Home » کالم » مشینی دور
syed_sherazi

مشینی دور

دیکھا جائے تو زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی اصطلاحات کی ضرورت ہے اگرچہ اس دور میں عام آدمی ان اصطلاحات کو ایک فریب ہی سمجھتا ہے لیکن موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضا بھی ۔ جس طرح غریبی دور کرنے کے افسانے سنائے جاتے ہیں سماجی برائیوں کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کیلئے غریبی دور کرنے کے نام پر دنیا کے غریب ممالک کو زبردستی سرمایہ دارنہ نظام کے سرکل میں داخل کیا جارہا ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کو ایسے حال پر رکھتا ہے کہ دیکھنے میں وہ معزز انسان نظر آئے لیکن اندر سے وہ کھوکھلا ہو چنانچہ اس سلسلے میں وقتاًفوقتاً غریبی دور کرنے کے اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن عملی اقدامت اٹھانے سے عموما گریز کیا جاتا ہے اور یہ اعلانات اپنی جگہ صحیح ہیں کہ غربت کی وجہ سے انسان کے جسم میں خون ہی نہ رہا تو اسے چوسا کس طرح جائیگا ;238; اس ظاہری طور پر غریبی دور کرنے کے اعلانات اور ہمارے سیاسی لیڈروں اور حکومتی اعلانات وغیرہ سب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی حصہ معلوم ہوتاہے اور ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں کہ عام آدمی اپنی معاشی ضروریات اور اخراجات پورا کرنے کیلئے وہ جانور وں کی طرح محنت کرتا ہے اور وہ خوشحالی کی چمک حاصل کرنے کیلئے اپنی زندگی کی انتہائی ئی قیمتی لمحات کچھ ایسے طریقے سے ضائع کرتا ہے کہ وہ سوچنے اور شعور حاصل کرنے کے لمحات کو کو بھی اپنے پاس نہیں پاتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ زندگی ایک بار ملتی ہے اس لئے اس کا لطف اٹھانا چاہئے اور کامیاب لوگ بھی وہ ہوتے ہیں جو بھر پور انداز میں زندگی گزارنے کا ہنر جانتے ہیں جیسے ہمارے لیڈر حضرات اور خواتین جو سیاست میں ہیں جن کے پاس دولت بھی ہوتا ہے اور شہرت بھی ، زندگی کی حرکت ان میں بھرپور نظر آتی ہے اور یہ ذہین اور فطین بھی ہوتے ہیں ان کا دماغ کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے اور الیکشن کے دنوں میں ان کو عوام کی بھیڑ اچھی لگتی ہے یہ موقع شناس ہوتے ہیں اور اپنی زبان اور بیان سے عام آدمی کو اپنا گرویدہ بنالیتے ہیں اور معاملہ فہمی اور روشن دماغی کی وجہ سے وہ مشہور ہوتے ہیں اور عام آدمی بے چارہ تو ہمیشہ دھکے اور سرمایہ داروں کے مکے کھاتا ہے اور ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور ضرورت پڑ نے پر سرمایہ داروں کی کال پر سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اس نشے میں بعض اوقات وہ خود کش بمبار کا نشانہ بن کر ان کے پرخچے بھی اٹھ جاتے ہیں ۔ سرمایہ داریت جسے کمرشلزم کا نام دیا جاتا ہے اس نے عام آدمی کیلئے خوش مزاجی اور زندہ دلی کو معدوم جنس بنادیا ہے ، بس اب تو نفسا نفسی ہے اورافراتفری ہے اور ہنگامہ خیزی ہے اور تیز رفتار زندگی کی دوڑ نے اکثریت کیلئے خوش دلی کو نایاب اور کمیاب بنادیا ہے اور سرمایہ دار کی قسمت میں کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ عام آدمی تو نہ خوشی سے شادی کرسکتا ہے اور نہ بیوی کو رکھ سکتا ہے اور نہ چھوڑ سکتا ہے اسی ضرورت کو مد نظر رکھ کر ویانا میں طلاق میلے کی داغ بیل رکھی گئی ہے اور اسی طرز ممکن ہے کہ اس نوعیت پر آسان اور سستے طور پر خودکشی کرنے کے طریقے سکھانے کیلئے بھی میلے منعقد کئے جائینگے جسکے نتیجے میں زندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گاچونکہ انسان فطری طور پر جدت پسند ہے اور وہ نئی نئی ایجادات کرتا ہے اور اختراعات کا عمل کرتا ہے اور جدید نظریات کی بنیاد رکھ کر زندگی کی گاڑی چلاتا ہے اور یہ بھی فطری تقاضہ ہے کہ انسان امیر ہو یا غریب وہ کچھ رومانی طبیعت بھی رکھتا ہے اور صنف مخالف کیلئے محبت کے معاملے میں بھی وہ سیلانی طبیعت کے مالک ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کے دل میں دوسری شادی کی خواہش بھی پیدا ہوتی ہے ، عام طور پر اس فطری خواہش کو پورا کرنے کیلئے وہ شادی بھی عموماًجلدی کرلیتا ہے اور زندگی کی گاڑی چلانا شروع کرلیتا ہے اور اگر کوئی اچھی سے بیوی صابر اور شاکر بیوی مل گئی تو پھر وارے نیارے ہیں ۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے دور کے تقاضوں کا انکار ممکن نہیں ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کے اندر نکھار پیدا کر کے ترقی کے منازل کو طے کیا جاسکتا ہے لیکن دور حاضر میں سائنسی ترقی اور مادی ضروریات اور معاشی اور اقتصادیات کے نئے نئے ڈھنگ اور ذراءع ابلاغ کے تنوع کے ساتھ دنیا میں اب کافی تبدیلی آگئی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ انصاف اور عدل کے معیار بھی بدل گئے ہیں زندگی کی برق رفتاری نے انسان کو شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے انسان مشینی دور میں مشین کی گراری کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور جو حقائق ہیں وہ بہت تلخ ہیں ۔ اقتصادی ترقی کی بجائے تباہ کاری کا گراف بلند ہوا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو چھپانے سے چھپنے والا نہیں ہے ،انسانیت غربت کی چکی میں پس رہی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative