Home » کالم » مسئلہ کشمیر کی بڑھتی ہوئی سنگینی پر۔اقوام متحدہ فوراً متحرک ہو

مسئلہ کشمیر کی بڑھتی ہوئی سنگینی پر۔اقوام متحدہ فوراً متحرک ہو

ایک گہری عمیق نظر جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے سے دوچار کرنے والے ایٹمی دیش بھارت کے اس کردار پرآج نہیں ڈالی جائے گی تو پھر کب ڈالی جائے گی جس میں بلا کسی ردوکد اور ہچکچاہٹ کے آپ کو صاف دکھائی دے گا کہ تقسیم ہند کے بعد سے تاحال بھارت کی چلی آرہی سفارتی وسیاسی مذموم کوششیں اور کاہشیں کیسی رہی ہیں دنیا کی آبادی کا ایک بڑادیش دنیا میں مہلک اسلحوں کی خریداری میں نمایاں دکھائی دینے والا دیش اپنے پڑوسی ممالک کی سرحدوں کے پار لالچائی ہوئی تمنائیں اور مبینہ خواہشات رکھنے والا دیش اور خاص کر اپنے پڑوسی مسلم ملک پاکستان کو اندرونی وبیرونی طورپر کمزور کرنے کی خاطراپنی دفاعی صلاحیت وپیشہ ورانہ کم مائیگی کے باجود گھٹیا چانکیائی سازشوں کے حربوں کو استعمال کرکے مشرقی پاکستان میں لسانی ‘بنگالی پنجابی’کے تعصبات کی آڑ غیرریاستی عناصر غنڈوں کو جنگی تربیت دے کراْنہیں وہاں بھیجنے والا دیش مشرقی پاکستان میں عین انتخابات کے موقع پر سیاسی انارکی پھیلانے اور پْرتشدد انتشار وافتراق کو ہوا دے کر مشرقی پاکستان کے مسلم عوام کوہواس باختہ کردینے والا دیش اسی پر بس نہیں بلکہ دسمبر 1971 میں جب مشرقی پاکستان میں تعینات پاکستانی فوج کو ہزاروں کے قریب ہندو دہشت گرد مکتی باہنی نے اپنے گھیرے میں پوری طرح لے لیا تھا بھارتی طیاروں نے اس موقع سے پورا فائدہ اْٹھایا اور مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ کے علاوہ تمام آئیر پورٹس بمباری کرکے تباہ کردئیے تھے ایسے ماحول میں بھارتی گیدڑ فوج مشرقی پاکستان کے اندر جاگھسی مطلب یہ کہ پاکستانی فوج اور بھارتی فوج کے درمیان کوئی باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی نئی دہلی کی ایما پرپہلے پانچ برسوں کی منظم خفیہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں ہندوغیر ریاستی عناصر نے اندرون خانہ مشرقی پاکستان کی بھارتی بنگال کی سرحدوں کو پار کیا اور وہ مسلم بنگالی عوام میں جاگھسے گھل مل گئے یوں بھارت کے لئے ممکن ہوا اور اْس نے اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کی خودمختاری پر ضرب لگائی کیونکہ مسلم دشمن عالمی طاقتوں کی پشت پناہی بھارت کو حاصل تھی لہذا وہ 1971 میں بے لگام ہوگیا تھا مشرقی پاکستان کی اندرونی انتخابی سیاست کے واضح نمایاں اندرونی اختلافات سے اْس نے فائدہ اْٹھایامسلم دشمن عالمی طاقتوں نے اْسے شہ دی اور یوں پاکستان دولخت ہوگیا 1971 سے آج 2018 تک 47 برس کا عرصہ بیت چکا ہے پاکستان سے علیحدہ ہو کر بننے والی نئی مسلم ریاست بنگلہ دیش کے عوام وہاں ایک نئی مسلم نسل پروان چڑھ چکی ہے وہ نئی نسل سوالات اْٹھا رہی ہے دھند صاف ہورہی ہے آج کا مودی اور آرایس ایس کا بھارت بنگلہ دیش کے کروڑوں مسلمانوں کا بھی ہمدرد اور دوست نہیں ہے کیونکہ بنگالی مسلمان اپنے ایمان کی پختگی میں کسی دوسرے غیر توحیدی مذاہب کی دخل اندازی کو پسند نہیں کرتے مسلم بنگلہ دیش کی سرزمین پر دنیائے اسلام کا حج کے بعد سب سے بڑا تبلیغی اجتماع ہر سال منعقد ہوتا ہے بنگلہ دیش کے قیام میں بھارتی قائدین چاہے وہ کانگریسی ہوں یا آرایس ایس سے متعلق ہوں وہ ایک ہی ‘جانبدارانہ اور متعصبانہ’سوچ رکھتے ہیں گزشتہ 47 برسوں سے آج تک مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کو نقصان پہنچانے کی مبینہ حرکات وسکنات والی مذموم پالیسیوں سے نئی دہلی نے اپنے ہاتھ اْٹھانے تھے نہ اْٹھائے 1998 میں کھلے آزادنہ طور پر خود کو ایٹمی دھماکے کرکے ایک ایٹمی دیش قرار دے لیا پاکستان اور پاکستان کے حساس سیکورٹی ادارے بھارت کی اندرون خانہ ہونے والی ایٹمی صلاحیتوں پر کڑی نظررکھے ہوئے تھے اْنہیں اپنے خطہ میں آنے والے دنوں میں طاقت کے توازن میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کا بخوبی ادراک تھا پاکستان بھی آنے والے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لئے پوری طرح سے کمربستہ تھا مغربی دنیا کو بھی احساس ہوگیا تھا جبھی تو پاکستان کو کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستانی قوم نے قربانیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلیا تھا یوں پاکستان نے بھی بھارت کے ایٹمی تجربے کے جواب میں 1998 ہی میں 6 کامیاب ایٹمی دھماکے کردئیے دنیا کا منہ اترگیا بھارت بھی دیکھتا رہ گیا جنوبی ایشیا میں دوایٹمی قوتیں پڑوس میں ہیں اس میں کوئی مظائقہ بھی نہیں لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو ایک آزادوخود مختار ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا نہ ہی اْس نے 1947 کے تقسیم ہند کے لندن پلان کو تسلیم کیا کاش بھارتی قائدین ہوش کے ناخن لیتے ‘لندن پلان’ کی روح کو مسلم دشمن انگریز لارڈماونٹ بیٹن کی کھلی ہوئی جانبداری بہت بْری طرح سے مجروح کیا ہے کل تک بھارت میں ‘سیکولر دیش’ کے لولی پاپ میں حکومت کرتی رہی ہے، گزشتہ پندرہ برسوں سے نئی دہلی کے اقتدار پر آرایس ایس قابض ہوچکی ہے، جس نے اعلانیہ سیکولر ازم کی بجائے دیش کو ایک ہندواسٹیٹ میں بدل دیا ہے اب وہاں ‘کٹرہندوازم’ کی مرکزی سیاست نے اپنی جڑیں پکڑلی ہیں مسئلہ کشمیر کے موضوع کو ہم بین السطور اس وجہ سے بیان نہیں کیا اس اہم علاقائی انسانی مسئلے کی سنگینی سے کون واقف نہیں اصل میں یہی بنیادی مسئلہ ہے جس نے بھارت کی نیندیں اْڑائی ہوئی ہیں بھارت کیوں ڈھیٹ بنا ہوا ہے اور کشمیریوں کی تیسری نسل نے اپنی سرزمین پر بھارتی فوج کی موجودگی کو اب تک تسلیم نہیں ہے اورنہ کبھی وہ تسلیم کریں گے اس کی وجوہات دنیا بھر میں زیر بحث ہیں پہلے سمجھنا ہوگا کہ تقسیم ہند کا ‘لندن پلان’کیا تھا جس میں غیر منقسم ہند کی ریاستوں کے والیوں اور راجہ مہاراجوں کے لئے کیا آپشنز تھیں کشمیر کی تاریخی صدیوں پرانی حیثیت کیا تھی مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کا مہاراجہ کیسے بن بیٹھا اْسے کیا حق تھا کہ کشمیر کا سودا انگریزوں سے کردے اور ہاں یادرہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر جب کشمیر کا مکمل الحاق بھارت نے نہیں کیا تھا مشروط الحاق تھا یہ بڑی اہم تفصیل ہے، جلد ہی ان سطور پر آپ پڑھ سکیں گے ۔انشا اللہ

****

About Admin

Google Analytics Alternative