Home » کالم » سوچ بچار » مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے اسلامو فوبیا

مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے اسلامو فوبیا


اسلامو فوبیا یعنی اسلام کا ڈر خوف، ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے، ان کو اجڈ اور جنگجوظاہر کرنے اورانہیں تہذیب و تمدن سے عاری ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ یہیں سے دہشت گردی کا تعلق بھی اسلام اور مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے ۔

غیر مسلموں کے سامنے ایسے حالات و واقعات بیان کیے جاتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان دہشت گردی کا منبع معلوم ہوں ۔ اس کےلئے اگرغیر مسلموں کو خود سے کوئی دہشت گردی کا بڑا واقعہ بھی رونما کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرتے ۔ اس کی بڑی مثال 9;47;11 ہے ۔ جس کو بہانہ بنا کر افغانستان پر ھلہ بولا گیا ۔ عراق، شام ، مصر اور دیگر عرب ممالک میں امریکی و اسرائیلی ساختہ داعش کا تعلق اسلامی بنیاد پرستوں سے جوڑ کر یورپ میں اسلامو فوبیا پیدا کیا گیا ۔ نتیجتاً ایک طرف تو ان مسلم ممالک کو تہس نہس کیا گیا تو دوسری طرف مسلمانوں کو ایک دہشت گرد، بنیاد پرست اور ظالم و جابر پورٹریٹ کیا گیا جس کی وجہ سے غیر مسلموں کے دلوں میں مسلمانوں کا ڈر، خوف اور نفرت پیدا کی گئی ۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ کیا دنیا کو ہمارے ہاں بھارتی دہشت گردی نظر نہیں آتی ۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم زمانے کی آنکھ سے اوجھل ہیں ۔ کیا فلسطین کے مسلمان پنجہ یہود سے آزاد ہیں ۔ کیا میانمار کے بھوکے ننگے مسلمان برمی فوج اور بدھ بھکشووَں کے ہاتھوں محفوظ ہیں ۔ اور نہ جانے دنیا میں کتنی مثالیں ہیں کہ مسلمان غیر مسلموں کی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ مسلمانوں کے پورے کے پورے ملک، آبادیاں ، ریاستیں غیر مسلم دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں مگر مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والے ایک آدھ واقعہ کو اتنا ہوا بنا کر پیش کیا جاتا کہ لگتا ہے کہ مسلمان پیدا ہی صرف دہشت گردی کےلئے ہوا ہے ۔

اسلام اور مسلمانوں نے ہر محاذ پر اپنے خلاف پروپیگنڈے کا جواب دیا ۔ او آئی سی نے اپنے حالیہ اعلامیہ میں واضح طورپر کہا کہ اسلامو فوبیا پھیلانے والوں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جائے ۔ او آئی سی کے اعلامیے میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کو محض اسلام کے ماننے والوں کی طرف منسوب کر دینا سراسر عصبیت اور مسلم دشمنی ہے ۔ مسلمانوں کے ذمہ دار رہنماءوں کی طرف سے ایک عرصہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ وزیراعظم عمران خان نے بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان، ملائشیا اور ترکی کا سہ فریقی ’’سٹرٹیجک اتحاد‘‘ تشکیل دینے کی تجویز دی ۔ جبکہ ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ہ میں دْنیا کے سامنے مسلمانوں کا تشخص اْجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسلام سے نفرت کا جواب طاقت سے نہیں ،بلکہ محبت سے دینا چاہئے ۔ اسلامو فوبیا پر بھی ایسے بات ہونی چاہئے جیسے ہولو کاسٹ پر ہوئی ۔ مغرب کو چاہئے کہ سفید فام انتہا پسندوں کے خلاف اقدامات کرے ۔ اگر اس موقع پر او آئی سی کے اجلاس میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنیڈا کو مسلم ممالک کے دورے کی دعوت دی جاتی اورکوئی ایسا پلیٹ فارم بنانے کا سوچا جاتا جس کے ذریعے دہشت گردی کی تعریف اور اس کو مسلمانوں سے جوڑنے اور آئندہ اس سے محفوظ رہنے کےلئے کوئی لاءحہ عمل مرتب کیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا ۔

ہمارا ہمیشہ سے یہ واضع موَقف رہا ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی مسلمان انفرادی طورپر دہشت گردی میں ملوث رہا ہے تو اس کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بلکہ یہاں بھی مسلمانوں کے جان و مال کا زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ اس کی بہترین مثال داعش ہے جو اپنے ہی اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت گری کر رہی ہے ۔ ہمارے ہاں بھی تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد خود ساختہ مسلم تنظیموں نے تقریبا 15 برس پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ بنائے رکھا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار، عوام ، بچے، خواتین اور بوڑھے ان خود ساختہ مسلمانوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنے ۔ لیکن مغربی میڈیا اور اسلام سے خار رکھنے والے غیر مسلموں نے ہمیشہ ایسی وارداتوں کو اسلام مخالف رنگ دیا اور مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا یا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative