مسلم جمہوری کلچر کے خلاف۔دہشت گردوں کے منصوبے

11

دنیائےِ اسلام خصوصاً پاکستان جیسے اسلامی ایٹمی ملک پرہمہ وقت مخاصمانہ تنقید وتنقیص کرنا مغرب’امریکا سمیت بھارتی اوراسرائیلی میڈیا ہاؤسنز نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اورکچھ نہیں ملتا تواسلام دشمن عالمی طاقتوں نے اپنے چند ‘پالتو’ دہشت گرد گروپوں جن میں اوّل القاعدہ تو پہلے ہی سے موجود ہے امریکا نے صرف القاعدہ کے بانی ‘بن لادن’ کو ڈھونڈکر اسے نہایت ہی مشکوک حالات میں ٹھکانا لگا نا تھا سو لگا دیا گیا اور اب ڈاکٹر الظواہری کی سربراہی میں القاعدہ کئی اسلامی ممالک میں اپنی سفاکانہ دہشت گرد کارروائیوں میں پہلے کی طرح سے باقاعدہ مصروفِ عمل ہے دوسری جانب ایک بار پھر امریکی ڈالروں کے منہ کھلے پہلے مشرقِ وسطیٰ میں ملکِ شام اورپھرعراق میں ‘دولتِ اسلامیہ(آئی ایس آئی ایس) کی شکل میں ایک اور ایسی دہشت گرد تنظیم کی داغ بیل ڈال دی گئی جس کی بربریت نما دہشت ووحشت زدگی کا خوف اپنے اپنے میڈیا ہاؤسز کی خبروں کے توسط سے اسلامی دنیا میں پھیلادیا گیا ‘ملکِ شام اور عراق سے معلوم اطلاعات کے مطابق ‘داعش’ کا ایک بڑا حصہ اب افغانستان تک آپہنچاہے چاہے القاعدہ کا ‘ظواہری’ ہو یاداعش کا ‘بغدادی’ کہنے کیلئے تو یہ اپنے آپ کو’جہادی’کہلواتے ہیں ،مگر یہ کیسا’جہاد’ہورہا ہے؟ جوخالص اسلامی ملکوں کے خلاف ہورہا ہے حیرت کی بات یہ ہے اِن دونوں بڑے جہادی بلکہ دہشت گرد گروپس ‘القاعدہ’ اور ‘داعش’ کی سرپرستی کرنے والوں کی طرف جب ہم دیکھتے ہیں تو امریکا’ اسرائیل اوربھارت کے علاوہ کوئی اوربڑا ملک ہمیں اَن کی پشت پر دکھائی نہیں دیتا ‘ظواہری اور البغدادی‘ نے ایک مرتبہ نہیں بارہا جہاں کہیں سے بھی اِس کی آوازیں امریکی اور دیگرمسلم دشمن میڈیا کے توسط سے ہم تک پہنچتی ہیں تو اِس کی مخالفانہ نفرت سے بھری ہوئی تیزوتند تنقید کا موضوع ہمیشہ سے پاکستان جیسا جمہوری اسلامی ملک ہی رہا پاکستان ‘ظواہری اوربغدادی’ کی آنکھوں میں اسرائیلیوں اور بھارتیوں سے زیادہ بْری طرح سے کھٹکتا ہے آپ پوچھیں گے اِس کی وجوہ کیا ہوسکتی ہیں افغانستان میں امریکی مدد واعانت کے بل بوتے پر بصرہ سے لاکر اِنہیں یہاں بٹھلایا ہی اِس لیئے گیا ہے کہ داعش پاکستان میں کسی بھی طرح سے’اسلامی شریعت’ کے نفاذ کے نام پراپنے لئے لوگوں کو خرید سکیں گزشتہ چند ہفتے قبل ایک ایسی ہی خبر ہم پاکستانیوں نے سنی تھی کہ کراچی میں ‘انصار لشریعہ’ نامی دہشت گرد گروہ ابھر ا جس نے کئی بے گناہ پاکستانی مسلمانوں کو قتل کیا ابھی اِس دہشت گرد گروہ کے صرف آٹھ کے قریب لوگ جمع ہوئے تھے جو پاکستانی سیکورٹی ایجنسی آئی ایس آئی اور دیگر سویلین ایجنسیوں کے مشترکہ معلوماتی آپریشنز کے نتیجے میں سبھی مارے گئے یوں کراچی کی یہ دہشت گرد تنظیم جس کا ایک اہم رکن ملکی سیکورٹی اداروں نے گرفتار کیا ہوا اْس نے ‘انٹروگیشن