Home » کالم » مسئلہ کشمیر۔۔۔ یو این کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کا تاریخی خطاب
adaria

مسئلہ کشمیر۔۔۔ یو این کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کا تاریخی خطاب

وزیراعظم عمران خان نے یواین کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو مودی اور اس کے حواری در،درکی ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی حاصل نہ کرسکے، ایک چھت کے نیچے بیٹھ کرانہوں نے دنیابھر کے سربراہان مملکت کو مسئلہ کشمیر کے بارے اور نازی ازم کے پیروکار مودی ،اس کی تنظیم آرایس ایس کے بارے میں تفصیلی بریف کیا،پھر جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران جس اعتماد سے انہوں نے مدلل انداز میں فی البدیہہ تقریر کی یقیناً وہ ایک عظیم لیڈر کی نشانی ہے ،قائداعظم کے بعدعمران خان کانمبرآتا ہے جنہوں نے انتہائی موثرانداز میں تقریر کے دوران مسئلہ کشمیر کواٹھاتے ہوئے دنیاکو دوٹوک انداز میں بتادیا ہے کہ اسے مسئلہ کشمیرحل کرانے کے لئے آگے بڑھنا ہوگا، وزیراعظم عمران خان نے جس اعتماد سے خطاب کیا وہ دنیا کے لیڈروں میں خال خال ہی ملتاہے ۔ اس موقع پر جنرل اسمبلی کے باہرکشمیریوں ، سکھ برادری اوردیگرہزاروں افرادنے مودی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا،جبکہ مودی کاخطاب سن کر یہ واضح ہورہاتھا کہ وہ کنفیوژاورگھبراہٹ کا شکار تھا کیونکہ عمران خان نے جس طرح مودی کا فاشسٹ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے دنیا بھرکے سربراہان کوبتایا کہ جب یہ وزیراعلیٰ تھا تو اس نے گجرات میں کس طرح ہزاروں مسلمانوں کاعام کرایا ۔ عمران خان نے ثابت کردیا کہ انہوں نے سیاسی میدان میں بھی فرسٹ کلاس کپتان کی اننگز کھیلتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کامقدمہ بھرپورانداز میں پیش کیا ۔ ایک پاکستانی نے دنیا کو آرایس ایس جیسی فسطائی تنظیم کے خطرات سے خبردار کردیاہے،جب وزیراعظم نے حضرت محمدﷺ کاذکرکیا تو متعدد اسلامی ممالک کے سفیرآبدیدہ ہوگئے ۔ وزیراعظم نے امت مسلمہ اورپاکستان کے جذبات کی بھرپورترجمانی کی ۔ تاریخ سازیہ خطاب ہمیشہ یادرکھاجائے گاہ میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوناچاہیے اورمقبوضہ کشمیر میں غیرانسانی کرفیو اور محاصرہ ختم کیاجائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کےلئے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر پر اب صلح صفائی کا نہیں کارروائی کا وقت ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹنے کے بعد خون کی ندیاں بہیں گی،غرور نے مودی کو اندھا کردیا، ایمان ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،ہمارے پاس دو راستے،سرنڈر یا جنگ،بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑینگے، نتاءج سوچ سے کہیں زیادہ ہونگے،عالمی برادری کشمیر سے فوری کرفیو ہٹوائے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کشمیریوں کی طرح صرف 8ہزار یہودی محصور ہوں توکیایہودی برادری کودرد نہیں ہو گا;238; دنیا میں اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں ،اسلاموفوبیا سے تقسیم ہورہی ہے،پاکستان نے تمام انتہاپسند گروپس ختم کردیے اقوام متحدہ اپنا مشن بھیج کر چیک کرالے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی، اسلامو فوبیا، منی لانڈرنگ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو اجاگر کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی فورم بھرپور انداز میں اٹھایا اور بھارت کے اقدامات سے خبردار کرتے ہوئے کہا یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورتحال پر ردعمل ہوگا پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے،دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جن کے سنگین نتاءج برآمد ہوں گے اور ان کے اثرات ان ملکوں کی سرحدوں سے کہیں دور تک جائیں گے ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے 7گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کےلئے لڑتے رہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں ، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم لڑیں گے اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتاءج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں ، اس کے نتاءج دنیا پر ہوتے ہیں ۔ عالمی برادری کشمیر کو ہر صورت حق خود ارادیت دے،صرف 8ہزار یہودی اس طرح محصور ہوں تو یہودی برادری کیا کرے گی، بھارت کے پاس اور کوئی بیانیہ نہیں رہا، جیسے ہی وہ کرفیو ہٹائیں گے جو کچھ ہوگا، وہ اس کا الزام پاکستان پر لگائیں گے اور ایک اور پلواما کا خطرہ موجود ہے، بمبار دوبارہ آسکتے ہیں جس سے نیا چکر شروع ہوسکتا ہے ۔ مودی کو سمجھ ہے کہ 8 کروڑ مسلمان بھارت میں اس وقت کیا سوچ رہے ہیں کیا وہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ کشمیری 55 روز سے محصور ہیں اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو اکسایا جائے گا، میں 180ملین لوگوں کی بات کررہا ہوں ، جب وہ شدت اختیار کریں گے تو پھر پاکستان پر الزام آئے گا ۔ اگر کوئی خون ریزی ہوئی تو مسلمان شدت پسند ہوں گے وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا ۔ وزیراعظم عمران خان نے انتہائی جراَت،ایمانداری اور متدلل انداز میں اپنا موقف اداکرکے قوم کی ترجمانی کا حق اداکردیابلاشبہ ایک مسلم ملک کے سربراہ کو اتنا ہی جراَت مند ہونا چاہیے جو اقوام ِ عالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے ۔ اُدھرامریکہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے گرفتار سیاسی رہنماوں اور تاجروں کو رہا کرے،پاکستان سے کشیدگی میں کمی کرکے الیکشن کرائے ۔ امریکی معاون نائب وزیر خارجہ برائے وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے صحافیو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ کشمیر سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشیدگی ختم کروانے کیلئے ثالثی پر تیار ہیں ، 2ایٹمی ممالک کے درمیان بیان بازی میں کمی کا خیر مقدم کیا جائیگا ۔ بھارت جلد از جلد کشمیری قیادت سے بات کرے،مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور پابندیوں پر امریکا کو تشویش ہے کیونکہ وہاں کا تجارتی طبقہ سیاستدان انٹرنیٹ پابندیوں سے متاثر ہورہے ہیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ وہاں زندگی کی سرگرمیاں جلد از جلد معمول کے مطابق چلنے لگیں ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریزنے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ابترانسانی صورتحال پرایک بارپھرگہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان سے گفتگو میں سیکرٹری جنرل نے اس بات کا اعادہ کیاکہ وہ اس مسئلے کے حل کےلئے کوشاں رہیں گے اوراس کے پُرامن حل کےلئے ان کی معاونت کی پیشکش جاری رہے گی ۔ چین نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی ادارے کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیاجاناچاہیے ۔ چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسئلہ کشمیرتاریخ کادیرینہ تنازعہ ہے اوراسے اقوام متحدہ کے منشور،سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اوردوطرفہ معاہدوں کے مطابق پُرامن طورپرحل ہوناچاہیے ۔ چین صورتحال کو پیچیدہ کرنے والے تمام یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتاہے اورہم خطے میں استحکام کے خواہشمند ہیں ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں طاقتور ترین ملک کی قیادت کررہے ہیں اور وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی اقدام کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں ۔ عالمی برادری اس مسئلے پر فوری اقدامات کرے ۔

پاکستان میں قیام امن افغانستان کے امن سے وابستہ

پاکستان میں قیام امن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ بات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میران شاہ کے دورے کے وران عمائدین سے ملاقات میں خطاب کے دوران کہی ۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کوشکست دینگے،قبائلی عوام سہولت کاروں سے چوکنارہیں ، افغان سرحد پر باڑ لگانے سے سرحد پار دہشت گردی میں کمی آئی ۔ افغانستان پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے، ہم وہاں بھی پاکستان کی طرح امن و امان چاہتے ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف نے بالکل درست کہاہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان میں بھی قیام امن مشکل ہے اسی وجہ سے سرحد پر لگی ہوئی باڑ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ چونکہ افغانستان میں صدارتی انتخابات بھی ہیں ا س موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کارونما ہونا بعیدازقیاس نہیں ۔ پاک افغان بارڈرایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں اس وجہ سے وہاں پربھی حفاظتی اقدامات بڑھادیئے گئے ہیں تاہم اس سلسلے میں افغانستان کو بھی عملی طورپراقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک میں امن قائم ہوسکے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative