Home » کالم » ”معاہدے قرآن و حدیث ہی ہوتے ہیں”
khalid

”معاہدے قرآن و حدیث ہی ہوتے ہیں”

khalid

2013ءمیں عام انتخابات ہوئے اور نتائج آنے کے بعد صوبوں اور مرکز میں حکومتیں بنانے کا مرحلہ شروع ہوا۔وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی اور انہوں نے چپ چاپ حکومتیں بنا لیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ ملا تھا، چنانچہ وہ بھینس سے بکری پر آئے اور اس کا دودھ دوہنے لگے۔ خیبرپختونخوا میں اگرچہ تحریک انصاف کے پاس واضح مینڈیٹ نہیں تھا، وہ اکیلے صوبے میں حکومت نہیں بنا سکتی تھی۔ مسلم لیگ ن کے پاس بھی اچھی خاصی سیٹیں تھیں ، جماعت اسلامی کے پاس بھی اور مولانا فضل الرحمن کے پاس بھی۔ مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ ن کو شیشے میں اتارنے کی بہتیری کوششیں کیں اور کہا کہ وہ دونوں مل کر خیبرپختونخوا میں حکومت بنائیں، مگر مسلم لیگ ن کی قیادت نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار بلوغت کا ثبوت دیتے ہوئے تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا اور کوئی سازش کرنے کی بجائے اسے وہاں حکومت قائم کرنے دی۔ باقی رہ گیا بلوچستان، اس صوبے میں مسلم لیگ ن کے پاس سب سے زیادہ 22سیٹیں تھیں، مگر ن لیگی قیادت نے یہاں بھی دانشمندی کا ثبوت دیا اور بلوچ قوم پرستوں کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ ن لیگی قیادت کے اس اقدام سے ایک انتہائی خوشگوار تاثر یہ ملا تھا کہ وہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
بلوچستان میں حکومت کے قیام کے لیے فریقین میں ایک معاہدہ ہوا تھا جسے مری معاہدہ کہتے ہیں۔اس معاہدے کے تحت پہلے اڑھائی سال بلوچ قوم پرست جماعت کے رہنماء ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ صوبے کے وزیراعلیٰ رہیں گے اور اگلے اڑھائی سال کے لیے وزارت اعلیٰ مسلم لیگ ن کے رہنماء سردار ثناء اللہ زہری کو سونپ دی جائے گی۔ اس معاہدے پر وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈاکٹر عبدالمالک اور سردار ثناء اللہ زہری کے علاوہ کچھ موجودہ وفاقی وزراء نے بھی دستخط کیے تھے۔ اب ڈاکٹر عبدالمالک کی وزارت اعلیٰ کے اڑھائی سال مکمل ہو چکے ہیں اور معاہدے کے مطابق حکومت سردار ثناء اللہ زہری کو سونپ دی جانی چاہیے تھی مگر اب ”وسیع تر قومی مفاد” کو جواز بنا کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک چونکہ ناراض بلوچوں کو منانے اور بلوچستان کے حالات سدھارنے کے لیے بہت اچھا کام کر رہے ہیں اس لیے اگلے اڑھائی سال بھی انہیں کو دے دیئے جائیں۔ایسے میں سردار ثناء اللہ زہری نے احتجاج اور ڈاکٹرعبدالمالک کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے سیاستدان معاہدوں کو کیا سمجھتے ہیں؟کیا کسی بھی صورت میں کسی معاہدے کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے؟ ایک معاہدہ رسول اللہۖ نے بھی کیا تھا، معاہدے میں ایک شق تھی کہ ”کوئی مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس مکہ کے کافروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔”ابھی معاہدہ ہوا ہی تھا کہ کفارِ مکہ کے مظالم سے تنگ ایک صحابی بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آ گئے۔رسول اللہۖ نے اس صحابی کو واپس کفار کے حوالے کر دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اب معاہدہ ہو چکا ہے۔ کیا اس سے بڑی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے کہ کوئی مسلمان کفار سے جان بچا کر آیا ہو اور معاہدے کی وجہ سے اسے واپس ان کے حوالے کر دیا جائے؟ کیا ہمارا وسیع تر ملکی مفاد اس صحابی رسولۖ کی جان سے زیادہ اہم ہے؟ یہ بات تو تحریری معاہدے کی تھی، رسول اللہۖ نے تو زبانی ”وعدے” کا بھی اس طرح پاس رکھا گویا معاہدہ ہو۔ ایک بار سرِ راہ کسی نے آپ ۖ کورکنے کو کہا کہ میں ابھی آتا ہوں، وہ شخص جا کر بھول گیا کہ اللہ کے نبیۖ کو رکنے کا کہہ کے آیا ہوں، اگلے دن ادھر سے گزرا تو اللہ کے نبیۖ کو وہیں کھڑے اپنا منتظر پایا۔
معاہدوں کی پاسداری نہ کرنا ہماری ملکی سیاست کا سیاہ ترین باب ہے۔ یہاں قرآن مجید کے اوراق پر لکھے ہوئے معاہدے سیاستدانوں نے یہ کہہ کر توڑ ڈالے کہ معاہدہ قرآن مجیدکے حاشیے پر ہی لکھا تھا، اس کا نبھانا ضروری نہیں۔اب وزیراعظم نواز شریف کو چاہیے کہ معاہدہ مری کو توڑ کر تاریخ میں اپنا نام آصف علی زرداری کے ساتھ نہ لکھوائیں، جنہوں نے کہا تھا کہ ”معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔” معاہدے قرآن و حدیث ہی ہوتے ہیں کیونکہ جن پر قرآن مجید نازل ہوا اور جن کی زبان سے نکلے لفظ حدیث بنے ، اس عظیم ہستیۖ نے معاہدوں کو جس قدر اہمیت دی وہ ہمارے سامنے ہے۔ اگلے اڑھائی سال وزارت اعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری کا حق ہے اور بہرحال انہیں ملنا چاہیے۔ ان کا حق غصب کرنے کے لیے خواہ کوئی بھی جواز گھڑا جائے غلط ہے۔
٭٭٭٭٭

About Admin

Google Analytics Alternative