کورس’ کے دوران بتایا کہ اْن کا رابطہ افغانستان میں بیٹھے ہوئے القاعدہ اور داعش والوں سے تھا اب یہاں پر سوال تو بنتا ہے اور امریکا کو جواب دینا چاہیئے کہ افغانستان کی مکمل انتظامیہ پر اْس کی گرفت ہے جدید مواصلات کے کون کون سے ایسے اہم اور حساس آلات امریکیوں کے پاس نہیں ہونگے کہ وہ کم ازکم افغانستان سے ہی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کی اگر خلوصِ نیت سے کوششیں شروع کردیں تو کیا نہیں ہوسکتا اور نہیں تو پاکستان کے ضلع سوات اور دیر کے آپریشنِ راہِ نجات سمیت آپریشن ضربِ عضب اور تازہ ترین جاری آپریشن ردالفساد کے ہی اْن مفروروں کو پاکستان کے حوالے کردیں جنہوں نے پاکستان میں اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں میں کئی ہزار پاکستانیوں کواورسیکورٹی فورسنز کے جوانوں اور افسروں کو شہید کیا اورہزاروں کو زخمی کیا یہ بات ہے نیتوں کی’ نیتوں میں اگر پہلے ہی کھوٹ اور بد نیتی کا تعصب ہوتو یقیناًیہ امریکیوں کے نزدیک یہ امور بہت ناممکنات امرہوگا پاکستان ایک جمہوری ملک ہے’جہاں عدلیہ آزاد ہے’قومی اسمبلی اور سینٹ اپنے جمہوری فیصلوں پر عوام کی بھرپور نمائندگی کا فریضہ اداکررہے ہیں ،چند ماہ بعد ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں ایسے نازک اور انتہائی حساس موقع پرملک کسی بھی قسم کے اندرونی فتنہ وفساد اورانارکی کا متحمل بالکل نہیں ہوسکتا، لہٰذا بغیر کسی لگی پلٹی کے ہمیں پہلے تو یہ پختہ یقین کرلینا چاہیئے کہ فی زمانہ یعنی فی الوقت وطنِ عزیزمیں دہشت گردی اورشدت پسندی کے ہر قسم کے ناسور چاہے اْس کی کوئی بھی متشددانہ صورت ہو جس میں ذرا بھی کوئی اندیشہ یا خدشہ پایا جاتا ہو کہ ملک بھر میں کہیں کوئی ایسی فرقہ واریت کی صورت تو نہیں ابھر رہی؟کسی حساس مسئلہ کو کوئی طالع آزمااپنے مفادات کیلئے کوئی مذہبی منافرت کا رنگ تو نہیں دے رہا ہے کوئی طالع آزما نام نہاد مذہبی رہنما ایسی منافرت کی آگ تو کہیں نہیں بھڑکا رہا جس کے نتیجے میں پورا ملک شعلوں کی زد میں آجائے؟ ملکی آبادی باہم دست وگریباں ہوجائے اِس پر ملکی ذمہ داروں سمیت ہر ایک محبِ وطن پاکستانی کو بھی بڑی نگاہِ خاص رکھنی ہوگی، ہمارے بیرونی ازلی دشمنوں نے بدقسمتی سے اپنے ایجنٹس ہماری قومی زندگی کے تقریبا ہر شعبے میں داخل کررکھے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایٹمی ڈیٹرنس کے حامل ملکِ پاکستان کی فوج کو کسی طرح سے اندرونی انتشار وافتراق میں الجھا دیا جائے ہمیں اْن کی ایسی زہریلی بدنیتوں کا شکا ر نہیں بننا’ہر صورت ایٹمی پاکستان کو برقرار رکھنا ہے ہمیں لسانی’سماجی اور فرقہ ورانہ تعصبات سے بلند ہوکر اپنا بہترین جمہوری کلچر ہر صورت میں ہر قیمت قائم ودائم رکھنا ہے تاکہ پاکستان بھی دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں پُرامن سلیقے سے شامل ہوسکے۔