر والا مسئلہ بڑا سنجیدہ ہے ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیے، بہتر فارن پالیسی کا انحصار ملک کے اندرونی اتحاد پر ہوتا ہے، وزیراعظم پارلیمنٹ میں لیٹ آئے مگر ان کی تقریر اچھی تھی ،وزیراعظم کو غیر ملکی دورے کرنے چاہئیں اورمسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہیے، مقبو ضہ کشمیر مسئلہ پر بھارت سے بھی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ہیں ، اگر وزیراعظم کو دوبارہ امریکہ جانا پڑے تو وہ ضرور جائیں ،ہ میں بارڈر پر بھی ہوشیار رہنا ہوگا، سیکولر انڈیا کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے،پاکستان میں اقلتیوں کی عزت کی جاتی ہے مگر بھارت میں ایسا نہیں ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative